اٹلی زلزلہ سینکڑوں ہلاک، متعدد عمارتیں منعدم

روم  اٹلی میں 6.2 شدت کے زلزلے نے وسطی علاقوں میں تباہی مچا دی،120 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے، 150 افراد لاپتہ۔ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق اٹلی کے وسطی علاقوں میں 6 اعشاریہ2 شدت کے زلزلے کے باعث متعدد عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئیں، 58 پہاڑی گائوں صفحہ ہستی سے مٹ گئے جبکہ ایک گھنٹے بعد 5 اعشاریہ5 شدت کے آ فٹرشاک نے بھی زمین ہلا دی۔ امریکن جیولوجیکل سروے کے مطابق اٹلی کے وسطی علاقے میں آنے والے 6.2 شدت کے زلزلے کا مرکز جنوب مشرقی شہر پیروگیا سے 76 کلومیٹر دور تھا اور زمین میں اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ زلزلے سے سب سے زیادہ اکامولی، اماترائس، پوستا کے علاقے شدید متاثر ہوئے۔ حکام نے زلزلے کے باعث 40 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اکامولی کے میئر کے مطابق ایک ہی خاندان کے 4 افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جن کی زندگی کے کوئی آثار نہیں مل رہے ۔ اومبریا کے علاقے میں نورشیا کے قصبے میں کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ زلزلے کے بعد تودے گرنے سے متاثرہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ شہروں سے منقطع ہو گیا جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اس کے جھٹکے 150 کلومیٹر دور دارالحکومت روم میں بھی محسوس کئے گئے۔

اطالوی حکام نے زلزلے کو شدید نوعیت کا قرار دیتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کردی اور عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔ عمارتوں کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ اور پل ٹوٹ گئے، سڑکوں کو نقصان پہنچا۔ اٹلی کے شہری دفاع کے ادارے نے اس زلزلے کو شدید قرار دیا ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد کی اکثریت کا تعلق پیسکارا ڈیل ٹورنٹو نامی گائوں سے ہے جو زلزلے سے مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ امدادی کارکنوں نے پیسکارا ڈیل ٹورنٹو میں دو لڑکوں کو ملبے سے زندہ بھی نکالا ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ دونوں لڑکے چارپائی کے نیچے چھپ کر زندگی بچانے میں کامیاب رہے ہیں۔

اٹلی کے سول پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے روم میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ریسکیو سروسز تمام متاثرہ علاقوں تک پہنچ تک نہیں پائی ہیں۔ برما کے واسطی شہر بگان میں 6.8 شدت کے زلزلے سے قدیم شہر بگان میں واقع خانقاہوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ کم از کم ایک شخص کی ہلاکت 20 زخمی ہوئے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے تھائی لینڈ، بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی محسوس کیے گئے اور بہت سے لوگ خوف سے گھروں سے باہر آگئے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ بگان میں 66 سٹوپوں کو نقصان پہنچا ہے۔ پکوکو شہر میں ایک عمارت گرنے سے ایک 22 سالہ شخص ہلاک ہوگیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیوز میں بگان میں زلزلے سے سٹوپوں کی چھتریوں گرتے ہوئے اور گرد و غبار کے بادل اٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ بگان ایک معروف سیاحتی مقام ہے اور یہاں ہزاروں کی تعداد بدھ مت کے یادگاریں ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق دارالحکومت نیپیداو میں پارلیمانی عمارت کو بھی زلزلے سے نقصان پہنچا ہے۔ برما کے سب سے بڑے شہر ینگون کے ساتھ ساتھ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک اور انڈین شہر کولکتہ بھی بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جہاں عارضی طور پر ریلوے سروس معطل کر دی گئی۔ بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ میں مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کم از کم 20 افراد کے زخمی ہوئے ہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں