انٹرنیٹ کا مثبت اور منفی استعمال

دورِ جدید میں انٹرنیٹ نے روابط کو اتنا آسان بنا دیا ہے کہ پوری دنیا سمٹ کر ایک گاؤں یعنی گلوبل ویلج (Global village) کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ ہر شخص ایک ہی جگہ بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر کی معلومات حاصل کر کے اپنے علم میں اضافہ کر سکتا ہے۔ انٹرنیٹ نظام ایک گلوبل نظام ہے جس میں سیکڑوں ملین کمپیوٹر آپس میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ اس وقت پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں، جن میں طالب علموں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
پاکستان کے ایک ہزار آٹھ سو بارہ شہر اب تک انٹرنیٹ سے منسلک ہو چکے ہیں اور ان میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پنجاب کے 1091، سندھ کے 202، صوبہ خیبر پختونخواہ کے 404 اور بلوچستان کے 110 شہر اور قصبے انٹرنیٹ سے منسلک ہو چکے ہیں۔ اب انٹرنیٹ اتنا عام ہو چکا ہے کہ اب کمپیوٹر کی مجبوری سے نکل کر لیپ ٹاپ اور موبائلز میں بھی انٹرنیٹ بہت ہی کم ریٹس اور ہر جگہ بآسانی میسر ہو سکتا ہے۔

لیکن اس بڑھتی ہوئی صورتِ حال میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا انٹرنیٹ ہماری نوجوان نسل کے لیے تسکین کا باعث ہے یا ایک ایسا مرض ہے جو ہمارے معاشرے میں فحاشی، عریانی اور بے حیائی کو فروغ دینے میں بہت بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ انٹرنیٹ نے ہماری زندگی میں ایک انقلاب برپا کیا ہے۔ نایاب کتب کا بآسانی میسر آنا، ہزاروں میل دور بیٹھے اپنے اعزا و اقارب سے اسکائپ پر بات چیت کرنا اور دنیا کے کسی بھی خطے میں رونما ہونے والے واقعے کی خبر آناً فاناً دنیا بھر میں پھیل جانا وغیرہ اس کے بنیادی فوائد ہیں، اس کے علاوہ آج کی کاروبای دنیا میں بھی انٹرنیٹ کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن یہ حقیقت بھی ناقابلِ انکار ہے کہ انٹرنیٹ ایسا تباہ کن سوفٹ وئیر ہے جس کے نقصانات سیکڑوں میں نہیں، ہزاروں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ انسانی تہذیب و تمدن کو تباہی و بربادی کے آخری دہانے تک پہنچانے والا یہی انٹرنیٹ ہے۔ ذیل میں اس کے چند ایسے نقصانات ذکر کیے جاتے ہیں، جن سے شاید ہی کوئی یوزر (استعمال کرنے والا) محفوظ ہو:

1 تحقیق کا ذوق ختم
انٹرنیٹ کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبا انٹرنیٹ سے اپنے مقالے سے متعلق مواد تلاش کر کے ایک ضخیم مقالہ تیار کر لیتے ہیں۔ جس سے تحقیق و تدقیق کا ذوق فنا ہو کر رہ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل ہمارے معاشرے میں تحقیق کا اس قدر فقدان ہے کہ ہر سال پی ایچ ڈی کے بیسیوں اسٹوڈنٹس فارغ التحصیل ہوتے ہیں، جبکہ شاید ہی کوئی مقالہ ایسا جامع اور تحقیق پر مشتمل ہو جس کو صحیح طور پر تحقیق کی اصطلاحی تعریف پر پرکھا جا سکتا ہو۔

2 معاشی دھاندلیاں اور ناجائز کاروبار
مال وزر کی محبت کے نشے میں معاشی دھاندلیاں، جلد دولت مند بننے کے چکر میں فریب اور دھوکہ دہی کے نئے نئے طریقے بھی اسی انٹرنیٹ کی پیداوار ہیں۔ اس کے علاوہ نِت نئے خلافِ شرع کاروبار، جیسے: کموڈیٹی ایکسچینج (Commodity Exchange) اور فاریکس ٹریڈنگ (Forex Trading) وغیرہ انٹرنیٹ پر بکثرت ہو رہے ہیں اور لوگ پیسہ کمانے کی دھن میں ان میں خوب مصروف ہیں، اس کی کسی کو پروا نہیں کہ آیا یہ کمائی حلال بھی ہے یا ہم حرام مال سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھر رہے ہیں۔

3 بے حیائی کا عام ہونا
انٹرنیٹ کی خاص برائیوں میں فحش گانے، بلو فلمیں، بے حیائی کے مناظر، اشتہارات کے نام پر بے پردگی اور عریانیت وغیرہ بھی شامل ہیں اور انہی مفاسد کی بدولت آج کی نوجوان نسل میں بے حیائی کا ایسا بازار گرم ہے کہ اس کا تصور کرتے ہوئے بھی آدمی کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس فحاشی اور عریانی کے نتیجے میں معاشرے میں جو مفاسد جنم لے رہے ہیں اس کا بھی ہر شخص کو مشاہدہ ہے جس کے بیان کی ضرورت نہیں۔

4 وقت کا ضیاع
عُقلا کا کہنا ہے کہ وقت برف کی مانند ہے جو انسان کو احساس دلائے بغیر خاموشی سے گزرتا رہتا ہے، انسان غفلت کی چادر اوڑھ کر زندگی کی منازل طے کر رہا ہوتا ہے، اس کو اسی وقت پتا چلتا ہے جب اس کی زندگی کی شام ہو چکی ہوتی ہے اور فرشتہ پیغامِ اجل سنانے کے لیے دروازے پر دستک دینے لگتا ہے۔ جبکہ وقت انسانی زندگی کی سب سے قیمتی متاع ہے جو ایک دفعہ گزر جانے کے بعد قیامت کی صبح تک دوبارہ واپس نہیں لوٹتا۔ افسوس! آج اس کا سب سے زیادہ ضیاع بھی انٹرنیٹ پر ہی ہو رہا ہے۔ جو لوگ انٹرنیٹ استعمال کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ وہ بلاوجہ روزانہ کی بنیاد پر گھنٹوں اس میں ضائع کرتے رہتے ہیں، خصوصاً آج کل ہماری نوجوان نسل کو فیس بک کا ایسا نشہ لگ چکاہے کہ جب تک دن میں کم از کم ایک مرتبہ فیس بک نہ دیکھ لیں سکون نہیں آتا۔

اس کے علاوہ بھی ہزار ہا نقصانات انٹرنیٹ کی بدولت رونما ہو رہے ہیں، لہذا آج جبکہ انٹرنیٹ ایک اہم اور کاروباری ضرورت بن چکا ہے اور دوسری طرف یہود و نصاری نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے اسلامی تہذیب و اقدار کو تباہی کے دھانے تک پہنچانے کا عزم کر رکھا ہے تو ایسی صورتِ حال میں بحیثیت مسلمان ہر شخص کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی بساط کی حد تک انٹرنیٹ کے استعمال کا صحیح رخ متعین کرے، بلا ضرورت اس کے استعمال سے اپنا وقت ہرگز ضائع نہ کرے، خاص طور اپنی اولاد کو حتی الامکان اس سے دور رکھے۔

بشکریہ: دارالافتاء برائے مالیاتی و تجارتی امور

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں