روہنگیا مسلمان کون ہیں اور ان کا مسئلہ کیا ہے

میانمار 1937 تک برصغیر کا ہی حصہ سمجھا جاتا تھا۔ پھر برطانیہ نے 1937 میں اسے برصغیر سے الگ کرکے ایک علیحدہ کالونی کا درجہ دے دیا اور 1948 تک یہ علاقہ بھی برطانوی تسلط کے زیر اثر رہا۔ میانمار کی قریباً 5 کروڑ 60 لاکھ کی آبادی میں 89 فیصد بودھ، 4 فیصد مسلمان (تقریباً ساڑھے 22 لاکھ)، 4 فیصد عیسائی، 1 فیصد ہندو اور 2 فیصد دوسری قومیں آباد ہیں۔ یہاں پر اسلام کی آمد کے آثار 1050 سے بھی پہلے کے ملتے ہیں جب اسلام کے ابتدائی سالوں میں ہی عرب مسلمان تجارت کی غرض سے برما آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ سات صوبوں کے اس ملک میں مسلمانوں کی اکثریت راکھین (رخائن) میں آباد ہے اور یہاں تقریباً 6 سے 8 لاکھ کے قریب مسلمان بستے ہیں جنھیں ’’روہنگیا‘‘ کہا جاتا ہے۔ جبکہ میانمار سے ملحق بنگلہ دیش کے جنوبی حصے میں تقریباً 3 لاکھ روہنگیا باشندے رہتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ایسے ہیں، جو میانمار سے جان بچا کر وہاں پہنچے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کی زبان کلچر بنگلہ دیش کے چٹاگانگ کے لوگوں جیسا ہے۔ غالب امکان یہی ہے روہنگیا مسلمان اصل چٹاگانگ سے ہیں۔ روہنگیا مسلمان میانمار کے علاوہ 3 لاکھ بنگلہ دیش میں 2 لاکھ پاکستان میں ایک لاکھ تھائی لینڈ میں اور 25 ہزار ملائیشیا میں آباد ہیں۔

میانمار میں روہنگیا افراد کو ایک نسلی گروپ کے طور پر تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ برما کی فوجی حکومت نے 1982 کے سیٹزن شپ قانون کے تحت روہنگیا نسل کے مسلمان اور برما میں موجود دوسرے 10 لاکھ چینی و بنگالی مسلمانوں کو شہری ماننے سے انکار کر دیا اور ان مسلمانوں کو اپنے علاقوں سے باہر جانے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا۔ 1982 کے اس قانون کے تحت میانمار کی شہریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی نسلی گروپ کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ 1823 سے قبل بھی میانمار میں ہی تھا۔ میانمار کے روہنگیا مسلمانوں میں اکثریت برصغیر کی مشرقی ریاستوں اور بنگالیوں پر مشتمل ان مسلمانوں کی ہے جو جنگ آزادی 1857 کے بعد گرفتاریوں سے بچنے کے لیے میانمار چلے گئے تھے۔ بہت سے وہ ہیں جو بہادر شاہ ظفر کی جلاوطنی میں ساتھ تھے یا بعد میں بادشاہ کی محبت میں خود سے رنگون چلے گئے۔

اس کے بعد بہت سے 1918 میں پہلی آزاد ہند ریاست تحریک کی ناکامی پر ہجرت کرنے والے بھی ہیں۔ پھر کچھ تعداد ان فوجیوں کی اولاد ہے جو 1945 میں سبھاش چندربوس کی آزاد ہند فوج کے تحت جاپان کی مدد سے میانمار میں برطانیہ کے خلاف لڑرہے تھے۔ جاپان کے ہتھیار ڈالنے اور سبھاش کے طیارہ حادثہ کے بعد یہ جنگ بند ہوئی۔ کچھ فوجی ہتھیار ڈال کر واپس آئے تو کلکتہ اور چٹاگانگ میں گرفتار کرلیے گئےاور بہت سارے فوجی میانمار کے جنگلوں میں واپس چلے گئے۔ ان فوجیوں میں زیادہ تعدادبنگلہ دیش کے ان جوانوں کی تھی جو برطانیہ کی طرف سے فوج میں بھرتی ہوکر سنگاپور میانمار میں جاپان کے خلاف لڑتے ہوئے جنگی قیدی بن گئے تھے پھر سبھاش جو خود بھی بنگالی تھا نے جاپان سے یہ سب جنگی قیدی لےکر اپنی الگ فوج بنالی تھی۔

میانمار غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جو محض مذہبی عناد کی وجہ سے اپنے شہریوں کو شہری تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ برمی بودھوؤں کا خیال ہے کہ چونکہ مسلمان یہاں غیر قانونی طور پر ہجرت کرکے آئے اس وجہ سے انہیں خود کو ملک کا شہری کہنے کا کوئی حق حاصل نہیں، اس لیے بار بار مسلمانوں کے خلاف میدان سجایا جاتا ہے تا کہ مسلمان یہاں سے واپس ہجرت کرکے اپنے ملکوں میں چلے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد یہاں سے ہجرت کرکے بنگلا دیش کے ساحلی علاقوں میں پناہ لینے پر مجبورہوگئی ہے۔پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے ان لوگوں کو نہ صرف شہریت دی بلکہ انہیں اپنے یہاں آباد بھی کیا۔ بے شمار روہنگیا بنگلا دیش اور انڈیا کے راستے پاکستان میں آکر آباد ہوئے۔ اراکان تاریخی سوسائٹی کے اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ اس وقت بھی 2 لاکھ سے زائد برمی مسلمان کراچی میں آباد ہیں۔

میانمار میں بہت کم مسلمان ایسے ہیں جو اصل یا مقامی میانماری ہیں۔ اس کہانی کے ڈانڈے انیسویں صدی سے جا کے ملتے ہیں۔ 1826 کی اینگلو برما جنگ کے نتیجے میں برما مختصر وقت کے لیے برٹش انڈیا کا حصہ بن گیا اور اس کے بنگال سے لگنے والے صوبے اراکان کو عارضی طور پر برٹش انڈین ایمپائر کا حصہ بنا لیا گیا۔ انیسویں صدی کے وسط سے ہندوستانی مزدور کاشتکاری اور تعمیراتی ڈھانچے میں کھپانے کے لیے برطانوی سلطنت کے کونے کونے میں بھیجے جانے لگے۔اس پالیسی کے تحت برما کے صوبے اراکان میں بھی بنگالی کسان آباد ہوئے۔ 1859 مردم شماری کے مطابق صوبہ اراکان کی پانچ فیصد آبادی مسلمان تھی۔ان میں کچھ نسلی برمی بھی تھے جو پندرہویں صدی یا بعد میں مسلمان ہوئے اور باقی وہ تھے جن کے نسلی ڈانڈے چٹاگانک کے پہاڑی علاقے میں بولی جانے والی زبان سے جا ملتے ہیں۔

جب 1948 میں برما کو برطانیہ سے آزادی ملی تب شہریت کا کوئی جھگڑا نہیں تھا اور برما کے بودھ اکثریتی سماج کے درمیان مسلمان اقلیت بھی زندگی گزار رہی تھی۔ مسئلہ تب شروع ہوا جب فوجی جنرل نےون نے جمہوری بساط لپیٹ کر 1962 میں اقتدار پر قبضہ کرلیا اور اس اقتدار کو دوام دینے کے لیے متبادل نظریے کے طور پر برمی قوم پرستانہ جذبات کو ابھارا۔اس سب سے پہلے تھائی لینڈ سے متصل شان صوبے کی نسلی اقلیت اکثریتی تعصب کا نشانہ بنی مگر اس نے سرجھکانے کے بجائے اپنے تحفظ کی خاطر ہتھیار اٹھا لیے۔یوں جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے طویل نسلی جنگ کا بگل بج گیا۔ 1971 میں مغربی سرحد پر واقع مشرقی پاکستان میں جاری خانہ جنگی سے تنگ آ کر بنگالیوں کی ایک تعداد نے سرحد پار بھارت میں پناہ لی تو چٹاگانگ کے پہاڑی علاقوں میں بسنے والی بنگالی آبادی میں سے بھی لگ بھگ پانچ لاکھ نے برما کے اندر سر چھپانے کی کوشش کی۔چنانچہ مقامی بودھ اکثریت میں بے چینی پھیلنی شروع ہوئی اور موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوجی حکومت نے ڈیڑھ پونے دو سو برس سے آباد روہنگیوں کو بھی عارضی پناہ گیر بنگالیوں کے ساتھ جوڑ دیا۔جنرل نے ون کی حکومت نے بنگلہ دیش کی مجیب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بنگالی پناہ گزینوں کو واپس بلائے۔

1975 میں برما میں بنگلہ دیش کے سفیر خواجہ محمد قیصر نے کہا کہ بنگلہ دیش 1971 کے بعد برما میں پناہ لینے والے بنگالی شہریوں کو چھان پھٹک کے بعد واپس لینے کو تیار ہے۔ تاہم برما کا اصرار تھا کہ ان سب کو بنگلہ دیش قبول کرے جو نسلاً برمی نہیں۔ 1978 میں جنرل نے ون کی حکومت نے لگ بھگ دو لاکھ افراد کو سرحد پار دھکیل دیا۔ان کے بارے میں حکومتِ بنگلہ دیش نے کہا کہ نوے فیصد بنگلہ دیشی نہیں بلکہ اراکان کے روہنگیا مسلمان ہیں اس لیے برما کو انھیں واپس لینا پڑے گا۔ اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے برما کی حکومت ان پناہ گزینوں کو واپس لینے پر آمادہ تو ہوگئی لیکن 1982 میں شہریت کے قانون میں تبدیلی کرکے روہنگیا مسلمانوں کو برما میں آباد ایک سو پینتیس نسلی گروہوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا۔جب شہریت چھن گئی تو بطور غیر ملکی ان سے رہائش، صحت ، تعلیم اور روزگار سمیت بنیادی سہولتوں کا حق بھی چھن گا۔ وہ بلا سرکاری اجازت شادی نہیں کرسکتے۔ دو سے زائد بچے پیدا نہیں کرسکتے اور اجازت نامے کے بغیر نہ املاک کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں اور نہ ہی ایک سے دوسری جگہ آ جا سکتے ہیں

تازہ قیامت 2012 میں ٹوٹی جب ساحلی صوبہ راکھین میں افواہ پھیلی کہ کسی روہنگیا نے ایک بودھ لڑکی کو ریپ کردیا۔ حقیقت کھلتے کھلتے دو سو کے لگ بھگ روہنگیا ہلاک ، ایک لاکھ چالیس ہزار بے گھر اور پچاس ہزار سے زائد بنگلہ دیش کے سرحدی علاقوں میں ایک بار پھر پناہ گیر ہوگئے۔تب سے آج تک کوئی مہینہ نہیں گزرا کہ راکھین صوبہ سے جہاں روہنگیا اقلیت کا تناسب پچیس فیصد کے لگ بھگ ہے کسی نہ کسی پرتشدد نسلی واردات کی خبر نہ آتی ہو۔ 2014 کے قانون کے تحت برما میں روہنگیا کی اصطلاح پر ہی پابندی لگا دی گئی اور ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم مدساں ساں فرنٹیئر کو راکھین سے باہر نکال دیا گیا۔

تھائی لینڈ ، ملیشیا اور انڈونیشیا نے بین الاقوامی لعن طعن کے بعد بیچ سمندر پھنسے روہنگیوں میں سے سات ہزار کو عارضی پناہ دینے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔رومن کیتھولک اکثریتی ملک فلپائن نے انسانی ہمدردی کے تحت روہنگیا کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دے دی ہے۔گیمبیا واحد دور دراز مسلمان اکثریتی افریقی ملک ہے جس نے تمام پناہ گزینوں کو اپنے ہاں بسنے کی پیش کش کی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان ہزاروں بھوکوں ننگوں بیماروں کو ہزاروں میل پرے گیمبیا کون پہنچائے کہ جس کا اپنا شمار دنیا کے دس غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے۔

اس پورے المیے میں سب سے زیادہ صدمے کی بات انسانی و سیاسی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے اور ذاتی قربانیاں دینے والی برما کی ہیروئن آنگ سان سوچی کی مسلسل خاموشی ہے۔ان کا صرف ایک حمایتی بیان روہنگیوں کی زندگی قدرے آسان بنا سکتا تھا لیکن جب بھی ان سے اس بارے میں کوئی رپورٹر پوچھتاہے تو وہ گول مول جواب دے کر ٹال جاتی ہیں۔ برما میں اگلے برس پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔چونکہ سوچی کو اپنی انتخابی کامیابی کا یقین ہے لہذا روہنگیوں کی حالت کے بارے میں کوئی بیان دے کر برما کی نوے فیصد بودھ اکثریت کو سیاسی طور پر خود سے بدظن نہیں کرنا چاہتیں۔

تحریر: محمد عبدہ
بشکریہ مکالمہ

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں