ترکی میں پولیس کی عمارت کے باہر دھماکہ، 11 ہلاک

ترکی کے حکام کا کہنا ہے کہ جنوب مشرقی شہر جزیرہ میں انسداد ہنگامہ آرائی کی پولیس کے ہیڈ کوارٹر کے باہر کار بم دھماکے کے نتیجے میں11 پولیس اہلکار ہلاک اور کم از کم 78 زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکہ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق جمعے کی صبح چار بجے ہوا جس سے پولیس ہیڈکواٹر ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ جزیرہ شام کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

تصاویر میں اس کثیر المنزلہ عمارت کی تباہی واضح ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ہیڈ کوارٹر کے باہر چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عمارت تباہ ہوئی۔ترکی کے وزیر اعظم علی بن یلدرم نے کردستان ورکرز پارٹی کو دھماکے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کو ایسا جواب ملے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔
حالیہ مہینوں میں ترک سکیورٹی فورسز کی جانب سے کردوں کے خلاف آپریشن کے دوران جزیرہ شہر میں کئی بار کرفیو نافذ کیا جا چکا ہے۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان الزامات کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ترکی کی حکومت نے جزیرہ کی ایک عمارت کی تحہ خانے میں پناہ لیے ہوئے 100 افراد کو زندہ جلا دیا۔ ترکی کی حکومت نےان الزامات کی سختی سے تردید کی کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔یاد رہے کہ جولائی 2015 میں حکومت اور پی کے کے کے درمیان دو سالہ جنگ بندی ختم ہو گئی تھی۔ اس کے بعد سے ترکی کے جنوب مشرق میں بدترین تشدد دیکھا گیا ہے۔

پی کے کے کی جانب سے متعدد حملے کیے گئے ہیں جن میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ترکی میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوون کےمطابق ترکی اور کردوں کے مابین جاری جھگڑے کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ وہ کردوں کے ساتھ اس وقت تک کوئی مذاکرات نہیں کرے گی جب تک وہ مسلح جہدوجہد کو ترک کرنے کا اعلان نہیں کرتے۔ کردوں کےساتھ جاری تنازعے کےعلاوہ ترکی شدت پسندگروہ دولت اسلامیہ کے ساتھ بھی نبرد آزما ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں