فضائی اہداف ڈھونڈ کر تباہ کرنے والا ایئر ڈیفنس سسٹم پاک فوج کے دفاعی نظام میں شامل

ملکی دفاع ناقابل تسخیر بنانے کیلئے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا گیا۔ بری فوج نے فضا میں اہداف کو ڈھونڈ کر تباہ کرنے والے چینی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم ایل وائی 80 کو اپنے فضائی دفاع کے نظام میں شامل کر لیا ہے۔
اتوار کے روز آئی ایس پی آر کے بیان میں بتایا گیا ہے کم بلندی سے درمیانی بلندی تک مار کرنے والے چینی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم ایل وائی 80 کو گزشتہ روز پاک فوج کے فضائی دفاع کے نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ایئر ڈیفنس سسٹم کی پاک فوج میں شمولیت کے سلسلے میں خصوصی تقریب کا انعقاد آرمی آڈیٹوریم میں کیا گیا جس کے مہمان خصوصی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ایل وائی 80 کی پاک فوج میں شمولیت سے فضائی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
قبل ازیں آرمی آڈیٹوریم آمد پر پاک فوج کے کمانڈر ایئر ڈیفنس آرم لیفٹیننٹ جنرل محمد زاہد لطیف مرزا نے آرمی چیف جنرل باجوہ کا استقبال کیا۔ دفاعی جرائد کے مطابق ایل وائی۔ 80 ایک جدید میزائل شکن نظام ہے جو دشمن طیاروں، بیلسٹک و کروز میزائلوں اور داغے گئے راکٹوں کو راستہ میں تباہ کرتا ہے۔ چین نے روس کے تعاون سے یہ میزائل شکن نظام تیار کیا تھا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ سردست پاکستان کو صرف بھارت سے ہی فضائی خطرات لاحق ہیں اور اب تک پاکستان نے درمیانی اور زیادہ بلندی تک دشمن طیاروں کو میزائلوں کو تباہ کرنے والے نظام کے حصول کی سنجیدہ کوشش نہیں کی تھی۔
بری فوج کے پاس کم بلندی تک دفاع کرنے والے میزائل شکن نظام پہلے سے موجود ہیں لیکن اب پاکستان جدید ائر ڈیفنس کے حصول پر توجہ مرکوز کر رہا ہے اور اس شعبہ میں چین ہی پاکستان کا قابل اعتماد شراکت دار ہے کیونکہ میزائل شکن نظاموں کی تیاری میں امریکہ، روس اور اسرائیل ہی سرفہرست ہیں۔ امریکہ کے مہنگے میزائل شکن نظام کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ روس کے ساتھ تعلقات ابھی اس نہج پر نہیں پہنچے جہاں اس نوعیت کے دفاعی سودے کئے جائیں چنانچہ پاکستان نے اس شعبہ میں چین کے کم خرچ اور آزمودہ نظام کو خریدنے کا فیصلہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق لوئر میڈیم الٹی ٹیوڈ ائر ڈیفنس سسٹم پاک فوج میں شامل ہونے سے آرمی کی پیشہ وارانہ صلاحیت میں مزید اضافہ ہو گا۔ سسٹم میں یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ اسے فوری طور پر ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق نیا ائر ڈیفنس ایل وائی 80 سسٹم چینی ساختہ اور لوئر میڈیم الٹی ٹیوڈ ہے جبکہ ایل وائی 80 فضائی اہداف کو ڈھونڈنے اور تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایل وائی 80 سے دور کے اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا سکے گا۔ فوجی ترجمان کے مطابق آرمی چیف نے تقریب سے خطاب کرتے ہورئے مزید کہا کہ نئے نظام سے فضائی دفاع میں چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت ملی ہے۔ ائر ڈیفنس سسٹم سے پاکستان کی دفاعی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ ہو گا۔ اس موقع پر آرمی چیف کو ائر ڈیفنس سسٹم پر بریفنگ دی گئی۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں