10 روپے کے سکے کا اجراء کرنسی کے لیے تباہ کن ہو گا

کراچی(این این آئی) وفاقی کابینہ کی جانب سے 5روپے کے سکے کے ڈیزائن کی تبدیلی کے ساتھ10 روپے مالیت کے سکے کے اجرا کی منظوری کے حوالے سے ماہرین معاشیات نے اس حکومتی عمل کو کرنسی کی قدر کیلئے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ 10روپے کے نئے سکے کے اجرا کی منظوری سے مہنگائی کی شرح میں ہوشربا اضافے اور کرنسی کی قدر میں گراوٹ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

مستقبل قریب میں10روپے کا نوٹ مکمل طور پر ختم کردیا جائے گا اور اس عمل سے ایک طرف جہاں افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوگا وہیں دوسری جانب کرنسی کی قدر میں بھی کمی واقع ہوگی۔ ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہد صدیقی نے خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ 6 ماہ یا ایک سال کے دوران پاکستانی روپے کی قدر بری طرح گرنے والی ہے۔

بنیادی بات یہ ہے کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے، سکے کی وقعت ختم ہوگئی ہے، تاہم اس سے کرنسی کی گراوٹ کو نہیں روکا جاسکتا۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ 40ہزار کے پرائز بانڈ اور 5ہزار کے نوٹ ختم کرتی لیکن سمگلروں، بھتہ خوروں، رشو ت خوروں اور کرپشن کیلئے اسے جاری رکھا ہوا ہے کرنسی کی قدر روز بروز گرتی جا رہی ہے۔ جب تک بچتوں کے بجائے قرضوں پر انحصار کر کے معیشت کو چلاتے رہیں گے پاکستانی روپے کی قدر مستحکم نہیں ہوسکتی

معیشت کو استحکام اسی وقت مل سکتا ہے جب روپے کو استحکام ہو ویسے بھی جب درآمدات 45ارب ڈالر اور بر آمدات 22ارب ڈالر ہوں تو معیشت مستحکم نہیں ہوتی، خرم شہزاد نے کہا کہ 10 روپے کے سکے کے اجرا سے 10 روپے کی افادیت کم ہو گی۔ امریکہ میں 100 ڈالر سے زائد کے کرنسی نوٹ موجود ہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں