مقبول قربانی

تحریر: مولانا محمد اسماعیل ریحان
عیدالاضحی مسلمانانِ عالم کے لیے خوشیوں کے پیغامات لاتی ہے۔ اس دن سنتِ ابراہیمی کو زندہ کیا جاتا ہے۔ اللہ کے نام پرجانورذبح کیے جاتے ہیں۔ مسلمان اللہ کی دی ہوئی ضیافت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ قربانی ہرمسلمان صاحبِ نصاب پرواجب ہے، مگر افسوس کہ بہت سے لوگ استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے بھی دیکھاگیاہے کہ ہمیں اڑوس پڑوس اوراعزہ واقارب سے اتنا گوشت مل جاتاہے توخود قربانی کی کیاضرورت۔ گویا قربانی کا مقصد فقط گوشت کھاناہے۔ اللہ کے حکم کی کوئی حیثیت ہی نہیں (نعوذباللہ)

بعض جدت پسندحضرات ان ایام میں بزعمِ خودا سلام کی اصلاح کابیڑااُٹھا کریہ بھی فرمانے لگتے ہیں کہ قربانی محض مال کاضیاع ہے(العیاذباللہ)، اتنی رقم سے تو سینکڑوں اسکول، ہسپتال اوریتیم خانے بنائے جاسکتے تھے۔

کاش! انہیں معلوم ہوتاکہ دنیا میںتمام اسلامی تعلیمی اوررفاہی اداروں کو سب سے زیادہ امداد اسی شرعی عمل کے طفیل نصیب ہوتی ہے۔ اسکول، ہسپتال اوریتیم خانے تو ویسے بھی ہرسال جابجا قائم ہوتے رہتے ہیں جوغریب پروری کی چادراوڑھ کراندرون وبیرون ملک سے چندہ بھی خوب وصول کررہے ہوتے ہیں، مگرا ن میں سے کتنے ہیں جہاں واقعی ـغریب کوکچھ ریلیف ملتا ہے اورکتنے ہیں جو منتظمین کے لیے کمائی کی فیکٹریوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ ادارے بنا نے کامقصد فقط یہ ہوتاہے کہ چاروں انگلیاں گھی میں ہوںاور سر کڑاہی میں۔ ایک سروے کے مطابق اس وقت بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی اکثر این جی اوز کے فنڈز میں سے فقط 30 فیصد حصہ اصل مستحقین تک پہنچتاہے اور 70 فیصد فنڈز عملے کی سہولیات پر خرچ کیے جاتے ہیں۔

دوسری طرف آپ قربانی دیکھیے۔ یہ ایک ایساعمل ہے جس میں عملے پر کچھ بھی خرچ نہیں ہوتا اور اربوں روپے کی مالیت کی امدادغریبوں تک براہِ راست پہنچ جاتی ہے۔ کیادنیا کی کوئی بڑی سے بڑی اورصاف وشفاف ترین حساب رکھنے کادعویٰ کرنے والی رفاہی انجمن ایسی کوئی مثال پیش کرسکتی ہے؟اگرنہیں توپھر یہ کونسی انسانیت ہے کہ ایسے صاف وشفاف پروسس کومال کاضیاع بتا کراس سے مستفید ہونے والے لاتعدادمسلمانوں کوبے یارومددگار چھوڑدیاجائے۔ ا صل میں یہ ساری پٹی اسلام دشمن مشنری اداروں اوران کے لیے کام کرنے والے مستشرقین کی ہے جوبظاہر مسلمانوں کے ہمدردوں کابہروپ بھر کرانہیں ’’اچھے اچھے مشورے‘‘دیتے ہیںاور ہمارے سیکولرازم زدہ افلاطون سوچے سمجھے بغیران کی ’’تعلیمات‘‘کی تبلیغ شروع کردیتے ہیں۔

مشنریوں کوقربانی کے عمل سے کیوں تکلیف ہے؟اس لیے کہ یہ عمل ان کی تبلیغ کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ کھڑی کردیتاہے۔ دینی مدرسے تمام کے تمام زکوٰۃ کے بعد چرمِ قربانی کے عطیے پر چلتے ہیں۔ جس آبادی میں کوئی دینی مدرسہ قائم ہو، وہاں آس پاس مشنریوں کی کوئی پیش نہیں جاتی۔ یہ مشنری برسوں کسی علاقے میں قحط پھیلنے یاسیلاب آنے کے منتظررہتے ہیں۔ پھرایسی آفات برپا ہوتے ہی وہاں بھوکے پیاسے لوگوں میں ارتدادکے بیج بوتے ہیں، طرح طرح کے جتن کرتے ہیں، بلکہ کھلم کھلا چند ڈبل روٹیاں دکھا کران کے ایمان کاسوداکرناچاہتے ہیں۔ ایسے میںاگر یکایک مخیر مسلمانوں کی طرف سے انہیں قربانی کے گوشت کے ہدیے ملناشروع ہوجائیں تومشنریوں کی ڈبل روٹیوں کی قیمت کچھ بھی نہیں رہتی۔ اس لیے طاغوتی طاقتیں اوران کے ایجنٹ پور ا زورلگاتے ہیں کہ کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں کواس عظیم عمل سے روک دیاجائے جس کی خیر بے حساب اوربے شمار طریقوں سے دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے۔

پس اسلام دشمن ایجنٹوں کی ان توقعات کوناکام بنانے کا بہترین طریقہ زیادہ سے زیادہ قربانی کرناہے۔ اورقربانی بھی ایسی جس میں غریبوں اورمستحقین کابھرپور حصہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی یادرکھیں کہ ہمارے ملک میں مشنری ادارے اورقادیانی، غریب اورپس ماندہ دیہاتوں میں عیدالاضحی کے موقع پرایک نئی چال چل رہے ہیں۔ وہ بھی اپنی طرف سے گوشت لے کر ایسے غریب دیہاتوں میں جاتے ہیں جہاں کوئی بھی قربانی نہیں کرتا۔ یہ لوگ انہیں گوشت دے کران پر اپنے ’’اعلیٰ اخلاق‘‘کی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اوریہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ قربانی کا گوشت توہم بھی دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ ان میں اپنی تبلیغ شروع کردیتے ہیں۔

اس مکروہ حربے کی روک تھام کاطریقہ یہی ہے کہ مشنریوں اورقادیانیوں کے پہنچنے سے قبل ہم ان غریبوں اوربے کسوں تک قربانی کاگوشت پہنچادیں۔ ہمارے ایک دوست نے گزشتہ سال ایسی ہی ایک آباد ی میں کئی بڑی قربانیوں کاگوشت تقسیم کیاتوایک بوڑھی عورت نے دعائیں دیتے ہوئے کہا:’’شکر ہے کہ آج مسلمانوں کے ہاتھ سے بھی گوشت نصیب ہوا، ورنہ یہاں توقادیانیوں کے سواکوئی آتاہی نہیں تھا۔ ‘‘

قارئینِ کرام !ان غریب گھرانوں میں جن کو سال بھر گوشت چکھنے کونہیں ملتا، جب لحمِ قربانی کا ہدیہ پہنچتاہے تو شکستہ حال مکینوں کے چہروں کی تمتماہٹ دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ جھولیں بھر بھر کراسی طرح دعائیں ملتی ہیں۔ آئیے ہم بھی ان دعاؤں کاہدیہ حاصل کرنے کے لیے قربانی کے گوشت کومستحقین تک پہنچانے کی حتی المقدرکوشش کرڈالیں۔ ان شاء اللہ ایسی قربانی اللہ کے ہاں سب سے زیادہ مقبول ہوگی۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں