فتح جنگ،حساس ترین علاقہ۔وزارت داخلہ اور سیکورٹی فورسز کی ذمہ داریاں

تحریر۔صداقت محمود مٹھو

سانحہ پشاور کے بعد جہاں دیگر علاقوں پنڈی اسلام آباد مانسہرہ وغیرہ میں افغانیوں اور غیر مقامیوں کے

خلاف حقیقی طور پر سرچ آپریشن کر کے سینکڑوں جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں

کی گرفتاریاں عمل میں لائی جا رہی ہیں ,اسی طرح فتح جنگ کے عوام بھی امید کرتے ہیں کہ ان کے سروں

پر بھی منڈلانے والے دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر اس علاقے میں بھی گرینڈ آپریشن کیا جاے گا۔

ایک پلان کے مطابق اعلیٰ حکام کی ہدایت پر پولیس نے جو کاروائیاں بھی کیں وہ محض کاغذی اور خانہ پری تک محدود رہیں۔  فتح جنگ کا علاقہ جو انتہائی حساس ہے ، میں غیر قانونی طور پر مقیم ہزاروں

افغانیوں کے ساتھ ساتھ فاٹا کی مختلف ایجنسیوں جن میں مہمند،باجوڑ،شمالی اور  جنوبی

وزیرستان،اورکزئی،کُرم،دیر،لوئر دیر سے آنے والے ہزاروں افراد بھی مقیم ہیں ، جن کا کوئی ریکارڈ کسی

بھی سیکورٹی ایجنسی یا پولیس کے پاس نہیں ہے کی موجودگی انتہائی تشویش ناک ہے۔

فتح جنگ ریلوے پھاٹک پر چند ماہ ایک خود کش حملہ بھی ہو چکا ہے ، جس میں پاک فوج کے کرنل رینک

کے دو مایہ ناز افسران کو شہید کر دیا گیا تھا لیکن اس افسوس ناک واقعہ کے بعد بھی مقامی پولیس اور

سیکورٹی اداروں کی آنکھیں نہیں کھلیں ۔ فتح جنگ کے مختلف علاقوں اٹک روڈ،کوہاٹ روڈ،ڈھوکڑی

روڈ،گگن اسٹیشن،ممتاز آباد،ہستال،کھوڑ روڈ،اور شہر کی آبادیوں محلہ کالج موڑ،محلہ سول ہسپتال،محلہ

غربی نئی آبادی،سٹیڈیم روڈ کی آبادیوں میں غیر مقامی اور افغانیوں کی بہت بڑی تعداد مقیم ہے۔ لیکن آج تک

کوئی موثر آپریشن نہیں کیا گیا ۔ مقامی صحافیوں کی پچھلی ایک دہائی سے زائد عرصہ کے دوران تعینات آر

پی اوز راولپنڈی اور ڈی پی او ز اٹک کی فتح جنگ میں منعقدہ کھلی کچہریوں میں اس سنگین معاملہ کی

طرف توجہ مبذول کرانے کے باوجود سنی ان سنی کرتے رہے۔  سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی

فتح جنگ آمد پر بھی مقامی آبادی کی تشویش سے وزیر موصوف کو آگاہ کیا گیا تھا۔

یہ آبادیاں ان مشکوک افراد کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ لیکن آج تک کوئی موثر آپریشن نہیں کیا گیا ۔ لیکن لگتا

ہے ہماری پولیس اور سیکورٹی ادارے اور حکومتی سیاسی قیادت کسی بڑے سانحہ کے انتظار میں رہتے ہیں

کہ کوئی بڑا واقعہ ہو گا تو ان کے کان پر جوں رینگے گی ۔  اب تو ان افغانیوں کو قانونی طور پر پاکستانی

قرار دلوانے کے لئے ایف آئی اے جیسے ادارے کے افسران اور اہل کار بھی سرگرم ہو گئے ہیں ۔ انتہائی اہم

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ افغانیوں نے بھاری نظرانے پیش کر کے ایف آئی اے کے افسران جن میں انسپکٹر

احمد علی شاہ،عظمت اور رفیق ترین شامل ہیں کو رام کر لیا ہے ۔ ایف آئی اے کے یہ  افسران موقع پر آئے

بغیرمقامی لوگوں سے اعلانیہ یا خفیہ معلومات حاصل کئے بغیر غیر ملکیوں کو پاکستانی ہونے کے

سرٹیفیکیٹ جاری کر رہے ہیں ۔اس گھناؤنے دھندے میں کچھ پولیس افسران اور مقامی کھڑپینچ بھی ملوث ہیں۔

فتح جنگ اور گردونواح میں مقیم افغانیوں نے جعلی دستاویزات پر پاکستان شناختی کارڈ حاصل کر لئے

جائدادیں خرید لیں اور پاسپورٹ بنوا لئے۔ اور قابل ذکر بات ہے کہ یہی افغانی پاکستانی پاسپورٹ پر باہر جا

کر پھر سے افغانی بن کر وہاں سیاسی پناہ لیتے ہیں ۔ پاکستانی پاسپورٹ پھاڑتے ہیں اور دوبارہ پاکستان میں

اپنے والدین بہن بھائیوں اور عزیز و اقرباء سے ملنے کیلئے آتے ہیں تو مہمان بن کر آتے ہیں۔ لیکن مجال ہے

ہماری ایف آئی اے،امیگریشن کی یا کسی دوسرے سیکورٹی ادارے کی کہ ان کے بارے میں معلومات لی ہوں

کہ یہ پاکستان سے پاکستانی بن کر گئے تھے واپسی پر افغانی ہیں ان کے والدین بہن بھائی اور دیگر پاکستانی

بن کر یہاں رہ رہے ہیں کیوں؟ایسی درجنوں نہیں سینکڑوں مثالین موجود ہیں لیکن کوئی پوچھے تو

سہی۔ پاکستانی پاسپورٹ پر سعودی اور دیگر گلف ممالک جانے والے افغانی پاکستانی پاسپورٹ پر جاتے ہیں

اور وہاں مختلف جرائم جن میں منشیات کی سمگلنگ قابل ذکر ہے میں پکڑے جاتے ہیں تو بد نامی پاکستان کی

ہوتی ہے ۔  پاکستان کو بیرون ممالک خصوصا سعودیہ میں بد نام کرنے میں ان جرائم پیشہ افغانیوں کا بڑا

کردار ہے جو منشیات کی سمگلنگ جیسے مذموم دھندے کرتے ہیں۔

دو سری طرف ضلع سیالکوٹ،گجرات اور چکوال وغیرہ کی تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز اور مختلف یونین

کونسلوں کے سیکرٹریز بھی ایف آئی اے کے بد عنوان افسران سے پیچھے نہیں رہے اور چمک کے زور پر

ان افغان مہاجرین کی تاریخ پیدائش کا لیٹ اندراج دھڑلے سے کر رہے ہیں جن کو بنیاد بنا کر یہ غیر قانونی

تاریکین وطن اپنے آپ کو پاکستانی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اہلیان فتح جنگ امید کر رہے ہیں کہ پنڈی اسلام آباد کی طرح فتح جنگ جیسے حساس علاقے میں

افغانیوں،غیر مقامی اور مشکوک افراد کے خلاف گرینڈ آپریشن کیا جائے تاکہ علاقے سے جرائم کے خاتمے

کے ساتھ ساتھ دہشت گردی میں ملوث ملزمان اور ان کے سہولت کارقانون کی گرفت میں آسکیں۔ فتح جنگ

کے گردونواح میں 1979سے افغان مہاجرین کی کثیرتعداد آباد ہو گئی ۔ مقامی زمینداروں نمبرداروں

کونسلروں رحم دل پٹواریوں محکمہ مال کے افسران اور نادرا کے حاتم طائیوں نے ان غیر ملکی باشندوں کو

جائیدادیں فروخت کرنے مکانات کرائے پر دینے ان کے پاکستانی ہونے کی تصدیق کرنے انتقالات اور

رجسٹریاں منظور کرنے اورپاکستانی شناختی کارڈز کی لوٹ سیل جاری رکھی ہوئی ہے ۔ نہایت افسوس تو اس

بات کا ہے کہ ایم این اے، سینیٹرز اور ایم پی اے بھی آنکھیں بند کر کے دھڑلے سے ان غیر ملکیوں کی

بطور پاکستانی شہری تصدیق کر دیتے ہیں۔ فتح جنگ پر امن علاقہ ہونے کے وجہ سے یہاں آباد ہونے والے

افغان مہاجرین نے ملک کے دیگر علاقوں میں رہائش اختیار کرنے والوں افغان مہاجرین کو فتح جنگ منتقل

ہونے کا مشورہ دیا اس طرح رفتہ رفتہ دیگر علاقوں سے بھی افغان مہاجرین نے اپنی سکونت فتح جنگ اور

گردنواح کے علاقوں میں منتقل کر لی بعد ازاں وزیرستان میں فوجی آپریشن کی وجہ سے بھی فاٹا کے

مکینوں کی اکثریت نے اپنی رہائش کے لئے اسی علاقے کو پسند کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے فتح جنگ میں قلعہ

نما گھروں کی تعمیر شروع ہوئی ۔ جن میں بڑے بڑے تہہ خانے تعمیر کئے گئے ان قلعہ نما گھروں میں

گاڑیوں سمیت آسانی سے مشکوک افراد رہائش پذیر ہو سکتے ہیں اور پناہ لے سکتے ہیں یہ لوگ سینکڑوں

ہزاروں کنال اراضی کے مالکان بنے اور غیر آباد علاقوں میں بھی مسجدیں بن گئیں مگر میرے وطن کی

تقدیر کے مالکوں کو ان تعمیرات کی وجوہات پوچھنے کی آج تک ہمت نہ ہو سکی یہاں تک کہ ان محلات اور

جاگیروں پر خر چ کئی گئی کروڑوں اربوں روپے کے بارے میں پوچھنے کی جسارت نہ ہوئی کہ اربوں

روپے کہاں سے لائے ہیں ابھی بھی حطار پٹرولنگ پوسٹ کے قریب ایک بہت بڑا مدرسہ اور مسجد زیر

تعمیر ہے جب کہ اس سے چند گز کے فاصلے پر ایک قدیمی مسجد پہلے سے موجود ہے تو یہ عمارت کون

بنا رہا ہے ایجنسیاں اور مقامی پولیس اس سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔  اٹک شہر اور واہ میں شیر پنجاب

اور فتح جنگ میں شاہ پور ڈیم پر اباسین ہوٹل اٹک روڈ پر صدکال  کے دولت خان ہاؤس جیسے کاروباری

افغان مہاجرین سے بھی پوچھا جائے کہ ان کے پاس اتنی دولت آنے کے ذرائع کیا ہیں۔ فتح جنگ دورے پر

آئے وزیروں مشیروں سول اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو مقامی صحافیوں نے بارہا یہ تجویز کیا کہ اس

حساس علاقے میں جتنے بھی غیر مقامی لوگ 1979کے بعد رہائش پذیر ہوئے ان کے کوائف اکٹھے کئے

 جائیں۔  محکمہ مال کے افسران کو متعدد بار باور کرایا گیا کہ رجسٹریاں اور انتقالات کرتے وقت غیر مقامی

لوگوں کی مکمل چھان بین کی جائے اور ان سے کریکٹر سرٹیفیکیٹ طلب کئے جائیں جو وہ ان علاقوں کے

حکام سے تصدیق کروا کے لائیں جہاں سے یہ لوگ سکونت ترک کر کے آئے ہیں لیکن دولت کی چمک ان

کو اندھا کئے ہوئے ہے 2007سے سے کچھ ہمارے محب وطن دوست  چئیرمین نادرا کی توجہ اس جانب

مبذول کراتا رہا ہے نادرا کی ویجیلنس سیل اورسابق چیئرمین طارق ملک کی کاوشوں سے اس علاقے میں آباد

سینکڑوں مہاجرین کے پاکستانی شناختی کارڈ بلاک کئے گئے مگر افسوس کی بات ہے کہ بلاک شدہ افغان

مہاجرین کے کارڈ ان سے واپس نہیں لئے گئے جس کی وجہ سے وہ اب بھی شناختی کارڈ استعمال کر رہے

ہیں اور بدستور اس کوشش میں ہیں کہ اپنے آپ کو کسی نہ کسی طریقے سے پاکستانی ثابت کر لیں ممبر

 

پنجاب بار کونسل سید عظمت علی بخاری ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور ایڈووکیٹ سید انتخاب شاہ سابق جسٹس

کے علاوہ ثاقب ایم شاہزیب ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی خدمات کی قانونی امداد راقم کے ساتھ بلا معاوضہ ہیں

جو ان کی حب الوطنی کا بین ثبوت ہے۔اس ضلع میں 2001سے 2009برسر اقتدار رہنے والے ضلع ناظم نے

ان افغانیوں کو پاکستانی شناختی کارڈ دلوانے اور ووٹر لسٹ میں ان کا اندراج کروانے میں اہم کردار ادا کیا

ہے اور آج کل ایف آئی اے کے بعض کرپٹ افسران نے ان کے حق میں رپورٹیں بھی دے رہے ہیں۔ بد قسمتی

سے آج تک یہ افغانی مہاجر کسی نہ کسی طریقے سے آنکھ مچولی کے اس کھیل کو جاری رکھے ہوئے ہیں

اب ان افغانی باشندوں کے قرب و جوار میں رہنے والے مقامی لوگوں کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ

وہ ان کے متعلق معلومات حکومتی ایجنسیوں تک پہنچائیں اور ان کو بے نقاب کریں تاکہ وہ اپنے آپ کو افغان

مہاجر رجسٹر ڈ کروانے پر مجبور ہو جائیں۔ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے بااختیار وزیروں مشیروں اور سول و

ملٹری بیوروکریسی سے سوال کرتے ہیں کہ آپ تو اپنے دفاتر اور رہائش گاہوں کے گرد تو بڑی بڑی دیواریں

بنا کر محصور ہو چکے ہیں مگر کیا کبھی عوام کی حفاظت کا بھی خیال آئے گا اگر جواب ہاں میں ہے تو

حکم جاری کر دیں کہ کوئی بھی مالک جائیداد اپنی جائیداد فروخت کرنے یا کرایہ پر دینے سے قبل خریدار یا

کرایہ دار کے تمام کوائف بشمول نقل مکانی کرنے والے کی سابق جائے رہائش اور نقل مکانی کی وجوہات

مقامی تھانے میں جمع کروائے تمام سرکاری پرائیویٹ سکول بچوں کو داخلہ دیتے وقت بچوں کے والدین کے

مکمل کوائف اور قومیت کا اندراج کرے جس میں پاکستانی اور غیر پاکستانی کی وضاحت کی جائے

محکمہ مال کے پٹواری اور رجسٹری کلر ک انتقال اور رجسٹری درج کرتے وقت سکونت اور کریکٹر

سرٹیفکیٹ طلب کریں غیر ملکیوں کو جائیداد کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور ریونیو افسران

پٹواری رجسٹری محرر اور پراپرٹی ڈیلر جس نے مذکورہ جائیداد کی خریدار ی میں معاونت کی ہو اس کے

خلاف غیر ملکی کو جائیداد فروخت کرنے پر سخت تادیبی کاروائی کی جائے تمام رجسٹرار،ریونیو افسران

اور تحصیل ایڈمنسٹریشن کو پابند کی جائے کہ جب بھی جائیداد کی خریدو فروخت ہو یا کسی عمارت کا نقشہ

منظور کیا جائے تو فریقین کے مکمل کوائف اور خریدفروخت کی رقم اور اس نقشہ کی تعمیر پر ہونے والے

اخراجات کے تخمینے کے متعلق معلومات ایف بی آر اور دیگر ایجنسوں کو آن لائن بتائی جائے اس طرح

وطن عزیز میں دہشت گردی اور افراتفری پھیلانے والے ملک دشمن عناصر کی جانب سے دی گئی رقوم کا

آسانی سے پتہ لگایا جا سکتا ہے اور ملک میں امن و امان قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے

مقامی پولیس کو غیر مقامی لوگوں کے اندراج کے لئے ایک ڈیڈ لائن مقرر کی جائے جو ایس ایچ او مقررہ

وقت میں مذکورہ اندراج مکمل نہ کر سکے تو اس کو آئندہ ایس ایچ او شپ کے لئے نا اہل قرار دے کر نوکری

سے فارغ کیا جائے۔ افغان مہاجرین کے لئے کچھ علاقے مخصوص کئے جائیں جنھیں واپس افغانستان جانے

تک کے عمل کو مکمل ہونے تک وہیں رہنے کا پابند کیا جائے تمام رہائشی اور حساس مقامات کو غیر قانونی

پناہ گزینوں سے پاک کیا جائے پاکستان اور صوبائی بار کونسلیں ایسے وکلاء کے لائسنس منسوخ کر دیں جو

غیر ملکی افراد کے ایسے مقدمات کی پیروی کریں جن میں وہ اپنے آپ کو پاکستانی ثابت کرنے کی کوشش

کریں سپیکر قومی،صوبائی اسمبلیاں اور چئیرمین سینٹ ایسے ارکان کے خلاف کاروائی کریں جو غیر ملکیوں

کے شناخت نامے پر ان کی تصدیق میں ملوث ہوں ان ولیج افسران (نمبرداروں) کی نمبرداری ختم کر دی

جائے جو غلط تصدیق کرنے میں ملوث ہوں اسی طرح دیگر عوامی نمائندوں چئیرمین زکوٰۃ و عشر کمییٹیوں

کے خلاف بھی اسی قسم کی قانون سازی کی جائے ووٹ کے اندراج کے لئے غیر ملکی کے ووٹ درج کرنے

پر قانونا ً تو پابندی ہے مگر عملاً اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے اس میں ملوث اہل کاروں کے خلاف بھی

سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔قومی،پنجاب،بلوچستان اور سندھ اسمبلیاں بھی اس قسم کے فیصلے

کریں جیسا کے تحریک انصاف کی کے پی کے حکومت نے افغان مہاجرین کے بارے میں کیا ہے۔ وزیر

داخلہ چوہدری نثار علی خان ان افغان مہاجرین کی چھان بین ایف آئی اے اور پولیس جیسے بد نام محکموں کی

بجائے ملکی خفیہ اداروں جیسے آئی بی،آئی ایس آئی اور ایم آئی سے کروا کر پاکستانی شناختی کارڈ حاصل

کرنے والے افغان مہاجرین کے شناختی کارڈوں کو افغان مہاجرین کے کارڈوں میں تبدیل کرنے کے لئے نادرا

کو احکامات جاری کریں اور حکومت تمام افغان مہاجرین جنھوں نے اپنے آپ کو افغان مہاجر رجسٹرڈ کرالیا

ہے یا جو جعلی دستاویزات سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کو فوری طور پر

افغانستان واپس بھجوائیں کیونکہ جن حالات میں یہ لوگ ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے وہ حالات تو بیس

سال ہوئے تبدیل ہو چکے ہیں موجودہ حالات میں مسلم لیگ ن کی حکومت پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی

ہے کہ پاکستانی معیشت پر بوجھ ان لاکھوں مہاجرین کو ان کے وطن واپس بھجوکر پاکستانی قوم پر احسان

عظیم کرے اس قوم کی آنے والی نسلیں بھی نواز شریف کے اس احسان کو یاد رکھیں گی۔حکومت کو چاہئیے

کہ غیر قانونی تارکین وطن کو جعلی دستاویزات تیار کرنے میں تمام معاونین جن میں نمبردار اور دیگر عوامی

نمائندگان کے علاوہ حکومتی افسران و اہل کاروں کے خلاف ان کے سہولت کاروں کے طور پر سخت قانونی

کاروائی عمل میں لائی جائے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں