طالبان: ملا اخونزادہ کے بیٹے نے ہلمند میں خودکش حملہ کیا

افغانستان میں طالبان کے ترجمان اور کوئٹہ شوریٰ نے تصدیق کی ہے کہ امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے ایک بیٹے نے جمعرات کو جنوبی افغانستان کے صوبہ ہلمند میں خود کش حملہ کیا تھا۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور کوئٹہ شوریٰ کے ایک ممبر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ خود کش حملہ 20 سالہ امیر ہیبت اللہ خان کے بیٹے عبدالرحمان خالد نے کیا ہے۔
ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ خالد کو خود کش حملہ کرنے کی تربیت دی گئی تھی اور وہ گذشتہ تین ماہ سے اپنی باری کے انتظار میں تھا۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ امیر ہیبت اللہ اخونزادہ کو خود کش حملے کے بارے میں علم تھا اور وہ اس فیصلے سے متفق تھے۔ ذرائع کے مطابق اخونزادہ کی اپنے بیٹے خالد سے تین ماہ قبل آخری ملاقات ہوئی تھی۔
تاہم اس خبر کی تصدیق آزاد ذرائع سے نہیں ہو سکی ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو ہلمند میں گریشک کے علاقے میں طالبان نے افغان نیشنل آرمی کی کئی چیک پوسٹوں پر حملے کیے تھے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان حملوں کو پسپا کر دیا تھا۔
گریشک کے پولیس کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو ہونے والے خودکش حملے میں دو افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 11 زخمی ہوئے تھے۔
تاہم دیگر ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے جنوبی افغانستان کے مرکزی ترجمان قاری یوسف احمدی کے حوالے سے بتایا ہے کہ عبدالرحمان خالد کی عمر 23 سال تھی اور ان کو حافظ خالد کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔
افغان طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ خودکش حملہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کے علاقے گریشک میں کیا گیا۔
عبدالرحمان نے بارود سے بھری گاڑی فوجی اڈے میں اڑا دی تھی۔
ترجمان کے مطابق عبدالرحمان خودکش بمبار بننے کی خواہش رکھتا تھا اور ’گذشتہ جمعرات کو انھوں نے اپنا مشن مکمل کیا۔’

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں