گلیشیئر پر سائیکلنگ کا ریکارڈ ثمر خان کے نام

پاکستان کے شہر راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ثمر خان نے گلگت بلتستان میں واقع بیافو گلیشیئر پر سائیکلنگ کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔67 کلومیٹر طویل بیافو گلیشیئر کو قطب شمالی و جنوبی سے باہر دنیا کا تیسرا طویل ترین گلیشیئر سمجھا جاتا ہے۔ثمر نے اس سلسلے میں اپنے سفر کا آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے کیا تھا اور اسکولے گاؤں تک کے سفر کے دوران انھوں نے تقریباً 800 کلومیٹر سائیکل چلائی۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ثمر خان نے بتایا: ’اس ریکارڈ کے بعد پاکستان میں کھیلوں اور سیاحت کے فروغ کا میرا مقصد کافی حد تک پورا ہو گیا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اس سفر کے دوران راستے میں جو بھی ملکی اور غیر ملکی سیاح ملے وہ اس خیال سے بہت متاثر ہوئے۔ کئی سیاح ایسے تھے جو سائیکلنگ کرنا چاہتے تھے مگر کسی انجانے خوف کی وجہ سے نہیں کر رہے تھے۔ مجھے دیکھنے کے بعد وہ مطمئن ہوگئے اور شاید آئندہ وہ بھی سائیکل پر گلیشیئروں تک جائیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں امن و امان کا مسئلہ ہے اور لڑکیوں کو کھیلوں میں حصہ نہیں لینے دیا جاتا۔ میں چاہتی ہوں کہ ان دونوں تاثرات کو غلط ثابت کروں۔ راستے بھر ہر ایک نے مجھے اپنے گھر کا فرد سمجھا اور حوصلہ افزائی کی۔‘ ثمر خان نے بتایا کہ سکردو میں سیاحت اور کھیلوں کے محکمے نے اُن کے اِس ریکارڈ کی اطلاع ملتے ہی اُن سے رابطہ کیا اور ضروری تحقیقات کے بعد نہ صرف اس ریکارڈ کی سند جاری کی بلکہ گلگت بلتستان کی حکومت کو بھی اِس بارے میں آگاہ کیا۔

خیال رہے کہ ایسا کوئی بھی ریکارڈ بنانے کا دعویٰ کرنے والے کو پہاڑوں کی ایک خاص زاویے سے تصاویر اور اپنے ساتھ جانے والے پورٹرز اور گائیڈز کی گواہی فراہم کرنی ہوتی ہے جس کی بنیاد پر ان کے دعوے کی تصدیق کر کے سند جاری کی جاتی ہے۔اِس کوشش کے دوران ثمر خان کے ساتھ ان کے گائیڈ محمد اصغر تھے جو خود نہ صرف منجھے ہوئے کوہ پیما ہیں بلکہ کئی ریسکیو مشنز میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔

ثمر خان اپنے اس سفر میں ایک ایسی پہاڑی چوٹی بھی سر کرنا چاہتی تھیں جسے آج تک کسی نے سر نہ کیا ہو لیکن وہ یہ کام موسم کی خرابی کی وجہ سے نہ کر پائیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے یومِ آزادی پر پہاڑ کی چوٹی سر کرنا چاہتی تھیں لیکن 13 اگست کو مہم کے دوران اُن کے ساتھیوں نے اُنھیں موسم خراب ہونے اور برف میں دراڑیں پڑنے کی اطلاع دی جس کے بعد اُنھوں نے چوٹی سر کرنے کا منصوبہ ترک کر دیا۔

’ہم 5300 میٹر کی بلندی تک جا چکے تھے اور اندازاً چوٹی کی اونچائی 5600 میٹر تھی، لیکن برفانی طوفان کا خدشہ تھا جس کی وجہ سے ہم نے چوٹی سر نہیں کی اور واپس چلے آئے، البتہ گلیشیئروں پر سائیکلنگ کا مشن پورا ہوگیا ہے۔‘ اس سفر کے دوران ثمر خان اپنے شوق یعنی سائیکلنگ اور کوہ پیمائی کے ساتھ ساتھ ایک سماجی کام بھی انجام دیا اور شگر کے سرکاری کالج میں طلبہ میں ’ٹرو ڈراپس‘ کے نام سے ایک ویب سائٹ اور ایپ بھی متعارف کروائی جس کی مدد سے نوجوان مقامی ہسپتالوں میں خون کے عطیات دے سکیں گے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں