مغوی افغان دیہاتیوں کی بازیابی کے لیے بڑی کارروائی

افغان پولیس نے آج اتوار کو ان تیس دیہاتیوں کی تلاش کے لیے ایک بڑی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جنہیں ابھی دو دن قبل اغوا کیا گیا تھا۔ اس واقعے کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی جا رہی ہے۔
قندھار پولیس کے ترجمان ضیاء درانی نے آج اتوار کے روز خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعے کو تقریباً ستر افراد کو اغوا کیا گیا تھا، جن میں سے سات کی لاشیں ہفتے کے روز مل گئی تھی۔ ان کے بقول ہفتے کے روز ان میں سے تیس افراد کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ تیس بدستور اغوا کاروں کے قبضے میں ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان افراد کو اغوا کرنے کا مقصد کیا تھا۔
چند سرکاری اہلکاروں کی رائے میں ان افراد کو حکومت کا ساتھ دینے کے شک میں اغوا کیا گیا ہے۔ اس علاقے میں طالبان حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
دوسری جانب آج اتوار کو طالبان نے اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا، ’’ہمارے مجاہدین نے پولیس اہلکاروں اور حکومت نواز ملیشیا تنظیموں کے جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں اور انہیں ہلاک بھی کیا ہے۔ اس دورن پوچھ گچھ کے لیے سترہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا تھا، جنہیں بعد میں رہا کر دیا۔ ہم نے کسی عام شہری کو نہ اغوا کیا ہے اور نہ ہی قتل‘‘۔
افغانستان کے شورش زدہ صوبوں کے درمیان سے گزرنے والی سڑکیں انتہائی پر خطر ہو چکی ہیں کیونکہ طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کی جانب سے مسافروں کو اغوا یا قتل کرنے کے واقعات تواتر سے سامنے آ رہے ہیں۔
دوسری جانب طالبان نے وسطی غور صوبے کے تائیوارا ضلع پر قبضہ کر لیا ہے اور اس دوران ستر افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ اسی طرح آج اتوار کی صبح فریاب صوبے کے ایک ضلع کا نظم ونسق بھی طالبان کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں