پی ایس سی اے کے جدید ٹریفک سسٹم کا لاہورمیں آغاز

کیمرے ٹریفک کی روانی کے دوران خلاف ورزی کرنے والے کو پکڑ کر ای اینڈ ٹی کے تعاون سے وہیکل رجسٹریشن نمبر کے ذریعے ان کا چالان کریں گے۔ اس وقت کیا عالم ہو گا جب اردگرد سے تمام لوگ جمع ہوں، آپ کو وہاں انتظار کرتے ہوئے 15منٹ ہو چکے ہوں اور آپ کی گاڑی ایک انچ بھی آگے نہ بڑھی ہو۔ آپ پہلے ہی گھر سے دیر سے نکلے تھے، اور آپ کے پاس میٹنگ میں شریک ہونے کیلئے کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ آپ سڑک پر پھیلی ہوئی بےچینی دیکھ رہے ہیں ہر کوئی کاروں کے ہارن بجا رہا ہے۔ وہاں پر کوئی وارڈن بھی نہیں ہےجو لوگوں کو اس صورتحال سے نکالنے میں مدد دے۔ آپ اپنی کار سے نکلتے ہیں کہ پتہ چلائیں مسئلہ کیا ہے۔ تب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ ٹریفک سگنل کام نہیں کررہا۔ جس کی وجہ سے کاریں، بسیں، گدھا گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں ہر سمت سے آکر پھنس گئی ہیں ۔ یہ لاہور ہے آپ کو لاہور میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ گزرتے سالوں میں لاہور میں ٹریفک کا اژدھام بڑھ چکا ہے۔ جبکہ اس بڑھتے پھیلتے شہر میں سفر کے اوقات کم کرنے کیلئے سگنل فری کوریڈور، اوور ہیڈ پلوں اور انڈرپاسز تعمیر کئے گئے ہیں اس کے باوجود مصروف ترین اوقات میں پھر وہی ـ’’نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن ‘‘والی صورتحال ہو جاتی ہے ۔

یہ مسئلہ صرف قدیم ٹریفک نظام کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے جس کو جلد ہی حل کرلیا جائے گا۔ حال ہی میں قائم پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کا شعبہ شہر کیلئے ایک مربوط ٹریفک کے نظام پر کام کر رہا ہے۔ ٹی آر پاکستان نے اس نظام کو سمجھنے کیلئے پی ایس سی اے کے چیف آپریٹنگ افسر اطہر اسماعیل کا انٹرویو کیا۔ سٹی ٹریفک پولیس نے وقت کے ساتھ ٹریفک کے نظام میں تبدیلیاں کی ہیں لیکن زیادہ تر بنیادی ڈھانچہ ویسے کا ویسا ہی ہے۔ پی ایس سی اے کا محکمہ پہلے ہی سروے کر چکا ہے کہ اس نظام کا کون سا حصہ درست کام کررہا ہے اور کسے رد کردینا چاہئے۔ پی ایس سی اے ٹریفک انجینئرنگ اور ٹرانسپورٹ پلاننگ ایجنسی (TEPA)کے تعاون سے سڑکوں پر رفتار کی حد سمیت مختلف حفاظتی معلومات کیلئے سائن بورڈ نصب کرے گا۔ منتخب سی ٹی پی کے عہدیداروں کو ان کے ٹریفک کے ماڈیول کے مطابق دبئی میں تربیت دی گئی ہےانہیں بھی لاہور میں متعارف کرایا جائے گا ۔

ٹریفک سگنل کی اٹو میشن
اطہر اسماعیل کہتے ہیں کہ اس وقت شہر بھر میں مختلف سائز کی ٹریفک لائٹنس کام کررہی ہیں۔ کچھ سگنلز بڑی سڑکوں پر خودکار ٹائمر پر چلائے گئے ہیں جبکہ زیادہ تر سگنلز کو خود چلانا پڑتا ہے۔ پی سی اے تمام ٹریفک سگنلز اور لائیٹس کو خودکار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق کررہی ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ٹریفک لائٹس مخصوص فاصلے سے واضح طور پر نظر آئیں۔ بنیادی ڈھانچے میں دیگر تبدیلیوں میں ایل ای ڈی لائیٹس اور مضبوط مٹیریل سے بنے ٹریفک سگنلز کے نئے کھمبے ہیں۔

موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کیلئے کراسنگ اور لین
ان نئے کھمبوں میں پیدل چلنے والوں کیلئے اشارے نصب ہوں گے جو راہگیروں کی زیبراکراسنگ کے ذریعے سڑک پار کرنے کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ شہر میں کسی موٹر سائیکلوں کیلئے کسی سڑک پر علیحدہ لین نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ کچھ بڑی سڑکوں پر موٹر سائیکل سواروں کیلئے کونز کھڑی کرکے عارضی پارٹیشن کی گئی ہے۔ تاہم ان اقدامات کی کامیابی محدود کر دیا گیا ہے۔ نئے ٹریفک کے انتظام کے نظام کے تحت اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے موٹر سائیکلوں سواروں کیلئے علیحدہ لین لگائی جائیں گی۔

ٹریفک کی نگرانی کیلئے کیمروں کانیٹ ورک
پی ایس سی اے شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کے بہائو اور سگنلز کی خلاف ورزی کی نگرانی کرنے کیلئے آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن کیمرے نصب کرے گی۔ یہ کیمرے گاڑیوں کی نمبر پلیٹس رجسٹریشن پڑھنے کے اہل ہوں گے۔ ان کیمروں کے آپریٹنگ سسٹم میں تمام ٹریفک خلاف ورزیوں کی معلومات موجود ہوں گی۔ ان کیمروں مین ان گاڑیوں کی نشاندہی کرنے کی اہلیت ہے جو لینز تبدیل کرتے وقت یا ریڈ لائیٹ عبور کرتے ہوئے یا ڈرائیوروں کے سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر یا موٹر سائیکل سواروں کے ہیلمٹ نہ پہننے قواعد کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ یہ کیمرے ان گاڑیوں کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں جو اکثر لین تبدیل کرتی ہیں۔ کسی ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر کیمرہ خودکار طریقے سے فوٹو کھینچ کر اس مخصوص سگنل یا مقام پر الارم بجائے گا۔ ہر کیمرہ ایک وقت میں دو لینز کی نگرانی کرے گا اور تین ٹریفک خلاف ورزیوں کی تصویر اتارے گا اور ان کے بارے میں رپورٹ بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ چوک پر لگائے گئے دو کیمروں نے چالیس روز میں سترہ ہزار ٹریفک کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کیں۔

سب سے کمزور کڑی
مسئلہ یہ ہے کہ یہ کیمرے صرف ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے محکمہ کی طرف سے جاری کردہ رجسٹریشن نمبرز ، گاڑی کے معیار رجسٹریشن کے ریکارڈ کو پڑھ سکتے ہیں۔ طاہر اسماعیل اس بارے میں فکر مند ہیں کہ اگر نمبر پلیٹ ٹی اینڈ ای کے معیار کے مطابق نہیں ہو گی تو بے قاعدگیوں کے حوالے سے کیمروں کی افادیت محدود ہوسکتی ہے۔ اس مسئلے سے بچنے کیلئے پی ایس سی اے نے ٹی اینڈ ای کے محکمے کا تعاون حاصل کیا ہے۔ ای اینڈ ٹی محکمے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قواعد وضوابط بہتر بنانے کیلے لائسنس پلیٹیں کی معیاری رجسٹریشن کو یقینی بنائیں ، ڈیٹا بیس میں خامیوں کو ٹھیک کرنے کے کیلئے اپنے نظام میں بنیادی تبدیلیاں لائیں۔ تاہم وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایکسائز بیوروکریسی اب بھی مربوط ٹریفک مینجمنٹ پلان کے عمل میں سب سے کمزور کڑی ہو سکتی ہے ۔

معیاری نمبر پلیٹ کے استعمال کو فروغ دینے کی مہم
پی ایس سی اے کا محکمہ جلد معیاری پلیٹوں کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے ایک مہم کا آغاز کرے گا۔ اس مہم کے دوران وہ نمبر پلیٹیں جو ٹی اینڈ ای کے معیار کو پورا نہیں کریں گی انہیں توڑ دیا جائے گا اور گاڑی کے مالکان کو انتباہ کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت نے پہلے غیر معیاری نمبر پلیٹیں بنانے والوں کیلئے پانچ سال قید کی سزا کا بل منظور کیا ہے۔ غیر معیاری نمبر پلیٹیں بنانے والی پچاس فیصد دکانیں پہلے ہی بند ہو چکی ہیں۔ پولیس ایک دن میں باقی دکانوں پر بھی کریک ڈائون کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن انہیں اور بہت سے کام ہیں۔ ای اینڈ ٹی محکمے نے پہلے ہی رجسٹریشن نمبر پلیٹوں کی ترسیل کی ذمہ داری ڈیلر وہیکل رجسٹریشن سسٹم کے تحت کار ڈیلر شپ کے حوالے کردی ہے۔

ای چالان سے بچو
ای اینڈ ٹی کا کردار محض مربوط نظام میں خلاف ورزیوں کا پتہ لگانے پر ختم نہیں ہو جائےگا۔ محکمے کے ڈیٹا بیس سے معلومات حاصل کرکے ٹکٹ یا چالان خلاف ورزیاں کرنے والے گاڑی کے مالکان کے پتے پر بھیج دیا جائے گا۔ ہر ای چالان پر خلاف ورزی کی چار مختلف تصاویر ہوں گی۔ اس میں تاریخ، وقت اور خلاف ورزی کی نوعیت ،جگہ اور ڈرائیونگ کی سمت درج ہوگی۔ ای چالان کیلئے ٹی اینڈ ای محکمہ کے ڈیٹا بیس سے گاڑی کے مالک کا نام ، شناختی کارڈ نمبر ، گاڑی کے رجسٹریشن، سال، رنگ اور انجن نمبر کی طرح کی دیگر معلومات حاصل کی جائیں گی۔ ‘ایکسائز شعبہ کو اپنے ڈیٹا بیس میں خامیوں کو ٹھیک کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ای چالان کی کامیابی کیلئے رجسٹریشن نمبرز کے ساتھ منسلک نامکمل گھر کے پتے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے پی سی ایس اے نے محکمے کو ہدایت کی ہے کہ گاڑی کے مالکان کے گھر کے پتے کے ساتھ سیل فون نمبر بھی حاصل کیا جائے۔ اس طرح نامکمل پتے کی صورت میں پوسٹ آفس گاڑی کے مالک سے رابطہ کرسکتا ہے۔ اگر گھر کا پتہ غلط ہو اور فون نمبر دستیاب نہ ہو یا غلط ہو تو شناختی کارڈ سے ڈیٹا حاصل کیا جائے گا۔

گاڑی کے رجسٹریشن کے قوانین میں ترامیم کی کوشش
اس کام کو آسان بنانے کیلئے پی سی ایس اے نے تجویز دی ہے کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن اسی شہر میں 30روز کے اندر کی جائے جہاں سے وہ خریدی گئی ہے۔ طاہر اسماعیل کہتے ہیں کہ اگر کار بیچی گئی ہے اور اس کا رجسٹریشن ریکارڈ مرتب نہیں کیا گیا تو ڈیلر گاڑی کے مالک پر پڑنے والے جرمانے کا ذمہ دار ہو گا۔ اس سے گاڑی کی بلاتاخیر منتقلی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

ادا نہ کئے گئے جرمانے
بین الاقوامی سطح پر شہریوں کے شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور بینک اکاؤنٹ کی معلومات حاصل کی جاتی ہیں تاکہ ٹریفک خلاف ورزیوں کی صورت میں احتساب کو آسان بنایا جاسکے، تاہم ابھی تک پاکستان میں ایسا نظام متعارف نہیں کیا گیا۔ اس طرح پی ایس سی اے تمام گاڑی کے مالکان سے ٹی اینڈ ای محکمے کے ذریعے قابل ادائیگی سالانہ ٹوکن ٹیکس کے تمام واجبات وصول کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مربوط ٹریفک کے انتظام کی کامیابی کی کلید
مربوط مینجمنٹ سسٹم شہر کی ٹریفک کے مسائل حل کرنے کیلئے تمام ضروری اجزاء کا حامل ہے لیکن اس کے کامیاب نفاذ کیلئے پی ایس سی اے اور دیگر سرکاری محکموں کے درمیان مسلسل تعاون بہت ضروری ہے۔

بشکریہ
ایم آئی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان
نشمیا سکھیرا

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں