ریلوے حکام کی تاخیر کا شکار ٹرینوں کے مسافروں سے معذرت، ٹکٹوں کے پیسے واپس

سنیچر کی رات پاکستان میں ریل گاڑی پر سفر کرنے والے افراد کی لیے کسی آزمائش سے کم نہ تھی۔ پاکستان ریلوے کے ملازمین نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کردی جس کے باعث ایک ٹرین منسوخ جبکہ متعدد ٹرینیں تاخیر کا شکار رہیں۔
ملک بھر میں ٹرینوں کی تاخیر کا سلسلہ تو ابھی بھی جاری ہے لیکن محمکہ ریلوے کے مطابق ایک بہت بڑے قومی بحران کو بروقت سنبھال لیا گیا اور مسافروں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ ’آل از ویل‘۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ملتان کے رہائشی عامر رسول نے بتایا کہ صبح سے ٹرین کے انتظار میں بیوی اور چار بچوں کے ساتھ لاہور ریلوے سٹیشن پر بیٹھے ہیں لیکن ٹرین کی کوئی خبر نہیں۔
‘یہاں کسی کو نہیں پتا ٹرین کب آئے گی، ہم تو خوار ہو گئے ہیں۔ ریلوے والوں کو اپنی فکر ہے، کوئی ہماری مشکل بھی تو حل کرے۔ سٹیشن پر ہر طرف لوگ ہی لوگ ہیں اور سب اسی انتظار میں ہیں کہ انتظامیہ کا کوئی بندہ آ کر درست اطلاع دے۔‘
دوسری جانب لاہور سے کراچی بارہ گھنٹے کی تاخیر سے پہنچنے والے شیراز ہاشمی نے بتایا کی وہ بیگم بچوں اور تین خالہ کے ساتھ فیملی ٹرپ پر نکلے تھے جو ایک برا خواب بن گیا۔
‘حیدرآباد کے قریب ایک جگہ اندھیرے میں ڈرائیور ٹرین چھوڑ کر بھاگ گیا تو انتظامیہ مال گاڑی کے ڈرائیور کو لے کر آئے۔ پھر ہمیں ایک گندی سی بوگی میں ڈال دیا گیا جس میں بے حد بدبو اور چوہے تھے۔ ہم آئندہ کبھی پاکستان میں ٹرین سے سفر نہیں کریں گے۔
پاکستان ریلوے کے ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز نجم ولی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ساری رات ریلوے ہیڈ کوارٹر جاگتا رہا اور جب گرفتاریاں شروع ہوئیں تو ہڑتال کرنے والوں کا ایک بڑا گروپ ٹوٹ کر واپس آگیا۔
’بارہ بجے ہڑتال شروع ہوئی اور چھ بجے تک ہم نے معاملہ حل کر لیا۔ جو ٹرین چلنی والی تھی اور اس کے مسافر پریشانی کا شکار تھے ان کے لیے ریفنڈ یعنی پیسے واپس کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے اور جو ٹرین منسوخ ہوئیں ان کی لیے بھی ریفنڈ دیا جا رہا ہے۔ جو ٹرینیں ایک سے پانچ گھنٹے تک تاخیر کا شکار ہوئیں، ان کے مسافروں سے ہم نے معذرت کی ہے۔ ویسے بھی تو تاخیر ہوتی ہے خرابی کے باعث۔‘
پاکستان ریلوے کے ترجمان نے بتایا کہ ہڑتال کرنے والے 13 ڈرائیوروں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ان افراد کے خلاف دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے کیونکہ انھوں نے اپنے مفاد کی لیے ویرانے میں ٹرین روک کر ہزاروں مسافروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیں۔
ہڑتال کرنے والے ریلوے ملازمین کے چھ مطالبات تھے جن میں سرفہرست تھا کہ ان کے بجلی کے بل زیادہ آنا، ہر سو میل سفر کرنے پر ان کو ایک روز کی چھٹی ملے اور ٹرین حادثوں کے باعث برطرف کیے گئے ملازمین کو بحال کیا جائے۔ ریلوے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مطالبات منوانے کی لیے اکٹھے چھٹی لینا ایک ہتھکنڈا ہوتا ہے تاکہ ریلوے کا نظام بیٹھ جائے۔
’بظاہر تو یہ بہت عام سی بات لگتی ہے کہ برطرف ساتھیوں کی بحالی کا مطالبہ کیا جائے۔ لیکن یہ برطرف کیے گئے ریلوے کے وہ پانچ چھے ملازمین ہیں جو مختلف حادثوں میں ذمہ دار تھے، جیسے لانڈی میں دو گاڑیوں کا تصادم ہوا، کروڑوں کا تفصان تو ہوا، قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ اب حادثات میں تینتالیس ہلاکتیں ہوئیں جن کے لیے چھ ملازمین مکمل انکوائری کے بعد برطرف کیا گیا۔ اس مطالبہ کو تسلیم کرنا تو دور کی بات، ہو تو ایسی بات سنیں گے بھی نہیں۔‘
ہڑتال کی وجہ سے وزیربرائے ریلوے خواجہ سعد رفیق نے سنیچر کی صبح ہنگامی اجلاس طلب کیا اور کہا کہ ملازمین کے جائز مسائل ضرور حل کیے جائیں گے جبکہ چھ میں سے دو مطالبات ماننے کا عندیہ پہلے ہی دیا جا چکا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرین ڈرائیور 50 سے 90 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں، اسی ماہ تنخواہ میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے، لیکن اب مائیلج الاونس میں اضافے کے نام پر تنخواہوں میں چار گنا اضافہ مانگا جا رہا ہے جو ناممکن ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے یقین دہانی کروائی کہ اڑتالیس گھنٹے کی اندر ملک میں تمام ٹرینوں کی وقت پر آمد اور روانگی کو یقینی بنائی جائے گا۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں