لیجنڈری کرکٹر حنیف محمد انتقال کر گئے

ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے ابتدائی برسوں کے دوران فاسٹ بولر فضل محمود اگر میچ جتوانے کی کنجی تھے تو حنیف محمد بجا طور پر میچ بچانے کی ڈھال تھے۔ان کی ثابت قدمی اور ہمت نہ ہارنے کی صلاحیت نے 17 سال تک پاکستانی بیٹنگ لائن کو سہارا دیے رکھا۔ اس دوران وہ بڑی کامیابی سے پاکستانی ٹیم کو شکست سے بچاتے ہوئے نظر آئے۔حنیف محمد نے اپنے کریئر میں وقت کے اعتبار سے جتنی بھی طویل اننگز کھیلیں وہ ان کے اپنے مزاج سے زیادہ حالات کے مطابق تھیں۔ پاکستانی ٹیم کو اس وقت ایسی ہی بیٹنگ کی ضرورت تھی۔

پاکستان کے اولین کرکٹ کمنٹیٹرز میں سے ایک جمشید مارکر کہتے ہیں’پاکستان کے نقطہ نظر سے حنیف محمد کی وکٹ بہت قیمتی ہوا کرتی تھی اور یہ دھڑکا لگارہتا تھا کہ اگر وہ آؤٹ ہوگئے تو کھیل ہی ختم۔‘ویسٹ انڈیز کے آگ برساتے بولنگ اٹیک کا ساڑھے تین دن تک مقابلہ کرتے ہوئے انھوں نے337 رنز کی اننگز کھیلی اور شکست کامنہ موڑدیا۔ہ غیرمعمولی کارکردگی’گریٹ اسکیپ‘ کے طور پر یاد رکھی جاتی ہے اور اسے مشکل حالات میں کھیلی گئی سب سے بہترین اننگز کہا جاتا ہے۔

ویسٹ انڈیز کے عظیم آل راؤنڈر سرگیری سوبرز کو وہ پہلی گیند آج تک یاد ہے جو روئے گلکرسٹ نے حنیف محمد کو کی تھی اور وہ اتنی تیز گیند تھی کہ بیٹسمین اور وکٹ کیپر کے اوپر سے ہوتی ہوئی سائٹ سکرین پر جالگی تھی اور ریباؤنڈ ہوکر میدان میں واپس آگئی تھی لیکن اس کے بعد حنیف محمد نے اپنی تکنیک اور ہمت سے ویسٹ انڈین بولنگ کا بڑے اعتماد سے مقابلہ کیا تھا۔حنیف محمد نے اسی طرح کی ایک اور شاندار اننگز انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں کھیلی تھی جب انھوں نے نوگھنٹے کریز پر گزار کر187 رنز ناٹ آؤٹ سکور کیے تھے جس نے 99 پر چھ وکٹیں گنوادینے والی پاکستانی ٹیم کو مشکل سے نکالا تھا۔

حنیف محمد کرکٹ کے حقیقی لٹل ماسٹر تھے۔ یہ خطاب انھیں پاکستان کے اولین ٹیسٹ میچ میں ہی مل گیا تھا جس میں انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی طرف سے پہلی نصف سنچری سکور کی تھی۔یہ خطاب انھیں بھارت کے دو مشہور کمنٹیٹرز مہاراج کمار آف وزیانگرم اور طالیار خان نے دیا تھا۔دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ میں کھیلے گئے ان کی یہ اننگز دیکھنے والوں میں بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو بھی شامل تھے۔حنیف محمد کو ذاتی طور پر 160 رنز کی اپنی وہ اننگز بہت پسند تھی جو انھوں نے سنہ 61-1960 کے دورۂ بھارت کے ممبئی ٹیسٹ میں کھیلی تھی۔

اس ٹیسٹ سے قبل حنیف محمد کے دائیں ہاتھ کی انگلی کسی بھارتی شائق نے ہاتھ ملاتے ہوئے بلیڈ سے زخمی کردی تھی اس کے علاوہ انھیں سخت تکلیف کے سبب پیر کا ناخن بھی نکلوانا پڑگیا تھا۔ اس حالت میں انھوں نے چھ گھنٹے بیٹنگ کی تھی جس کے دوران انھیں بار بار خون آلود جرابیں تبدیل کرنی پڑی تھیں۔سنہ 1954 کےدورۂ انگلینڈ میں لارڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم صرف87 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی۔اس اننگز میں حنیف محمد اگر ایک اینڈ نہ سنبھالتے تو بساط بہت جلد لپیٹ دی جاتی۔وہ اس اننگز میں ساڑھے تین گھنٹے کریز پر رہے تھے اور 220گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 20 رنز سکور کیے تھے۔

حنیف محمد نے اپنے کریئر میں صرف سست رفتاری سے ہی بیٹنگ نہیں کی بلکہ جب بھی موقع ملا وہ تیز رفتاری سے سکور کرتے ہوئے بھی دکھائی دیے۔
بھارت کے دورے میں انھوں نے کمبائنڈ یونیورسٹیز کے خلاف میچ میں کھانے کے وقفے سے قبل ہی سنچری مکمل ک

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں