’سیلفی کا جنون‘، دو افراد دریائے کنہار میں ڈوب گئے

سیلفی کے جنون نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی کاغان میں ہفتے کے روز ایک مرد اور ایک عورت کی جان لے لی۔بالاکوٹ کے پولیس افسر ارشد خان کے مطابق ملتان کی رہائشی فیملی ایوب پل کے ساتھ دریائے کنہار کے کنارے سیلفی لے رہے تھے کہ 29 سالہ سہیل کا پتھر پر سے پاؤں پھسلا اور دریائے کنہار میں گر گیا جس کو بچانے کی خاطر اس کی قریبی عزیزہ راشدہ حنیف نے بھی دریا میں چھلانگ لگا دی اور دونوں ڈوب گئے۔

پولیس افسر ارشد خان نے صحافی محمد زبیر خان کو بتایا کہ ان دونوں افراد کی لاشیں تین گھنٹے کی جدوجہد کے بعد مقامی افراد نے پانچ کلو میٹر دور سے نکال لیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق موجودہ سیزن میں کم از کم پانچ افراد سلیفی لیتے ہوئے دریائے کنہار میں گر کر ہلاک ہوچکے ہیں۔

مقامی عینی شاہد راشد خان نے بتایا کہ ’نوجوان پتھر پر کھڑا ہو کر سیلفی لے رہا تھا کہ میں اس کو منع ہی کرنے والا تھا کہ اس کا پاؤں پھسلا اور وہ دریا میں گر گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک خاتون نے بھی اس کے پیچھے چھلانگ لگا دی۔‘خاندان کے تمام افراد ملتان سے وادی کاغان کی سیاحت کے لیے آئے تھے۔

سیاح نسیم گل جو کہ واقعے کے وقت قریب ہی موجود تھے کا کہنا تھا ’میں بھی اپنے خاندان کے ہمراہ قریب ہی تفریح کررہا تھا اور اس خاندان کو دیکھا بھی تھا۔ دونوں کو بچانے کا کوئی بھی موقع نہیں تھا چند لمحوں کے اندر ہی دونوں دریائے کنہار میں گم ہوگئے تھے۔‘

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ سیزن میں مجموعی طور پر پانچ افراد سیلفی لیتے ہوئے دریائے کنہار میں ڈوب کر ہلاک ہوچکے ہیں۔واضح رہے کہ چند روز قبل ڈیرہ غازی خان کے سے تعلق رکھنے والے میاں، بیوی اور بیٹی دریا کنہار میں گر کر ہلاک ہوئے تھے۔ ذرائع کے مطابق 11 سالہ صفیہ آصف سلیفی لیتے ہوئے دریائے کنہار میں گر گئی تھی جس کو بچانے کے لیے اس کے والد ڈاکٹر آصف اور والدہ ڈاکٹر شازیہ نے بھی دریا میں چھلانگ لگا دی تھی۔

واضح رہے کہ مقامی انتظامیہ نے سیاحوں کو خطرناک دریا سے خبردار کرنے کے لیے بورڈ بھی لگا رکھے ہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں