فتح جنگ شہر اور گردونواح میں چائلڈ لیبراور لیبر ایکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی

فتح جنگ ( تحصیل رپورٹر)
فتح جنگ شہر اور گردونواح میں چائلڈ لیبراور لیبر ایکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری حکومت کی جانب سے کم از کم اجرت کے قانون کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں۔

پرائیویٹ ادارے بیگار کیمپ بن چکے ہیں حکومت قوانین بنا کر ان پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنائے تفصیلات کے مطابق وزرات محنت اور دیگر متعلقہ اداروں کی عدم توجہی اور فرائض سے غفلت کی وجہ سے کم سن بچوں سے مشقت کا دھندا دھڑلے سے جاری ہے پٹرول پمپوں ،بڑی دکانوں ،ہوٹلوں ،اور ورکشاپوں میں دس سے پندرہ سال کی عمر کے بچوں سے مشقت کا سلسلہ جاری ہے

محکمہ لیبر کے افسران اور اہل کاروں لمبی تان کر سوئے ہیں جبکہ حکومت پنجاب کے کم از کم اجرت جو 13ہزار مقرر کی گئی تھی اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے پرائیویٹ تعلیمی اداروں ،پٹرول پمپوں ،بنکو ں،بڑی دکانوں ورکشاپوں اور ہوٹلوں میں کام کرنے والے افراد کا تین ہزار سے آٹھ ہزار تنخواہ دی جاتی ہے بالخصوص تعلیمی اداروں میں بی اے اور ایم اے تعلیمی قابلیت رکھنے والے مجبورا تین تین ہزار روپے تنخواہ پر پڑھا رہے ہیں

پٹرول پمپوں اور بنکوں میں جان ہتھیلی پر رکھ کر سیکورٹی کے فرائض سرانجام دینے والوں سے بھی یہی سلوک کیا جا رہا ہے سیکورٹی کمپنیاں ،تعلیمی ادارے ہوٹل اور ورکشاپیں بیگار کیمپ بنے ہوئے جہاں انسانیت نام کی کوئی شے نہیں ہے جبکہ متعلقہ اداروں کے افسران اور اہل کاراس حوالے سے اپنے فرائض سرانجام نہیں دے رہے یا پھر ان کی ملی بھگت سے محنت کشوں کا استحصال جاری ہے محنت کش حلقوں نے وزارت محنت ،متعلقہ اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں