کشمیر میں یومِ سیاہ، سری نگر میں پولیس پر حملہ

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے حملے میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے سات جوان زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ سری نگر کے علاق

ے نوہٹہ میں پیر کی صبح پیش آیا جب تاریخی جامع مسجد کے قریب نامعلوم افراد نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے جوابی فائرنگ کے بعد جائے وقوعہ پر تصادم اور فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

خیال رہے کہ پیر کو انڈیا کے یومِ آزادی کے موقع پر کشمیر میں یومِ سیاہ بھی منایا جا رہا ہے اور وادی میں ہڑتال ہے۔

کشمیر میں گذشتہ ماہ کی آٹھ تاریخ سے شروع ہونے والی احتجاجی لہر کی وجہ سے وادی کے قریباً تمام اہم علاقوں میں چھ ہفتوں سے کرفیو نافذ ہے اور نظامِ زندگی معطل ہے۔

یہ لہر نوجوان علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی انڈین فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی اور اس میں اب تک 50 سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

ادھر انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بندوق کسی مسئلے کا حل نہیں۔

دارالحکومت سرینگر میں پیر کو انڈیا کے 70 ویں یوم آزادی کے موقعے پر اپنی تقریر میں انھوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں ’اگر ہمیں اپنے مسائل کا حل نہیں ملے گا تو دنیا کی کوئی بندوق ہمیں حل نہیں دلا سکے گی۔‘

انھوں نے کہا: ’ان ممالک کو دیکھیں جہاں لوگ جمہوریت کی جنگ لڑ رہے تھے اور پوری دنیا ان کی حمایت کر رہی تھی لیکن جب وہاں بندوق، دہشت گردی، بم، پٹرول بم در آئے تو تصویر ہی بدل گئی۔‘

محبوبہ نے کہا کہ جموں کشمیر ایک ایسا گلدستہ ہے جس میں ہر مذہب اور ہر زبان کے لوگ رہتے ہیں۔’کشمیر وہ نہیں جو تشدد کرتا ہے، گولیاں چلاتا ہے۔‘

جموں و کشمیر کے موجودہ حالات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’جب دکانیں بند ہوتی ہیں، سکول بند ہوتے ہیں تو لوگ اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے انھیں باہر بھیج دیتے ہیں۔‘

انھوں نے اپنے والد مفتی محمد سعید کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ مفتی صاحب کہا کرتے تھے: ’گرینیڈ سے نہ گولی سے، بات بنے گی بولی سے۔۔۔‘

محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے موجودہ حالات کے لیے جموں کشمیر کے لوگ اور ملک کی قیادت دونوں ذمہ دار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے وقت میں شروع ہونے والی کوششیں پوری نہیں ہو سکی تھیں، اب امید ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں وہ پوری ہوں گی۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں