دورہِ جی پی او لاہور

12 اکتوبر 2016 کو امریکا سے درآمد شدہ پیکجز بشمول آئی پی فون اور ایک عدد آئی فون، لینے جی پی او لاہور جانے کا اتفاق ہوا. طویل مسافت کے بعد جی پی او پہنچے، گائیڈنس ملنے کے بعد بیرونی ملک درآمدگی ڈپارٹمنٹ سے معلوم ہوا کہ ان مندرجہ بالا اشیاء کے لئے پی ٹی اے سے NOC درکار ہے. اس دھندے سے خائف ہو کر اور مصروفیات کی وجہ سے ذرا لیٹ ہو گئے.

لیکن 28 جنوری 2017 کو وقت نکال کے دوبارہ حاضری کا موقع ملا، صبح سویرے سرکاری اہلکاران کے بقول 9:30 بجے پہنچ گئے. قلیل انتظار کے بعد مطلوبہ اہلکار انسپکٹر منظور بھٹی کی آمد کی خبر موصول ہوئی. حاضری دی اور پتہ چلا کہ ہم لیٹ ہو گئے اورہمارا ریکارڈ اولڈ ریکارڈ کے حوالے کر دیا گیا ہے.اس سلسلہ میں ہمیں دوبارہ بروز سوموار چکر لگانا ہو گا کیونکہ اولڈ ریکارڈ ایڈمن بلاک میں آتا ہے اس لیئے افسران کی بروز ہفتہ چھٹی ہوتی ہے.

منت سماجت کی، کہ ہمیں دوبارہ چکر لگانا پڑے گا. اسی اضطراب میں ایک دو آفسزرز کے اہلکارسے سفارش کی درخواست کی کیوںکہ یہ کوئی نا ممکن کام نہیں تھا. لیکن بے سود. اسی دوران دوسری منزل کے ایک آفس میں براجمان چند مہذب افسران نے ھمیں نوٹ کر لیا. چند گھڑیاں اس کیفیت میں گزریں کہ ہمیں ان افسران نے اندر آنے کا کہا. تفصیل بتانے پر ایک افسر گویا ہوئے کہ انکو انسانیت کی تمیز ہی نہیں، بہرحال اپنا تعارف اور عہدہ بتانے پر افسران نے مضبوط انداز میں کام ہونے کی یقین دہانی کرائی اور سر اسد صاحب نے اپنے ساتھی انسپکٹر امجد صاحب سے رجوع کیا. معلوم ہوا کہ تقریبا آج ہی اس مسئلے کا حل نکل آئے گا. سلام دعا کے بعد انسپکٹر امجد صاحب کی جانب رخصت ہوئے.

انسپکٹر امجد صاحب نے بھی پر خلوص خوش آمدید کہا. حیرت کی انتہا نہ رہی جب اسی سیٹ کے ساتھ بیٹھے انسپکٹر منظور بھٹی پرنظر پڑی. لیکن بھٹی صاحب اب کچھ نہیں کہہ سکتے تھے. روداد جوں کی توں عرض کر دی. اور امجد صاحب نے اپنے ماتحتوں سے ہمارے پیکج کی کاربن کاپی طلب کی، ماتحت بھی ایسے گویا کوئی افسر، چیختی ہوئی آواز سے ماتحت نے وہ کاپی نکال دی.

قوانین حکومت پاکستان کے مطابق استعمال شدہ موبائیل فون درآمد ہوں تو وہ ضبط کر لیئے جاتے ہیں. لیکن IMEI بغیر تمام الیکٹرانک ڈوائسز کے NOC کی ضرورت نہیں ہوتی. یہ تمام معلومات PTA کی ویب سائیٹ پر موجود ہیں.

مندرجہ بالا معلومات امجد صاحب کو بھی بتائیں. دکھڑا سننے کے بعد امجد صاحب گویا ہوئے، آپ پریشان نہ ہوں آئے روز شراب جیسی چیز یہاں سے ریسیو ہو سکتی ہے آپکا فون ق نہیں، تسلی رکھیں. چند ہی منٹوں میں کیس تیار کر لیا گیا ہر بھٹی صاب کو پیش کر دیا کہ گھگی مار دیں. بیزاری کی حالت میں عمل کرنا پڑا.

اب باری تھی کہ appraiser جناب امجد صاحب کے پاس کسٹم ڈیوٹی کلیئر کرائی جائی، جناب کے خدوخال سے بڑے سمارٹ لگ رہے تھے. لیکن اندازہ اس وقت غلط ہوا جب آپ نے کیس کو مسترد کر دیا کہ NOC کے بغیر کسٹم کلیئر نہیں کرسکتا. یہ ہی وہ اشارہ تھا کہ بھائی اب بابا جی کا سوچو. فی الوقت دوبارہ امجد بھائی کے پاس حاضر ہوئے کہ کچھ گائیڈ کریں. انھوں نے کہا کہ وہ سمجھدار شخص ہیں آپ سمجھائیں مان جائیں گے. لیکن جب دوبارہ جانے پر کسٹم بتایا گیا کہ اسکے لیئے 12 ہزار جمع کرانے ہوں گے. اور تو اور باہر سے ہی کام نکالنے کے لیئے appraiser صاحب کے PA اس معاملے کو احسن طریقے سے ڈیل کرتے ہیں. واضح اشارہ تھا کہ لو دو اور کام نکالو.

کچھ ہی دیر بعد PA صاحب آئے اور کہا کہ جی آپ خواہ مخواہ خوار ہوں گے چلیں سر کہہ رہے ہیں کہ 6700 دیں کام ہو جائے گامزے کی بات آئی فون تو گیا لیکن آئی پی فون تو یہاں سے 12یا 13 ہزار میں مل جاتا ہے اور کسٹم ڈیوٹی بھی کوئی ساڑھے 12 ہزار تک بن رھی تھی.

نہیں نہیں، یہ تو سوچ کہ نکلے تھے کہ لینا دینا نہیں کریں گے. لیکن ہم تو یہی سوچ کے واپس ہوئے کہ نہ آئندہ کچھ منگوائیں گے اور نہ ہی اس کے لئیے آئندہ آئیں گے. یہی گل سڑ جائے لیکن ہم ھمیشہ کے لیئے گلنے سڑنے سے بچ جائیں.

تحریر: عبدالمعز اسحاق
CEO سمارٹ مایئڈز، لاہور

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں