فتح‌جنگ: عوامی رابطہ کم ہونے کے باعث‌زین الہی کی مقبولیت کو اگلے الیکشن میں‌خطرہ

فتح جنگ(تحصیل رپورٹر)حلقہ این اے59اٹک سے منتخب میجر گروپ کے ممبر قومی اسمبلی زین الہی کا عوام سے رابطہ نہ ہونے کے برابر، (ن) لیگ کے ضلعی جنرل سیکرٹری و سابق امیدوار برائے قومی اسمبلی آصف علی ملک ایڈووکیٹ ایکٹیو ہونے کے باعث عوام میں مقبول ہو گئے آئندہ الیکشن میں میجر گروپ ایک نشست سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا(ن) لیگ کے ووٹ بنک میں مزیداضافہ ہونے لگا پیپلز پارٹی کے ورکرز کنونشن اور تنظیم نو کے فیصلوں کے بعد جیالے متحرک ہو چکے ہیں اور پارٹی گراف پہلے سے کافی بہتر دکھائی دیتا ہے سابق وزیر مملکت سردار سلیم حیدر خان اپنے ساتھیوں اختر حسین بٹ،سردار ناصر خان بنگو،غلام صابر مسعود،ملک ریاض و دیگر کے ہمراہ عوام سے رابطہ میں ہیں اور انکی عوامی رابطہ مہم کے نتیجہ میں متعدد گروپ پیپلز پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ پی ٹی آئی تیسرے درجے کی جماعت بن چکی ہے جس کی بڑی وجہ پارٹی قائدین کی آپس میں کھینچا تانی اور اختلافات ہیں تفصیلات کے مطابق فتح جنگ،حسن ابدال پر مشتمل حلقہ این اے59سے میجر گروپ کے ایم این اے زین الہی جو کہ سابق ضلع ناظم میجر (ر) طاہر صادق خان کے صاحبزادے بھی ہیں نے الیکشن جیتنے کے بعد عوام کی امیدوں پر پورا اترنا تو درکنار ان سے رابطہ ہی ختم کر دیاہے شادی،غمی کی تقریبات میں کبھی کبھار دکھائی دیتے تھے لیکن اب وہ سلسلہ بھی ختم ہو چکا وہ زیادہ تر لاہور میں ہی ہوتے ہیں انکی جگہ میجر طاہر صادق ہی عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایک منتخب ممبر قومی اسمبلی کا حلقہ کی عوام سے ناطہ توڑنے پر انکے سیاسی مخالف حلقہ این اے59سے سابق امیدوار و ضلعی جنرل سیکرٹری (ن) لیگ آصف علی ملک ایڈووکیٹ تما م تر کریڈٹ حاصل کر رہے ہیں انہوں نے نہ صرف عوام وے رابطہ رکھا ہوا ہے بلکہ ترقیاتی کاموں کے جال بھی بچھا رہے ہیں آصف علی ملک ایڈووکیٹ نے فتح جنگ شہر میں واٹر سپلائی سکیم،پبلک پارک،عاشقان رسول چوک،اوور ہیڈ بریج،چاساں والی ڈھیری جنازہ گاہ سمیت متعدد کام کروائے ہیں جس پر عوام ان کی حمایتی دکھائی دے رہی ہے موجودہ صورتحال میں اگر موازنہ کیا جائے تو آصف علی ملک ایڈووکیٹ جو کہ چند سو ووٹوں سے زین الہی سے ہار گئے تھے اپنی موجودہ بہترین کارکردگی کی بنا پر بازی جیت چکے ہیں اگر میجر گروپ کے ایم این اے زین الہی اسی روش پر چلتے رہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ میجر گروپ جو کہ گزشتہ الیکشن میں پورے ضلع سے صرف یہی سیٹ جیت سکا تھا سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا موجودہ صورتحال میں جب ضلعی و تحصیل چیئر مین شپ کے لئے جوڑ توڑ جاری ہیں اگر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ملک ریاست سدریال جنہیں ضلع اٹک کی تمام لیگی قیادت کی سپورٹ حاصل ہے الیکشن جیت کر عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں تو اٹک میں (ن) لیگ کا مقابلہ کرنا کسی بھی سیاسی جماعت یاگروپ کے لئے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو گا۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں