کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد شام پر امریکہ کے کروز میزائل حملے

امریکہ نے شام میں باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں میں کیمیائی حملے کے جواب میں شامی حکومت کے فوجی اڈے پر میزائلوں سے حملے کیے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم میں بحری بیڑے سے 59 ٹام ہاک کروز میزائلوں سے شام کے ایک فوجی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہی اس شامی فضائی بیس پر حملے کا حکم دیا تھا جہاں سے منگل کو شامی فضائیہ نے حملے کیے تھے۔ ادلب کے علاقے خان شیخون میں مبینہ زہریلی گیس کے حملے میں اب تک 27 بچوں سمیت کم سے کم 72 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ امریکہ کی جانب سے شامی حکومت کے خلاف پہلی باقاعدہ فوجی کارروائی ہے۔ روس نے جو کہ بشار الاسد کا حامی ہے
امریکی صدر نے اس موقع پر ‘تمام مہذب ممالک’ سے شام میں تنازعے کو ختم کرنے میں مدد کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔
امریکہ کی جانب سے کروز میزائل حملوں کا شامی حزب اختلاف کے گروہ سیریئن نیشنل کولیشن نے خیر مقدم کیا ہے۔
اتحاد کے ترجمان احمد رمضان نے خبر رساں اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم مزید حملوں کی امید کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ محض ایک آغاز ہے۔‘
امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے شام پر فضائی حملے کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس کی شامی حکومت نے تردید کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ جس ایئر بیس کو نشانہ بنایا گيا اس کا براہ راست تعلق خوفناک کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے ہی تھا۔
ترجمان کا کہنا تھا: ‘ہم نے بڑے اعتماد سے اس بات کا جائزہ لیا کہ اس ہفتے کے اوائل میں کیمیائی حملہ اسد حکومت کی کمان میں اسی مقام سے فضائیہ کی مدد سے کیا گيا تھا۔’
ترجمان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم نے اسی اعتماد کے ساتھ اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ اسد کی حکومت نے ہی اعصاب شکن کیمیائی مادے، جس میں سیرین شامل تھی، حملے کے لیے استعمال کیا۔’
ادھر شام کے ایک سرکاری ٹی وی پر اس بارے میں ایک بیان جاری کیا گيا کہ ‘امریکی جارح‘ نے شام کی ایک فوجی اڈے پر کئی ایک میزائلوں سے حملہ کیا ہے تاہم اس کے علاوہ کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ شام کے مستقبل میں بشار الاسد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ شام میں منگل کو مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ایک سنگین معاملہ ہے اور اس کے لیے سنجیدہ جواب کی ضرورت ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں