سپریم کورٹ کے فیصلے کا اردو ترجمہ از انعام رانا

چونکہ سپریم کورٹ فیصلہ کے انگریزی میں ہونے اور سنی سنائی پر تبصروں کی وجہ سے کنفیوژن پیدا ہو رہی ہے۔ اس لئیے فیصلے کے اہم حصوں کا اردو ترجمہ و تلخیص پیش کر رہا ہوں۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ پچیس صفحات پر ہے۔ جس میں سے پہلے اٹھارہ صفحات ان تین ججوں کا فیصلہ ہے جو عمل درآمد بنچ کا حصہ تھے۔ فیصلہ کو جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریر کیا۔
فیصلہ کے شروع میں بیان کیا گیا کہ یہ فیصلہ ہمارے پچھلے فیصلہ مورخہ بیس اپریل کے تسلسل میں ہے جہاں جے آئی ٹی کے قیام اور مختلف امور کی تفتیش کا حکم دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس سے درخواست کے نتیجے میں ایک بنچ بنا جس نے جے آئی ٹی تفتیش کی نگرانی کی اور پیش کردہ رپورٹ کا جائزہ لیا۔
پیرا چار میں کہا گیا کہ ڈیفینڈنٹ نمبر ایک، نواز شریف، کے وکیل خواجہ حارث نے جے آئی ٹی کے اپنے اختیارات سے تجاوز اور اپنے قریبی کی لا فرم استعمال کر کے ثبوت اکٹھے کرنے پر اعتراض اٹھایا ہے۔
پیرا نمبر نو میں کہا گیا پیش کردہ ثبوتوں کی روشنی میں ڈیفینڈنٹس ۱،6،7،8 کے خلاف نیب آرڈینینس کے سیکشن ۹،۱۰ اور ۱۵ کے تحت کیس بنتا ہے۔
پیرا بارہ میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی نے اختیار سے تجاوز نہیں کیا۔ الا یہ کہ کوئی اپیل آئے اور یہ عدالت مختلف موقف اختیار کرے۔
پیرا تیرہ میں نواز شریف کے ایک کمپنی کے ڈائریکٹر ہونے اور انکی تنخواہ کو ڈسکس کیا گیا۔ کہا گیا ہے کہ چونکہ روپا ایکٹ ۱۹76 کوئی واضح تعریف نہیں کرتا اس لئیے ہم بلیک لا ڈکشنری کی تعریف استعمال کرتے ہوے یہ طے کرتے ہیں کہ ایسی تنخواہ جو مل سکتی ہو، گو لی نا جائے، وہ اثاثہ ہی تصور ہو گی۔ چونکہ نواز شریف اس تنخواہ کو الیکشن نامینیشن پیپرز میں بیان نا کر سکے، اس لئیے وہ روپا ایکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوے۔ چنانچہ نواز شریف روپا ایکٹ اور آرٹیکل باسٹھ کی تعریف پر ایک دیانتدار انسان نہیں ہیں۔
پیرا چودہ میں نیب کو ریفرنسز فائیر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پیرا پندرہ میں فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ پیرہ تیرہ کے مطابق نواز شریف ایماندار نہیں اور آرٹیکل باسٹھ (ا) (ف) پر پورا نہیں اترتے اسلیے وہ نااہل قرار پاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن فورا نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔ صدر پاکستان سے مطلوب ہے کہ وہ جمہوری عمل کے تسلسل کیلیے فوری اقدامات اٹھائیں۔
پیرا سولہ میں محترم جناب چیف جسٹس پاکستان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایک جج مقرر کریں جو اس فیصلہ پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کی نگرانی کرے۔
پیرا سترہ میں طے کیا گیا ہے کہ جے آئی ٹی ممبران کے خلاف کسی قسم کا کوئی بھی ایکشن پیرا سولہ کے تحت متعین جج کی اجازت کے بغیر نا لیا جائے۔
(اس فیصلے پر تین ججوں نے اٹھائیس جولائی یعنی آج دستخط کیے۔ )
اسکے بعد صفحہ انیس سے پچیس تک یہی فیسلہ دوبارہ دیا گیا ہے۔ جسکی تاریخ سماعت بھی سترہ سے اکیس جولائی لکھی گئی ہے۔ اور اس پر پانچوں جج صاحبان جو پچھلے فیصلے میں شریک تھے، نے دستخط کیے ہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں