پاکستان کے بازارِ حصص میں پچاس ہزار کی نفسیاتی حد عبور

پاکستان کا بازارِ حصص میں منگل کو تاریخی تیزی رہی اور پی ایس سی ہنڈرڈ انڈیکس پہلی مرتبہ پچاس ہزار کی نفسیاتی حد عبور کرگیا۔
اگرچہ یہ حد زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکی اور دن کے اختتام پر 50 ہزار سے نیچے آ گیا۔
سرمایہ کاروں کے مطابق اگر ڈالر سو روپے کا ہوتا تو آج ہم 100 ارب ڈالر کی مارکیٹ بھی بن جاتے کیونکہ اس وقت مارکیٹ دس ہزار ارب روپے کی ہو چکی ہے۔
اس بارے میں بازارِ حصص کے ماہر ظفر موتی نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ ملک کے معاشی اعداد و شمار بہتری کی جانب گامزن ہیں، شرح سود اپنی کم ترین سطح پر ہے، پاکستان اور چین کے اقتصادی راہداری کے منصوبے کے ضمن میں آنے والی سرمایہ کاری مثبت سمجھی جارہی ہے اس کے علاوہ ڈالر کی قدر میں استحکام ہے اور سب سے بڑھ کر مقامی سرمایہ کار کا اعتماد قائم ہے کیونکہ پاکستان بھارت کے درمیان کشیدگی کے باعث جب بیرونی سرمایہ کاروں نے حصص بیچے تو مقامی افراد نے ہی خریدے۔
منگل کو پچاس ہزار کی حد برقرار نہ رکھنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ صرف 32 پوائنٹس کی کمی ہے جو مارکیٹ کا اعشاریہ صفر صفر ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ دن کے اختتام پر منافع خوری ہوتی ہے اس لیے ایسا کل ہوجائے گا۔
سرمایہ دار طبقے کے لیے تو یہ بہت خوش آئند معاملے ہے مگر کیا اس میں عام آدمی کے لیے بھی کوئی اچھی خبر چھپی ہوئی ہے، اس بارے میں ظفر موتی کا کہنا تھا کہ ’اس میں ابھی مزید دو سال لگ سکتے ہیں‘ کیونکہ ابھی تو یہ سب ٹھیک ہونا شروع ہی ہوا ہے اور اس کا اثر نیچے جاتے جاتے وقت لگے گا کیونکہ اب بھی ملکی شرح پیداوار میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا ہے اور ڈالر کی قیمت بھی سو روپے سے اوپر ہی ہے۔
ظفرموتی نے بتایا کہ ابھی تک حکومت کی جانب سے ڈالر کو سو روپے کے اندر رکھنے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں اسی لیے مستقبل قریب میں ڈالر کی قیمت میں کمی ہوتی نظر نہیں آرہی جو بہرحال درآمدات کے لیے تشویش کی بات ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں