حج: حادثات سے بچاؤ کے لیے سخت سکیورٹی

پوری دنیا سے ہر سال تقریباً 20 لاکھ مسلمان حج کرنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔

یہ اجتماع چھ دن تک رہتا ہے لیکن گذشتہ برس بہت تباہ کن تھا، سینکڑوں اور ممکنہ طور پر ہزاروں افراد جن میں زیادہ تر تعداد ایرانیوں کی تھی اس اجتماع کے تیسرے روز مارے گئے تھے۔

حج کے اجتماع کے دوران گذشتہ دو دہائیوں میں یہ سب سے بدترین حادثہ تھا۔

اس بار عازمین حج میں ایرانی شامل نہیں کیونکہ تہران اور ریاض کے درمیان حج انتظامات کے حوالے سے کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہوسکا اور سفارتی سطح پر کشیدگی برقرار ہے۔

ایران کا موقف ہے کہ سعودی عرب اُسے عازمینِ حج کی حفاظت کی گارنٹی نہیں دے رہا جبکہ سعودی عرب کا خیال ہے کہ ایران اس سے خصوصی مراعات لینے کی خواہش رکھتا ہے۔

سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان منصور ترکی کہتے ہیں کہ ’ایران حج کو سیاسی رنگ دینا چاہتا ہے، وہ احتجاج کرنا چاہتے ہیں، ہم انھیں مذہبی اجتماع کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ای بریسلٹ

مکہ میں موجود اسلام کے مقدس ترین مقام کعبہ کی جانب جانے والے راستے پر سکیورٹی چیک پوسٹیں موجود ہیں۔

جیسے ہی ہم ایک سے دوسری کی جانب بڑھے وہاں موجود افسران نے ہماری شناختی دستاویز اور فلمنگ کٹ کی مکمل تلاشی لی۔

کعبہ سے چند میل دور سڑکوں کو بلاک کی مدد سے بند کر دیا گیا ہے اور وہاں گاڑیاں داخل نہیں ہو سکتی، صرف پیدل چلنے والوں کو گذرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

وہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جو عازمینِ حج کے بڑھتے ہوئے اجتماع کو کنٹرول کرنے اور کسی بھی افراتفری سے بچنے کے لیے کوشاں ہیں۔

حج کرنے کے لیے وہاں آنے ایک درمیانی عمر کے شخص نےکہا کہ ’میرے خیال سے سکیورٹی شاندار ہے، لیکن زیادہ لوگوں کی وجہ سے یہاں حادثات ہوتے رہتے ہیں۔‘

’ہجوم کنٹرول سے باہر ہوسکتا ہے لیکن میں یہاں اپنی موجودگی پر بہت خوش ہوں۔‘

لیکن بہت سے عازمینِ حج پریشان ہیں۔

الجیریا سے آنے والی ایک خاتون نے کہا کہ وہ ممکنہ طور پر کسی نئی بھگدڑ سے بہت خوفزدہ ہیں۔ ’میں پرامید ہوں کہ حج اچھی طرح سے آگے بڑھے گا، میں نہیں چاہتی کہ جو کچھ گذشتہ سال ہوا وہ دوبارہ ہو۔‘

بھگدڑ کے نتیجے میں جب لوگوں کی ہلاکت ہوئی تھی تو حکام کے لیے مرنے والوں کی شناخت کرنے میں بہت دشواری ہوئی۔

اب کی بار کسی بھی حادثے کے باعث ویسی ہی صورتحال سے بچنے کے لیے حاجیوں کے لیے الیکٹرانک بریسلٹ کا انتظام کیا گیا ہے۔

ہر حاجی کو کلائی پر باندھنے کے لیے ایک بریسلیٹ دیا گیا ہے جو کہ ان کے سمارٹ فون سے منسلک ہوگا اور اس سمارٹ فون میں ایک ایپ ہے جس کا نام ’حج بریسلیٹ‘ رکھا گیا ہے۔

سعودی عرب میں وزارتِ حج سے منسلک عیسیٰ راوس کا کہنا ہے کہ اگر آپ اس ایپ کو کھولیں تو اس پر بریسلیٹ کا بارکوٹ ہوگا اس کے ذریعے آپ کو حاجی کی تمام معلومات مل جائیں گی۔ جس میں تصویر، نام، عمر اور قومیت شامل ہوگی۔

اس نئی ٹیکنالوجی سے ان حجاج کو ڈھونڈنے میں مدد ملے گی جو لاپتہ ہو جائیں یا انھیں چوٹ لگی ہو۔

سعودی حکام اس بار اپنی لاجسٹک صلاحیتوں کی مدد سے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ اس سال حج کسی حادثے کے بغیر گزر جائے۔

لیکن جب لاکھوں لوگ ایک محدود وقت اور جگہ میں ارکان ادا کر رہے ہوں تو کسی حادثے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں