یومِ آزادی… اس پرچم کے سائے تلے…

ہمارا یومِ آزادی قریب ہے۔ کیا ہم اس سے قبل کے گنے چنے دنوں کوایک بہترین اور انتہائی ضروری مہم کے لیے کارآمد بنا سکتے ہیں؟ یہ مہم ہے اپنے ملک سے اپنے جذبۂ محبت سے اظہار کی، اس ملک سے دلی وابستگی کے مظاہرے کی، وطن کی جغرافیائی اورنظریاتی سرحدوں کومحفوظ رکھنے کے عزائم کوبیدارکرنے کی۔ ملک کی سلامتی اوربقا کے لیے سربکف ہونے کی، اس کے دشمنوں کوکیفرِکردار تک پہنچانے کے لیے کمرباندھنے کی۔ مایوسی اورگھٹن کی فضاؤں سے نکل کر امیدوں سے سجی کھلی شاہراہِ عمل پرآنے کی۔

ہر سال 14؍ اَگست آتا ہے اورہمیں ایک موقع دے کرجاتا ہے، مگر معدودے کچھ لوگوں کے سوا، ہم اجتماعی حیثیت سے ا س موقعے کوضایع کردیتے ہیں۔ ایک بہت بڑاطبقہ وہ ہے جو 14؍ اگست کا مقصد سرے سے جانتاہی نہیں۔ اسے پاکستان کے بارے میں اتنا معلوم ہے کہ یہ ہمارا ملک ہے۔ جس طرح ہر ملک کے لوگ اپنے ملک سے پیارکرتے ہیں اور اس کے بارے میں حساس ہوتے ہیں، یہ لوگ بھی اپنے ملک سے پیارکرتے ہیں، اس کے بارے میں حسا س ہیں۔ وہ اس کی شکست چاہے کھیل ہی کے میدان میں ہو، برداشت نہیں کرتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہماراملک اتنا ترقی یافتہ ہوکہ ہم دنیا کے سامنے فخر کرسکیں، مگر یہ لوگ پاکستان کی اس اساس سے ناواقف ہیں جس پریہ معرضِ وجود میں آیا۔

یہ اسلام کومذہب تومانتے ہیں، مگر دیگرمذاہب کی طرح ہی ایک عام مذہب سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے۔ یہ لوگ جہالت، سادگی اورنادانی کے باعث 14؍ اگست کواپنی خوشی کااظہار ناچنے گانے کی مخلوط محفلوں ہلڑ بازی، چراغاں اورآتش بازی کے ذریعے کرتے ہیں۔

دوسری طرف کچھ لوگ وہ ہیں جو اسلام کوایک عالمگیر سچائی اوردنیا کی نجات کاواحد ذریعہ مانتے ہیں، وہ اسلام کے لیے جینا اور مرنا چاہتے ہیں، مگر پاکستان میں اسلام کے ساتھ ہونے والے سلوک سے وہ اس قدر نالاں اور دل برداشتہ ہیں کہ 14؍ اگست کو انہیں قطعاً کوئی خوشی محسوس نہیں ہوتی۔ اس دن انہیں ان رہنماؤں کی باتیں یاد آتی ہیں جو قیام پاکستان سے قبل یہ پیش گوئیاں کررہے تھے کہ پاکستان اسلام کے خلاف انگریز کی سازش ہے، اس کے بانی استعمار کے ایجنٹ ہیں، پاکستان میںا سلام کی مٹی پلید ہوگی، بھائی بھائی کادشمن ہوگا، سرمایہ داروں کی حکومت ہوگی، ملک جلد دوٹکڑے ہوجائے گا۔ اس سوچ کے ساتھ انہیں پاکستان نہ تو ایک آزاد اور خودمختار ملک دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی یہاں رہنے بسنے میں انہیں تشکر کاکوئی پہلو محسوس ہوتاہے۔ ان کے ذہن میں کسی طرح یہ بات نہیں آتی کہ پاکستان اللہ کی ایک نعمت ہے۔ پاکستان کے مقتدرطبقوں سے لے کرعام لوگوں تک میں انہیں برائیاں ہی برائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ طبقہ کم نہیں بہت زیادہ ہے۔ ظاہر ہے خود کوایک قیدخانے میں محسوس کرنے کے بعد بھلا چودہ اگست کووہ کس طرح یومِ آزادی کی خوشیوں میں شریک ہوسکتے ہیں۔

اس کے بالکل برعکس ایک تیسراطبقہ ہے جو 14؍ اگست کواس لیے رنجیدہ ہوتا ہے کہ اس دن برصغیر میں مسلم اورغیرمسلم کی تقسیم کی بنیاد پر ایک ملک وجود میں آیاتھا جوایک غلط بنیاد تھی۔ یہ ایسا بدبنیاد ملک ہے جہاں سربراہِ مملکت کامسلمان ہوناضروری ہے، جہاں آئین کو سیکولر نہیں رکھا گیا، بلکہ اس کے دیباچے اوراس میں شامل متعد د دفعات اسے اسلامی آئین بنادیتی ہیں جواس طبقے کے نزدیک شرم کی بات ہے۔

اس طبقے کواس بات پر بھی افسوس ہے کہ یہاں مذہبی امتیاز ہے اور قادیانیوں کو قانوناً غیرمسلم قرار دیا گیا ہے۔ اس طبقے کویہ بھی افسوس ہے کہ یہاں اظہارِ رائے کی آزادی نہیں اور توہینِ رسالت کے مسئلے پر قانون حرکت میں آکر جذباتی مسلمانوں کا ساتھ دیتاہے۔ ان لوگوں کے نزدیک قائدِ اعظم کو ایسا پاکستان نہیں، بلکہ سیکولرملک چاہیے تھا۔ ان کے نزدیک سیکولر ازم ہی اصل سچائی اور ماڈرن ازم اصل ترقی ہے اور پاکستان کی بقابھی انہی ازموں میں ہے، مگرپاکستان سے بددل ہونے کے باوجود یہ لوگ 14؍ اگست بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں اور اس میں مغربی تہذیب کی ہر بُرائی کواپنا کرایک نیا پاکستان بنانے کاخواب دیکھتے ہیں۔ ملک سے اپنی محبت جتانے کایہ مستقل فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کے نظریے کے مخالف ہونے کے باوجود وہ حکام، عوام، میڈیا اور ایجنسیوں کی نگاہ میں محب وطن ہی سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں ہر طرف سے تحفظ ملتا ہے۔ ان کے کاموں میں غیرملکی ایجنسیاں، این جی اوز اورملکی ادارے سبھی معاون بن جاتے ہیں۔

اب آتے ہیں ہم چوتھے طبقے کی طرف۔ جس کی اکثریت مدارس اور دینی مراکزسے تعلق رکھنے والوں پرمشتمل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دین کواپنی متاعِ عزیز اور پاکستان کواپنے اکابر کی نشانی سمجھتے ہیں۔ اس ملک کو اللہ کی نعمت تصور کرتے ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ اور سید احمدشہیدؒسے لے کر حضرت شیخ الہندؒ اور حضرت مولانا شبیراحمد عثمانیؒ تک ہندوؤں اور انگریزوں سے آزادی کی جہدوجہد، ان کے سامنے ہے، مگر اس کے باوجود انہیں 14؍ اَگست منانے میں تحفظات ہیں۔ کسی کو یہ خیال آتا ہے کہ 14؍ اگست تو فارغ لوگ مناتے ہیں، ہم صالحین ان خرافات میں کیوں پڑیں؟ کچھ یہ خیال کرتے ہیں کہ ملک جس مقصد کے لیے بنایا گیا، ہم تو دن رات، مدارس، مساجد، تبلیغ اور خانقاہوں کے ذریعے اسے انجام دے رہے ہیں، ہمیں نمائشی اظہارِمحبت کی کیا ضرورت! کچھ لوگوں کو یہ اندیشہ ہے کہ کسی دن کو خوشی کے لیے مخصوص کرلینا کہیں بدعت شمار نہ ہو، مگر دنیا ان تحفظات سے واقف نہیں، اسے توبس یہ دکھائی دیتاہے کہ مدارس اوردینی مراکز والے عمومی طورپرچودہ اگست کو عام دنوں کی طرح گزاردیتے ہیں۔ ان کے ہاں اس دن چھٹی کابھی معمول نہیں، لگتا ہے انہیں وطن سے کوئی وابستگی ہی نہیں۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاکر کچھ میڈیائی بازی گر تقسیمِ ہند سے قبل کے ان بیاناتِ علماء کو سامنے لے آتے ہیں جن میں تقسیمِ ہند کی مخالفت کی گئی تھی۔ اس طرح وہ کسی استثناء کے بغیر علماء پر پاکستان کی مخالفت اور ہندوؤں کی ذہنی غلامی کی الزام تراشی کرتے ہیں۔ عام لوگ جب ان الزامات کاموازنہ اس صورتحال سے کرتے ہیں کہ 14؍ اگست کے دن مدارس میں وہی معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں توانہیں لگتاہے کہ واقعی یہ الزامات بلااستثناء درست ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اوران کی ایجنسیوں کو بھی یقینا ایساہی لگتا ہوگا۔ عالمی سازشوں کاسب سے بڑاہدف بنے ہوئے دینی مراکز کے لیے یہ کتنی خطرناک صورتحال ہے، اس کا اندازہ کیاجاسکتاہے!

اس خطرے کا ازالہ اس وقت تک نہیں ہوسکتاجب تک وفاق المدارس العربیہ اور دیگر مدارس کے وفاق، مدارس میں قومی ایام خصوصی طورپر منانا لازم قرارنہیں دیتے۔ میرے نزدیک 14؍ اگست (اسی طرح 23؍ مارچ) لازمی طورپر منانے کا فیصلہ جلداز جلد ہونا چاہیے۔ اگر وفاق کی سطح پر یہ فیصلہ جلد نہیںہوتا، تو بھی ہر وہ مدرسہ جس کی منتظمہ مذکورہ بالامعروضات سے متفق ہے، 14؍ اگست کو بھرپور طور پر منانے کا بیڑا ضرور اٹھائے۔ ہمیں فساق وفجار کی نقالی کی قطعاً ضرورت نہیں۔ ہم حمدوں، نعتوں، بغیر میوزک کے قومی ترانے، بغیر میوزک کے ملی نغموں، طلبہ کے تقریری مقابلوں، علماء کے خصوصی بیانات اور مشائخ کی دعاؤں کے ذریعے ’’یو م آزادی‘‘ کی حقیقی روح والی محفلیں منعقد کرسکتے ہیں۔ ان محافل میں علاقے کے عوام کودعوتِ عام دی جائے، نیزممبرانِ اسمبلی اورسرکاری افسران کو خصوصی مہمانوں کے طورپر بلایاجائے۔ پاکستانی پرچم کو اپنے اداروں کی چھتوں پر لہرایا جائے۔ جب ہم اس طرح اپنے سچے جذبات کو مناسب زبان دیں گے اور کسی شش و پنج کا شکار ہوئے بغیرملک سے اظہارِ محبت کریں گے توان شاء اللہ بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوجائے گا۔ مایوسیوں اور گھٹن کی فضا ختم ہوگی، ہمارے طلبہ ایک عزم نو سے آشنا ہوں گے اور نئے پاکستان کے حقیقی معمار تیار ہوں گے۔ تو دیکھنا یہ ہے کہ کون کون ہمت کرتا ہے اس کارِعزیمت کوانجام دینے کے لیے!

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں