فتح جنگ: حساس اداروں‌کی رپورٹ‌کے باوجود تا حال غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف آپریشن نہ ہوسکا

فتح جنگ (صداقت محمود مٹھو سے )شربت گلہ کو جعلی شناختی کارڈ بنوانے پر سزا۔فتح جنگ کے سینکڑوں غیر ملکی جعلی دستاویزات پر نادرا شناختی کارڈ حاصل کرنے کے بعد پاکستان کے شہری بننے والے افغانیوں کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہو سکی۔تصدیقی عمل سے بھی کوئی فرق نہ پڑا،حساس اداروں کی رپورٹس کے باوجود فتح جنگ جیسے حساس علاقے میں نیشنل ایکشن پلان،قانون کرایہ داری کے تحت کوئی موثر کاروائی نہیں کی گئی۔مقامی آبادی عدم تحفظ کا شکار،حکومتی مہلت ملنے سے وطن واپس جانے کیلئے تیار افغانیوں نے پھر ڈیرے ڈال لئے،جائداد کی خریدوفروخت کا عمل بھی زورو شور سے جاری،محکمہ مال کی چاندی ہو گئی،وزارت داخلہ اور سیکورٹی اداروں سے نوٹس لینے کا مطالبہ،

تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ نے کچھ عرصہ قبل یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں بالخصوص افغانیوں کی جانب سے نادرا اہل کاروں کی ملی بھگت سے جعلی دستاویزات پر حاصل کئے جانے والے لاکھوں شناختی کارڈوں کی تصدیق کی جائے گی جعلی شناختی کارڈ بنانے بنوانے تصدیق کنندگا ن اور سہولت کاروں کو سزائیں دی جائیں گے اس فیصلے کو عوامی سطح پر زبردست پذیرائی ملی ہے اٹک بالخصوص فتح جنگ شہر اور تحصیل میں ہزاروں افغانیوں نے جعلی دستاویزات پر نادرا شناختی کارڈ حاصل کر رکھے ہیں جن کی تصدیق مقامی عوامی نمائندوں اور نمبرداروں نے کی ہے اس فیصلے کے بعد افغانیوں میں کھلبلی مچ گئی تھی جبکہ سہولت کار اور تصدیق کنندگا ن بھی سخت پریشانی کا شکار تھے افغانیوں نے جعلی شناختی کارڈوں پر کروڑوں روپے کی جائیدادیں،دکانیں کمرشل مارکیٹیں اور پلازے بنا رکھے ہیں جعلی دستاویزات پر شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کرنے والی افغانی انتہائی پریشانی کا شکار جبکہ سہولت کار بھی پریشان تھے اگر شربت گلہ کو تو عدالت نے جعلی شناختی کارڈ بنوانے کے جرم میں سزا دے دی تاہم فتح جنگ کے علاقے میں مقیم ہزاروں افغانی جنھوں نے جعلی دستاویزات پر شناختی کارڈ حاصل کر رکھے ہیں کو محض نوٹس دئیے گئے اور کوئی کاروائی نہ ہوئی جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت بھی سیکورٹی اداروں نے اس حسا س علاقے میں کوئی موثر کاروائی نہیں کی جس کی وجہ سے مقامی آبادی شدید عدم تحفظ کا شکار ہے عوامی حلقوں نے وزارت داخلہ،سیکورٹی اداروں اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کروانے کے ذمہ داروں سے سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں