جھوٹ کے پاؤں از مولانا سید عدنان کاکاخیل

اس بات میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ پاکستانی میڈیا نے ترکی کی ناکام بغاوت، اس کے پس پردہ عوامل اور پھر اس سے نمٹنے کے لیے طیب اردوغان کی حکمت عملی کے حوالے سے انتہائی جانبدارانہ، غیرمنصفانہ اور خلاف واقعہ رپورٹنگ اور تبصرہ بازی کی۔ پاکستان کے بڑے بڑے میڈیا ہائوسز کا اس بات پر ایک عجیب و غریب ’’پراسرار اجماع‘‘ دیکھنے میں آرہا تھا کہ جو بات ایک چینل بغیر کسی حوالے اور سند کے بطور پروپیگنڈا نشر کررہا ہے وہی بات دوسرے معرف میڈیا گروپ کا کالم نگار لکھ رہا ہے۔ صاف معلوم ہورہا تھا کہ سب کی ڈوریں کہیں اور سے ہلائی جارہی ہیں اور واضح طور پر یہ ایجنڈا دیا گیا تھا کہ طیب اردوغان کی مبینہ کرپشن، شاہانہ طرز زندگی، اقربا پروری اور انتقامی سیاست کی جھوٹی کہانیاں گھڑ گھڑ کر قوم کو سنائیں جائیں اور پاکستان میں اس کی غیرمعمولی مقبولیت محبوبیت کو جہاں تک ممکن ہوسکے نیچے لایا جائے۔

اس مہم کے پیچھے ان مالیاتی اداروں کے کارپردازوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جو میڈیا گروپس کو بڑی بڑی رقومات بطور ڈونیشن دیتے ہیں۔ امریکا نے ایک ایسی NGO کا باقاعدہ اعتراف کیا ہے جس کا مقصد ہی میڈیا ہائوسز جیسے ’’غریب‘‘ اور ’’نادار‘‘ اداروں کی ’’مالی مدد‘‘ کرنا ہے۔ پاکستانی میڈیا پر بھی اس حوالے سے خاصی زوردار فنڈنگ کی تفصیلات خبروں کی زینت بن چکی ہیں۔

طیب اردوغان اور اس کی حکومت کے خلاف جھوٹ اور دروغ گوئی کی ان مہموں میں دو طرح کے لوگ شریک تھے۔ ایک تو وہ لوگ جو کسی بین الاقوامی ایجنڈے کا حصہ تھے اور ترکی حکومت کے خلاف ہونے والی عالمی سازش کے اصل کرداروں کے پے رول پر تھے۔ ان کو ناکام بغاوت اور اس پر کامیاب عوامی ردّعمل کے اس پورے منظرنامے کو بگاڑنے کی ڈیوٹی سونپی گئی جو انہوں نے نمک حلالی کے بھرپور جذبے کے ساتھ نبھائی۔ دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جو کسی زمانے میں فتح اللہ گولن کے کام سے واقف ہوئے تھے اور اس کے صوفیانہ رُخ اور مزاج سے گہرا تاثر لیا۔ ان کے لیے اب تک یہ یقین کرنا مشکل ہورہا ہے کہ اتنی صوفی مزاج تحریک بھی کسی بین الاقوامی سازش کا شکار ہوسکتی ہے یا عالمی کھلاڑیوں کے ہاتھوں ہائی جیک ہوسکتی ہے۔ چنانچہ وہ ابھی تک اپنے اس غم سے باہر نہیں آئے کہ ترکی میں جاری تنازعہ سیکولر اور اسلام پسندوں کا نہیں، بلکہ درحقیقت دو اسلام پسند جماعتوں کے درمیان چپقلش جاری ہے۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ گولن موومنٹ عرصہ ہوا اصل اسلام سے اپنا ربط توڑ کر ایک نئے دین کے تازہ ایڈیشن کی تیاری میں مصروف ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام کا یہ نیا ورژن امریکا اور اس کے اتحادیوں کا منظورکردہ ہے۔

فتح اللہ گولن ایک بہت پراسرار کردار ہے جس کی حقیقت سمجھنا ضروری ہے۔ محمد دین جوہر لاہور سے سہ ماہی جریدہ ’’جی‘‘ کے نام سے نکالتے ہیں۔ ذرا سنیے! ان کا تبصرہ کیا ہے۔

’’ہمیں اس سے انکار نہیں کہ وہ ( گولن) تہجد گزار، راسخ العقیدہ دیندار اور پکا صوفی ہے۔ اس کی تحریک نے سماجی خدمت کے بڑے بڑے اور حیرت انگیز کام سرانجام دیے ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ اس وقت ایک ارب پتی آدمی ہے اور نہایت ’’سادگی‘‘ کی زندگی گزارتا ہے، لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ 2013ء میں ارودغان کے ساتھ اس کے سیاسی اختلاف کی بنیادی وجوہات دو تھیں: ایک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی۔ اور دوسرے شامی مہاجرین کو ترکی آنے کی اجازت۔

وہ اسرائیل سے ہر شرط پر تعلقات کو باقی رکھنا چاہتا تھا، اور شامی مہاجرین کی ترکی آمد کے سخت خلاف تھا، کیونکہ یہ مہاجرین یورپ اور امریکا کے لیے مسائل کا باعث بن رہے تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ مغربی سیکولرزم کا زبردست حامی ہے اور اس کی تعلیمی تحریک سی آئی اے کے لیے دنیا بھر میں ایک آڑ کے طور استعمال ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردگان کے اقتدار میں آنے سے پہلے سے دنیا کے کئی ملکوں میں اس پر پابندی ہے یا اس کے خلاف تحقیقات کی گئی ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک ڈچ قانونی فرم نے اس کی تحریک کے بارے میں سی این این امریکہ پر جو معلومات جاری کی ہیں، وہ نہایت چشم کشا ہیں۔ اور جب ہالینڈ میں اس پر پابندی لگائی گئی تو وہاں کی خفیہ ایجنسی کے محض ایما پر یہ پابندی ختم کی گئی تھی۔ اگر ہمیں خوش فہمی ہے کہ تہجد گزار مسلمان ’’بدترین غدار‘‘ نہیں ہو سکتا تو ہمیں اپنی انسانی بصیرت کو ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

یہ ایک طویل مضمون کا اقتباس ہے۔ فتح اللہ گولن کی حقیقت سمجھنے کے لیے کافی شافی ہے اور اس میں شک نہیں کہ گولن تحریک کے صوفیانہ مکر کا پردہ چاک ہونے سے جو اصل صورت سامنے آئی ہے وہ بہت بھیانک اور حد درجہ مکروہ ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں