ڈاکٹر شہلا سمیع نے کئی زندگیوں کو بچایا

کوئٹہ میں آٹھ اگست کو ہونے والے دھماکے کے موقع پر موجود صحافی جمال ترکئی کا کہنا ہے ’دھماکے کے بعد جب گولیوں کی آوازیں آ رہی تھیں اور ہر کوئی اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا تو اس وقت باحجاب ڈاکٹر شیلا سمیع زخمی مریضوں کی مرہم پٹی کر رہی تھیں۔‘

جمال ترکئی نہ صرف آٹھ اگست کے کوئٹہ سول ہسپتال میں دھماکے کے عینی شاہد ہیں بلکہ انھوں نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر شیلا سمیع کی تصاویر کے علاوہ وڈیو بھی بنائی ہے جس کو بین الاقوامی سطح پر بھی پزیرائی ملی ہے۔ان تصاویر اور وڈیو میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر شیلا سمیع اپنے ارد گرد خطرے سے بے نیاز زخمی وکلا کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر رہی تھیں۔

جمال ترکئی کا کہنا تھا ’دھماکے کے بعد جب فائرنگ شروع ہوئی تو سول ہسپتال کے شعبۂ ایمرجنسی میں موجود 30 کے قریب ڈاکٹر، پیرا میڈیکس، نرسوں سمیت عام افراد صرف اپنی جان بچانے کی بھاگ دوڑ کر رہے تھے جب کہ ڈاکٹر شیلا جائے وقوع کی جانب دوڑ رہی تھیں۔‘دھماکے کے بعد سول ہسپتال کوئٹہ کے پارکنگ ایریا میں زخمی اور ہلاک وکلا موجود تھے اور ڈاکٹر شہلا سمیع ایک ایک زخمی کے پاس جاتیں اور زخمی وکیلوں کے زخموں پر مرہم پٹی کرتیں۔

ڈاکٹر شہلا سمیع کے مطابق ’یہ مشکل لمحات تھے اور اس موقع پر طبی عملہ موجود نہیں تھا اور اس وقت ضرورت اس بات کی تھی کہ زخمی وکلا کا خون بند کیا جائے جس کے لیے میں نے وکلا کی ٹائی اور کوٹ استعمال کیے۔‘ان کا کہنا تھا ’ایک زخمی وکیل کو کم از کم چار وکیل اٹھا کر سرجری وارڈ میں پہنچاتے۔ میں زخمی وکیل کی طبی امداد کرتی اور پھر چیخ چیخ کر زخمی وکلا کو اٹھانے کے بارے میں ہدایات دیتی تھی۔‘

انھوں نے کہا ’جائے وقوعہ پر تقریبا 15 منٹ بعد پہنچنی والی پہلی ایمبولینس بھی ایدھی والوں کی منی ایمبولینس تھی مگر اس کا راستہ بھی موقع پر پہنچنے والی پولیس موبائل نے روک رکھا تھا۔ جس پر میں نے وکلا سے کہا کہ وہ پولیس اہلکاروں کو بتائیں کہ ایمولینس کو راستہ دیا جائے اور روڈ کو باقی ٹریفک کے لیے بند کروایا جائے تاکہ دیگر ایمبولینس موقع پر پہنچ سکیں۔‘

ڈاکٹر شیلا سمیع کے مطابق ’پہلی ایمبولینس کے بعد ایدھی کی تین منی ایمبولینسز پہنچ سکی تھیں مگر ان میں بھی مناسب سہولتوں کا فقدان تھا۔‘

ڈاکٹر شیلا سمیع کا کہنا تھا ’انھوں نے ڈاکٹر بنتے ہوئے حلف لیا تھا کہ ہر صورت میں انسانی جان بچانے کی کوشش کریں گی۔ اس میں عورت، مرد، مقام اور جگہ کی تفریق نہیں ہوگی بس آٹھ اگست کو اپنا حلف نبھانے کی کوشش کی ہے ۔‘ان 45 منٹوں کے دوران ڈاکٹر شیلا سمیع نے کئی قیمتی جانوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر کے ان کی جان بچائی۔

ایک زخمی وکیل کے بھائی اسرار اﷲ کاکٹر جن کا بھائی کراچی میں زیر علاج ہے کا ڈاکٹر شیلا سمیع کے بارے میں کہنا ہے ’وہ نہ صرف خاتون اور بہادر ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ رحمت کا فرشتہ ہیں جن کی طبی امداد کی وجہ سے میرے بھائی کی زندگی بچ گئی ہے۔‘
وکلا تنظیموں اور کوئٹہ کے سیاسی و سماجی حلقوں نے ڈاکٹر شیلا سمیع کو بہادری کا اعلیٰ ایوارڈ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں