پیرس کے ریسٹورنٹ کا ’مسلمانوں کو خدمات دینے سے انکار‘

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے مضافات میں ایک ریسٹورنٹ کے مالک نے دو مسلمان خواتین کو کھانے دینے سے انکار کر دیا۔سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سے فرانسیسی عوام نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے مظاہروں کی کال دی ہے۔

سوشل میڈیا پر بہت زیادہ نشر ہونے والی اس ویڈیو میں ایک آدمی حجاب پہنے ہوئے دو خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’دہشت گرد مسلمان ہیں اور تمام مسلمان دہشت گرد ہیں۔‘یہ واقعے سنیچر کی شب فرانس کے ایک ریسٹورنٹ میں ہوا۔اتوار کو ریسٹورنٹ کے باہر لوگوں نے مظاہرے کیے جس کے بعد مالک نے تمام افراد سے معافی مانگی۔

انھوں نے کہا کہ فرانس کے ساحلوں پر برقینی کے بارے میں جاری کشدگی کے باعث وہ ’آپے سے باہر ہو گئے‘ تھے اور گذشتہ سال نومبر میں پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں اُن کا ایک دوست بھی ہلاک ہوا تھا۔ریسٹورنٹ میں ہونے والے اس واقعے کی ویڈیو ایک خاتون نے چھپ کر بنائی۔

مالک کے انکار کے جواب میں ایک خاتون نے کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ کوئی نسلی تعصب کا شکار شخص ہمیں کھانے فراہم کرے۔‘جس پر مالک نے کہا کہ ’نسلی تعصب رکھنے والی انسانوں کو قتل نہیں کرتے۔ میں نہیں چاہتا کہ تم جیسے لوگ میرے ہوٹل میں آئیں۔‘

پولیس نے کہا ہے کہ وہ ریسٹورنٹ میں گئے ہیں لیکن انھوں نے شکایت درج ہونے کے بارے میں کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔یاد رہے کہ چند روز قبل فرانس کی اعلی عدالت نے ملک کے ساحلوں پر برقینی پہنے پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دیا تھا۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں