دریافت والا ححج از مفتی ابو لبابہ شاہ منصور

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جن روحانی نوازشات اور دنیوی انعامات سے نوازا ہے، ان میں سے ایک ’’حج‘‘ کا اجتماع بھی ہے۔ اپنی نوازشات کی تکمیل اور دنیوی انعامات کی تتمیم کا بہت خوبصورت منظر بھی ہے اور شان و شوکت اور رعب و دبدبے سے بھرپور مظاہرہ بھی۔ دنیا کے بالکل وسط میں، تین براعظموں کے سنگم پر تین بڑے مقدس مقامات (حرم مکی، حرم نبوی، حرم قدسی) ایک سیدھ میں اللہ تعالیٰ نے صرف اور صرف مسلمانوں کو عطا کیے ہیں۔ یہاں دنیا کے مقدس ترین اور قدیم و نایاب ترین مذہبی آثارِ قدیمہ (حجراسود، مقامِ ابراہیم، صخرئہ مقدسہ) ایسے ہیں جن کی کوئی نظیر اقوام عالم میں، آسمانی مذاہبی کے ماننے والوں میں یا مادہ پرست ملحدین میں کہیں نہیں، کہیں بھی نہیں۔

مسلمانوں کا یہ عظیم روحانی و مذہبی اجتماع جس سرزمین میں ہوتا ہے ایک لاکھ پچیس ہزار کے لگ بھگ انبیائے کرام میں سے 25 کے قریب جلیل القدر اور اولوالعزم انبیاء اسی سرزمین عرب میں آئے۔ چاروں آسمانی کتابیں اور 100 میں سے بیشتر مقدس صحیفے یہیں نازل ہوئے۔ اللہ کا پہلا اور آخری گھر، اس کے مقدس انبیاء میں بہت سوں کا مسکن و مرقد یہیں ہے۔ یہیں پہلے نبی آسمان سے صفا پہاڑی پر اترے۔ آدم ثانی حضرت نوح علیہ السلام بھی اس کے قرب و جوار میں ہزار سال کے لگ بھگ تبلیغ کرتے رہے۔ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے یہیں نمرود کی جھوٹی خدائی کا مقابلہ کیا۔ یہیں انہوں نے بیت اللہ کی تعمیرنو کی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات کی تختیاں یہیں کی ایک پہاڑی پر دی گئیں۔ شرف ہم کلامی عطا ہوا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہیں سے آسمانوں پر اٹھائے گئے اور یہیں دوبارہ نازل ہوں گے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام یہیں پیدا ہوئے۔ یہیں سے معراج پر تشریف لے گئے، یہیں آرام فرما ہیں۔ اپنے دو پیارے ساتھیوں کے ساتھ یہیں سے اٹھیں گے اور تمام مخلوق کی شفاعت فرمائیں گے۔

ہم مسلمانوں پر فرض ہے کہ حج کے اجتماع کو ایسے خلوص و آداب اور ایسے نظم و ضبط کے ساتھ منعقد کریں کہ اس میں تمام دنیا کے لیے ایک پیغام ہو، ایک دردبھری نصیحت ہو اور ہدایت سے بھرپور پیغام ہو۔ ہم میں سے جسے حاضری نصیب ہو اسے سفر حج کے دوران اور جسے فی الحال یہ سعادت نہ ملے اسے ایامِ حج کے دوران یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اسلام کی خوبصورت ترجمانی کرے، اپنے آپ کو اسلام کا بہترین نمایندہ بنائے اور خود کو ایک اچھی برادری کا اچھا سفیر ثابت کرے۔ حج کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتیں برستی ہیں۔ ان کو اپنے دل میں، اپنے وجود میں جذب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دل کے کشکول کو غیراللہ سے خالی کرکے اس کا رخ آسمان رحمت کی طرف کریں۔ پھر اس رحمت سے دنیا بھر کو حصہ پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ اپنا ظاہر و باطن شریعت و سنت کے مطابق بنائیں۔ تبھی وہ ذمہ داری پوری ہوسکتی ہے جو خیرامت ہونے کے ناطے ہم پر ڈالی گئی ہے اور جس کے متعلق ہم سے بہرحال بازپرس ہوگی۔

حج کے سفر کو حج مبرور کی سعادت کا ذریعہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان چالیس یا پچیس دنوں کو ریاضت والے چلّے کی طرح گزار جائے۔ یعنی سب سے پہلے تو رزق حلال کا اہتمام کیا جائے۔ پھر مسائل و آداب حج کا اہتمام کیا جائے۔ علماء کی صحبت میں رہ کر حج کیا جائے۔ ان سے مسائل پوچھ پوچھ کر احتیاط سے عمل کیا جائے۔ شرعی نزاکتوں کے ساتھ اخلاقی اصولوں کا لحاظ رکھا جائے۔ زبان اور خیال پر پہرہ بٹھایا جائے۔ سچ یہ ہے کہ جس طرح حج مبرور سے انسان کی زندگی بدل جاتی ہے۔ اسی طرح حج کے اجتماع کو پورے عالم کے لیے نمونہ بناکر پیش کرنے سے پوری دنیا کی فضا بدل سکتی ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں