پہلی شاہراہ ریشم ٹرین چین سے برطانیہ پہنچ گئی

۱۲،۰۰۰ کلومیٹر (۷،۴۵۰ میل) بین البراعظمی سفر اور ۱۸ دن بعد چین کی جانب سے پہلی مال بردار ٹرین بدھ کو برطانیہ میں پہنچی.
جدید دور کے “شاہراہ ریشم” طویل سفر کے ساتھ تجارت مغربی یورپ کے ساتھ تجارتی روابط اور راستوں کو مضبوط کرنے کیلئے چین کا تازہ ترین اظہار ہے.
ییلو اینڈ ریڈ جو ایک ڈچلینڈ کی کمپنی مال بردار ٹرین کے ساتھ مشرقی لندن بارکنگ میں پہنچی۔
افتتاحی وقوعہ پر لکھے بینر” چین سے برطانیہ کی پہلی مال بردار ٹرین – ییوو سے لندن – جنوری 17 “کوعبور کیا۔
یہ ٹرین کپڑوں اور دیگر اشیاء جو ۲۴ کنٹینرز سے بھری ہے، اس سے بہت کم ہے جو مال بردار بحری جہاز ۲۰ سے ۳۰ ہزار کنٹینرز کو بیک وقت پہنچاتے ہیں۔
ٹرین چین کے صنعتی شہر ییوو سے یکم جنوری کو قزاقستان، روس، بیلا رس، پولینڈ، جرمنی، بیلجیئم اور فرانس چینل ٹنل کے ذریعے عبور کر کے برطانیہ میں داخل ہویٗ۔
ٹرین جو پہنچای وہ چین سے چلنے والی سے مختلف تھی کیوںکہ مال اور باقی کے سامان کو سابقہ سوویت یونین میں ریلوں کے درمیان فاصلے کی زیادتی کی وجہ سے بدلا گیا۔
لندن ۱۵ ہواں شہر ہے جسے نئے مال برداری کے نیٹ ورک سے منسلک کیا گیا جو چین کے سرکاری ریلوے کارپوریشن کی جانب سے پیش کردہ تھا۔ یہ ہوائی نقل و حمل سے سستا اور شپنگ کے مقابلے میں تیز ہے۔

چین، دنیا کی سر فہرست رجارتی قوم، ۲۰۱۳ میں ایک نیا روٹ “شاہراہ ریشم” متعارف کرایا جو ایشیا، روس اور یورپ بھر میں تجارتی تعلقات کو مضبوط کریگا۔

18 جنوری، اے ایف پی نیوز

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں