80 کی دہائی میں محمود عباس روسی ایجنٹ تھے: اسرائیل

اسرائیلی تحقیق دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس 80 کی دہائی میں سوویت انٹیلیجنس ایجنسی کے جی بی کے ایجنٹ ہوا کرتے تھے۔

یروشلم میں ہیبریو یونیورسٹی کے تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ سوویت دستاویزات میں محمود عباس کو بطور ایجنٹ دکھایا گیا ہے۔

تاہم فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ترجمان نے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے اس کو اسرائیل کا پروپیگینڈا قرار دیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس قسم کے الزام لگا کر اسرائیل ایک بار پھر شروع ہونے والے امن مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

تحقیق دان گیڈیئن ریمیز اور ازابیلا گینر کا کہنا ہے کہ کیمبرج یونیورسٹی کے آرکائیو میں موجود دستاویزات میں محمود عباس کو اس وقت ایجنٹ دکھایا گیا ہے جب وہ 80 کی دہائی میں شام کے دارالحکومت دمشق میں رہائش پذیر تھے۔

یہ دستاوی سوویت یونین سے بھاگ کر برطانیہ آنے والے شخص نے برطانیہ کے حوالے کیے تھے۔ اس دستاویز کو کیمبرج یونیورسٹی کے چرچل آرکائیو سینٹر نے مستند قرار دیا ہے۔

اس دستاویز کا نام ’کے جی بی ڈیویلپمنٹس: 1983‘ اور اس میں محمود عباس نے اپنے آپ کا ’کروٹوو‘ یا ’جاسوس‘ کے نام سے تعارف کرایا ہے۔

اس دستاویز کے مطابق ’کروٹوو عباس محمود 1935 میں پیدا ہوئے، فلسطینی ہیں، فتح پی ایل او کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن ہیں، دمشق میں کے جی بی کے ایجنٹ ہیں۔‘

صدر محمود عباس کے ایک مشیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کا پروپیگنڈا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو امن مذاکرات کے لیے محمود عباس سے ملنے سے ہچکچا رہے ہیں اور مذاکرات روسی صدر ویلادیمیر پوتن کی کوششوں کا نتیجہ ہیں جو خود بھی کے جی بی میں رہ چکے ہیں

محمود عباس 1935 میں برطانیہ کے زیر انتظام فلسطین میں پیدا ہوئے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد وہ اپنے خاندان سمیت دمشق چلے گئے اور انھوں نے ادھر ہی تعلیم حاصل کی۔

انھوں نے 1959 میں یاسر عرفات کے ساتھ مل کر فتح تنظیم قائم کی اور 1964 میں قائم ہونے والی پی ایل او میں اہم عہدے پر قائز رہے۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار تھامس فیسی کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس دستاویز میں محمود عباس کی ذاتی معلومات درست ہیں لیکن اس دستاویز میں یہ نہیں کہا گیا کہ محمود عباس کو کب اور کیسے کے جی بی کا ایجنٹ بنایا گیا۔ اس دستاویز میں یہ بھی نہیں کہا گیا کہ آیا کے جی بی ان کو رقم دے رہی تھی یا نہیں اور انھوں نے کے جی بی کے لیے کتنا عرصہ کام کیا۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ پی ایل او 80 کی دہائی میں کھلے عام ماسکو سے کام کر رہی تھی اور محمود عباس کا ایجنٹ ہونا ضروری نہیں تھا۔

160908130718_israel_channel1_kgb_abbas_624x351_israelchannel1_nocredit

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں