عیدالاضحی کی تیاریاں زور و شور سے جاری، قصابوں نے اوزار تیز کرلئے

صوبائی دارالحکومت لاہور میں عیدالاضحی کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ عید میں صرف دو دن باقی رہ گئے ہیں جس کی بناءپر زیادہ تر لوگوں نے اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کے جانور خرید لئے ہیں۔ جبکہ خریداری کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ عید کا چاند نظر آنے سے !پہلے جو جانور منڈیوں تک محدود تھے اب گلی محلوں تک پہنچ گئے ہیں۔

قصابوں نے بھی اپنے اوزار تیز کرنے کے لئے خرادیوں کو دے دیئے ہیں جبکہ نام نہاد قصابوں نے گلی محلوں سے جانور ذبح کرنے کے لئے ایڈوانس میں پیسے وصول کرنے شروع کردیئے ہیں۔ پردیسیوں نے عید اپنے پیاروں کے ساتھ منانے کے لئے اپنے آبائی علاقوں میں جانا شروع کردیا ہے۔ نوائے وقت سروے کے مطابق مویشی منڈیوں کے علاوہ پارکوں اور سڑکوں کے کناروں پر بھی قربانی کے جانور موجود ہیں جہاں سے لاہوری اپنی استطاعت کے مطابق جانور خرید رہے ہیں۔

حکومتی پالیسی کی وجہ سے عام دنوں میں چونکہ مویشی لاہور کے اندر نہیں رکھے جاسکتے، اس لئے قربانی کے موقع پر لاہور کے اندر بڑی تعداد میں بکروں، دنبوں، چھتروں، بچھڑوں اور اونٹوں نے عجیب سا ماحول پیدا کردیا ہے۔ بچے، جوان، بوڑھے سب ان جانوروں کی خدمت بھی کررہے ہیں۔ اس مرتبہ قیمتیں زیادہ ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ قربانی کے جانوروں کی خریداری کررہے ہیں۔ اصل قصابوں کے علاوہ نام نہاد قصابوں نے بھی قربانی کے جانوروں کا گوشت تیار کرنے کے لئے ابھی سے بکنگ شروع کردی ہے۔

نوائے وقت کی جانب سے کئے جانے والے ایک سروے میں قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ نوسربازی کی ایک دلچسپ شکایت بھی سامنے آئی۔ نوسربازی کا یہ واقعہ جوہر ٹاﺅن میں پیش آیا جہاں ایک شخص نے 5 بکروں کا سودا ڈیڑھ لاکھ روپے میں طے کیا اور ایڈوانس میں 7 ہزار روپے دیئے۔ باقی پیسوں کے لئے اس نے اپنے ساتھی کو فون کیا جو ایک ویگن لے کر آگیا۔ خریدار نے کہا کہ بکرے ویگن میں لوڈ کردیں۔ جب بکرے لوڈ ہوگئے اور بیوپاریوں نے پیسے طلب کئے تو نوسرباز وہاں سے فرار ہوگئے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں