روہنگیا مسلمان اور کرنے کے کام – مفتی منیب الرحمٰن

روہنگیا مسلمان برما، موجودہ نام میانمار، کی ریاست رخائن میں رہتے ہیں ۔ الجزیرہ ٹیلی ویژن کے مطابق ان کی تعداد 11لاکھ ہے، یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ لوگ عرب تاجروں کی آمد کے بعد ان کی تبلیغ سے مسلمان ہوئے۔ برطانوی استعمار اپنی نوآبادیات کو چھوڑ کر جاتے ہوئے ہر جگہ کوئی نہ کوئی مسئلہ چھوڑکر گئے ہیں۔ ہمارے خطے میں کشمیر اور برما میں روہنگیا مسلمانوں کی ریاست کا مسئلہ اس کی روشن مثال ہے۔اس وقت روہنگیا مسلمان مشکل صورتِ حال میں ہیں، ان کی حالتِ زار ناقابلِ بیان ہے۔ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم، ان کی بستیوں کوجلانے اور انتہائی درندگی کے ساتھ ان کی نسل کُشی کے بارے میں بیرونی دنیا کو معلومات سوشل میڈیا کے ذریعے حاصل ہورہی ہیں۔ سوشل میڈیا پران کی تصاویر اتنی المناک اور درد انگیز ہیں کہ انسان دیکھنے کی ہمت بھی نہیں کرپاتا۔ انسانوں کے ٹکڑے کیے جانے کے مناظر کوئی کیسے دیکھ سکتا ہے؟

کے قومی انتخابات میں وہاں کی سیاسی رہنما آنگ سان سوچی کی جماعت’’ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی‘‘نے کامیابی حاصل کی، لیکن انہیں پورا اقتدار نہیں ملا، کیونکہ فوج نے اپنے پاس ویٹو پاور رکھی ہوئی ہے اور فوج کی حمایت کے بغیر دستور میں تبدیلی آسان نہیں ہے، البتہ آنگ سان سوچی کے لیے حکومتی امور چلانے کی خاطر 2016میں ’’اسٹیٹ کونسل ‘‘کا ایک عہدہ تخلیق کیا گیا ہے۔

بی بی سی ورلڈ پر ایک تصویر میں دکھایا جارہا تھا کہ ستر گھروں پر مشتمل روہنگیا مسلمانوں کے ایک گاؤں کو آگ لگی ہوئی ہے۔ الجزیرہ پر بعض متاثرین کے انٹرویو دکھائے جارہے تھے کہ ہمیں کہیں بھی شہری حقوق حاصل نہیں ہیں، یعنی میانمار کی حکومت انہیں اپنا قانونی شہری تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور نسلی پسِ منظر کے اشتراک کے باوجود بنگلہ دیشی حکومت انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے یا آسان الفاظ میں دھرتی انہیں قبول نہیں کر رہی،لہٰذا وہ بے گھراور دربدر ہیں۔ در اصل بھارتی وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی، بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد اور آنگ سان سوچی یا میانمار کی فوج روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے یکساں موقف رکھتے ہیں کہ یہ مظلوم لوگ عالمی طور پر مسلَّمہ انسانی حقوق کے حق دار نہیں ہیں۔ بنگلہ دیشی حکومت اپنے ہاں لٹے پٹے پناہ گزینوں کو زبردستی واپس بھیج رہی ہے اور میانمار کی فوج واپس آنے والوں کے راستے میں بارودی سرنگیں بچھارہی ہے، حالانکہ پناہ گزینوں کو جبراً واپس بھیجنا عالمی اقدار کے منافی ہے۔ نریندر سنگھ مودی میانمار کے دارالحکومت میں جاکر آنگ سان سوچی اور وہاں کی مقتدر فوجی جنتا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرچکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہمارے ایک ایکس سروس آرمی کرنل کو بھی انڈین را نے میانمار ہی سے گرفتار کیا ہے۔بدھ مذہب کے ماننے والے ویسے تو بے ضرر اور پر امن لوگ سمجھے جاتے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ بدھ بھکشووں کا کوئی گروہ یا تنظیم ہے جو مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہا پسندوں کی عصبیت سے متاثر ہے اور فوج ان کی ہم خیال ہے۔

عالمی قوتوں اور ان کے زیرِ اثر میڈیاکی ترجیحات میں روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ سرِ فہرست نہیں ہے، امریکہ کی ترجیحی فہرست میں’’ہاروی‘‘اور ’’اِرما‘‘کے بحری طوفان، شمالی کوریا کا ہائیڈروجن بم کا دھماکا اور میزائل کے پے درپے تجربات ہیں۔ اس کے بعد مشرقِ وُسطیٰ اور افغانستان کے مسائل ہیں۔ افغانستان میں اپنی ناکامیوں اور ہزیمت کی ذمے داری امریکہ اپنی بہادر افواج کی بجائے ہمیشہ پاکستان پر ڈال دیتا ہے، کیونکہ ناکامی اور شکست کا اعتراف کرنے کے لیے بھی حوصلہ چاہیے۔چین کے شہر چیامن میں چینی صدر شی جن پنگ کی صدارت میں برِکس (یعنی برازیل، روس، انڈیا، چین اور ساؤتھ افریقہ پر مشتمل)گروپ کے ممالک کی کانفرنس منعقد ہوئی، اس کے اعلامیے میں داعش، القاعدہ، ترکستان اسلامک مومنٹ، مومنٹ آف ازبکستان، طالبان، تحریک طالبان پاکستان، لشکر طیبہ، جیش محمد،حقانی نیٹ ورک اور حزب التحریرکو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنا چین کی پالیسی میں تبدیلی کی طرف واضح اشارہ ہے۔ پس چین کے ساتھ ہمالیہ سے بھی بلند جس دوستی کے ہم دعوے کر رہے تھے، اس کی رفعتوں میں کمی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے، کیا ہم توقع کر سکتے ہیں کہ ہماری بالغ نظر مقتدرہ اس کے اسباب پر غور کرے گی؟ اس میدان میں دراصل مودی کی یہ پہلی فتح ہے،اسی لیے انٹرنیشنل میڈیا میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیااب عالمی فورم پرچین جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دینے سے تحفظ دے گااور ایسی قراردادوں کو بدستورویٹو کرے گا۔

روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے پر ہماری حکومت میں جتنا دم ہے، اس کا اظہار ہماری وفاقی کابینہ کی قرارداد سے ہوگیا ہے کہ اقوامِ متحدہ روہنگیا مسلمانوں کی حفاظت کے لیے اپنی ذمے داری پوری کرے، اس کے علاوہ کسی عملی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ہم عام طور پرزوردار اخباری بیانات، ریلیوں، جلوسوں اوراحتجاجی مظاہروں کی صورت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ جنابِ سراج الحق کا بڑا مطالبہ یہ ہے کہ برما کے سفیر کو واپس بھیجا جائے ورنہ وہ ڈی چوک پر مظاہرہ کریں گے، سفیر کو واپس بھیجنے سے کون سی جوہری تبدیلی آئے گی، اس کا مجھے علم نہیں ہے، سوا ئے اس کے کہ یہ سفارتی سطح پر اظہارِ ناراضی کا ایک معروف طریقہ ہے۔

ہمارے نزدیک کرنے کا کام یہ ہے کہ اسلام آباد میں مقیم مغربی ممالک اور مشرقِ بعید کے سفراء کے ساتھ ایک کانفرنس منعقد کی جائے اور ان سے کہا جائے کہ اپنی حکومتوں کو اس معاملے کی حساسیت اور سنگینی کی جانب متوجہ کریں، ورنہ عالمی قوتوں کا یہی وہ سنگ دلانہ رویہ ہے جو شدت پسندی کو جنم دینے کا باعث بنتا ہے، مظالم جب حد سے بڑھ جائیں اور ’’مرتا کیا نہ کرتا‘‘ کی نوبت آجائے، تو لوگ سب کچھ کرگزرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ جب جان، مال، عزت وآبرواورعزیزو اقارب الغرض سب کچھ داؤ پر لگ جائے، تو لوگ سوچتے ہیں کہ’’ مرنا ہی ہے تو دوچار کو مار کر مرو‘‘۔ایسے ہی مظلومین انتہا پسندوں کی شکار گاہ اوران کے مشن کا ایندھن بنتے ہیں۔ مسلم ممالک کی حقیقی پوزیشن یہی ہے :’’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے ‘‘، علامہ اقبال نے کہا ہے:

مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر

حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے
جنابِ عبداللہ طارق سہیل نے بجا طورپر لکھا ہے:ستاون مسلم ممالک گنتی کے لیے ہیں، آخرلے دے کے ایک ترکی رہ جاتاہے جو مسلمانوں کے مسائل پر آواز بھی اٹھاتا ہے اور ممکن حد تک مدد کے لیے بھی آگے بڑھتا ہے۔ 9ستمبرکے اخبارات میں ملائشیا اور انڈونیشیا کے کچھ اقدامات کا بھی تذکرہ آیا ہے۔ہم تو ریلیوں، جلوسوں اور مظاہروں تک رہ گئے ہیں اور ہمارے سیاستدان بھی حاضری لگوانے کے لیے بیان دینے میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے، رہی مذہبی تنظیمیں تواپنے جذبات کے اظہار اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے ان کے پاس یہی طریقہ رہ جاتا ہے۔ بعض زیادہ پرجوش عناصر دشمن ملک کے سربراہوں کے پُتلے اور جھنڈے جلاکر اپنے جذبات کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ ہمارے نزدیک دوسرا کرنے کا کام یہ ہے : ’’ایسی کوئی تدبیر اختیار کی جائے کہ کسی عالمی فورم سے فیکٹس فائنڈنگ یعنی برسرِ زمین جاکر حقائق معلوم کرنے اور جمع کرنے کے لیے کوئی مشن بھیجا جائے، جس میں مسلمانوں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ آزاد میڈیا کے لوگ بھی ہوں تاکہ ان جمع کردہ حقائق کو کوئی چیلنج نہ کرسکے ‘‘۔میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے کہا ہے : ’’سوشل میڈیا پر آنے والی تصویریں جعلی ہیں اورپروپیگنڈا ہے ‘‘،توپھر اُن کے اپنے مفاد میں ہے کہ کسی غیر جانبدارحقائق جمع کرنے والے مشن کو میانمار میں آنے دیں اور متاثرین تک رسائی کی سہولتیں فراہم کریں، لیکن شرط یہ ہے کہ ان کے ساتھ مقامی حکومت کے سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے افراد نہ ہوں تاکہ لوگ آزادی کے ساتھ اپنا دکھ درد بیان کرسکیں، متاثرہ مقامات کو دیکھا جاسکے اور مظالم کے شواہد کو جمع کیا جاسکے۔ اس کے بعدمتاثرین کی بحالی کا کام مربوط انداز میں کیا جائے، غیر منظّم اور غیر مربوط انداز میں کام کرنے سے وسائل کاضیاع ہوتا ہے اور تمام متاثرین تک اس کے فوائد بھی نہیں پہنچ پاتے۔

ہمارے بعض دوستوں نے بتایا کہ ان کے جاننے والے بعض مقامی حضرات نے بنگلہ دیش میں کاکسزبازار کی انتظامیہ سے روہنگیا مہاجرین کی مدد کی خاطر اجازت لینے کے لیے رابطہ کیا تو انتظامیہ کے ذمے داران نے دو ٹوک انداز میں بتایا کہ بیرونی امداد حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اورکسی پاکستانی الاصل رفاہی ادارے کی امداد قبول کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، خواہ وہ اپنی برطانوی شاخ کے ذریعے ہی کرے۔ الغرض انہوں نے غیر ملکی امداد کے امکان کو کلی طور پر رد کردیا۔ 9ستمبر کے اخبارات میں پڑھا کہ قطر کی حکومت نے امریکہ کے بحری طوفان کے متاثرین کے لیے 3کروڑ ڈالر امداد دی ہے اور متحدہ عرب امارات نے بھی ایک کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے، شاید ان کی نظر میں امریکہ مستحقین میں سرفہرست ہو۔ابھی تک ان ممالک کی طرف سے روہنگین مسلمانوں کے لیے کوئی اعلان نظر سے نہیں گزرا۔

بعض حضرات تجارتی بائیکاٹ کا مطالبہ کرتے ہیں، جبکہ ہماری دفاعی پیداوار کا ادارہ میانمار کو JF-17تھنڈر فروخت کرنے کی کوشش کر تارہا ہے،ان مساعی کے بارآور ہونے کا ہمیں علم نہیں ہے۔ دوسرے شعبوں میں تجارت کا حجم کوئی بہت بڑا نہیں ہے، کیونکہ میانمار ایک پسماندہ ملک ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم خود عالمی تجارت میں بہت بڑے خسارے میں ہیں، ہماری برآمدات اور درآمدات کا تناسب دو اور پانچ کا بتایا جاتا ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں