آہ! تڑپتی،سسکتی،غم سے نڈھال امت – صلاح الدین فاروقی

سرورِ کائنات ﷺ کی مسکین و لاچار، مظلوم و مقہور ، خزاں کے بوسیدہ پتوں کی مانند مرجھائی ہوئی امت!مجھے معلوم ہے تم سے زیادہ مجبور و معذور کوئی نہیں۔خونِ مسلم سے زیادہ ارزاں اور کوئی شے نہیں۔تم ہی تو ہو جسے بدر و حنین میں ڈرایا اور دھمکایا گیا، تمہارے ضمیر خریدنے کی کوشش ہوئی،تمہارے اعصاب کو قابو کرنے کی ہزار ہا جدوجہد ہوئیں۔تم پر ہلاکو خان نے بھی قیامت ڈھادی،غرناطہ،دہلی اور ڈھاکہ میں تمہیں خون کے آنسو رلایا گیا۔ کابل،شیشان اور کشمیر میں تمہاری عصمتوں پر سودے بازی ہوئی۔شام، عراق اور فلسطین کی دھرتی پر اک حشر اٹھایا گیا۔مگر تم تھے کہ بڑھتے رہے، گرتے اور سنبھلتے رہے، ہر گام اور ہر منزل پر ایمان کی آبیاری کرتے رہے، دلوں میں ایمانی جذبے موجزن تھے تو لب ‘احد احد’ کی صداؤں سے مامور تھا۔کیونکہ تم نے تو کبھی رکنا نہیں سیکھا تھا اور نہ جھکنا تمہاری سرشت تھی۔تمہارے عظیم قائد سیدناامام الانبیاءﷺ خود بدر و حنین میں ثابت قدمی کی چٹان بن کر اہل ایمان کو درس ِ ثبات و استقامت دے گئے تھے۔تمہاری تاریخ تو کربلا سے مزین ہے۔

تم ہی تو ہو جو روز قیامتیں جھیلتے ہو اور کلمے کی حرمت پر کٹ جاتے ہو اور نئے دن ابھرتے سورج کی طرح پھر نئے آب و تاب سے طلوع ہوتے ہو۔تمہارے خورشید نے کبھی مدہم ہونا نہیں سیکھا۔ تمہارے جگنو اندھیروں سے واقف نہیں ہیں۔

تمہارے صادق جذبوں کی قیمت تو حرم کی حرمت سے زیادہ ہے۔تمہارا گرنے والا ہرہر قطرہ اسلامی انقلاب کی فضا کو ہموار کررہا ہے۔تم نے تو دنیا کے ہر گوشے میں اپنا مقدس لہو نچھاور کیا اور بنجر زمینوں کو نخلستان بنادیا۔تمہارے لہو سے خوشبو برآمد ہوتی ہے۔ جنت کی خوشبو،اسلامی انقلاب کی خوشبو!

وہ جنہیں اپنے تئیں غرور تھا اور وہ ‘انا ربکم الاعلیٰ’ کے راگ الاپتے تھے۔ پھر تم ہی تھے نا کہ جو کہہ رہے تھے نحن انصاراللہ!

لیبیا، عراق،شام، مصر کے بعد میرا جلتا، سلگتا،تڑپتا، سسکتا روہنگیا مسلمان۔بس ایک ہی جرم ہے ان کا،سنگین جرم۔خدا کی بندگی اور محمدﷺ کی غلامی، جس کی پاداش میں لہولہان برمی آج بھی ثابت قدمی کے ساتھ خداسے کیے عہد و پیمان نبھارہے ہیں۔

نم دیدہ آنکھیں اور جھکی پلکیں،بھوک اور پیاس سے نڈھال صورتیں لیے زندگی اور موت کی عجیب سی کشمکش کے شکار بے بس روہنگیا!

تم عظیم ہو!بلکہ عظیم تر ہو۔تم نے قرون اولیٰ کی یاد تازہ کردی۔جہاد و قتال کے بعد ہجرت کی داستانیں۔تم میں خوف نام کی کوئی چیز نہیں، کس چیز کا خوف؟ تم نے تو ہزاروں قیامتیں اپنے سامنے قائم ہوتی ہوئی دیکھیں۔کٹے پھٹے انسانی اعضاء،لٹے لٹے سے قافلے،زندہ جلائے جانے والے انسان،بچوں کے ذبیحے،انسانی جانوں کی بے حرمتی اور قطع و برید،ماؤں اور بہنوں کی عصمت دری کے بعد اور بچا ہی کیا ہے۔

خوف ہم پر کچھ نہیں روز ِ حشر کا اے خدا

دیکھ لی ہم نے قیامت اس قیامت سے قبل

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں