پھانسی کی بجائے زہر کا ٹیکہ لگایا جائے

سزائے موت کے منتظر ایک قیدی کے وکیل دفاع نے کہا ہے کہ اس کے مؤکل نے ایک عدالت سے درخواست کی ہے کہ قیدیوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا کر موت دینے کے ’’غیر اسلامی طریقے‘‘ کو معطل کر دے، کیونکہ اس سے مرنے والے کو بہت زیادہ تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔
محمد خورشید خان نے خبر رساں ادارے اے پی کو آج ہفتہ 22 جولائی کو بتایا کہ اس کے مؤکل نے جیل حکام سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس کی سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے مہلک انجکشن یا کوئی اور طریقہ استعمال کیا جائے۔
وکیل صفائی محمد خورشید خان نے اس حوالے سے عدالت میں درخواست رواں ہفتے جمع کرائی ہے۔ ان کا کہنا پشاور ہائی کورٹ نے ان کے مؤکل جان بہادر کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست پر خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت سے 26 جولائی تک جواب طلب کیا ہے۔
خورشید خان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے سامنے اس طرح کی کوئی درخواست دائر کی گئی ہے۔ ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا ایسی کوئی درخواست پاکستان کی کسی اور عدالت میں کبھی دائر کی گئی ہے یا نہیں۔
جان بہادر کو قتل کے جرم میں پھانسی کے ذریعے موت کی سزا سال 2000ء میں سنائی گئی تھی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سزا پر عملدرآمد کے لیے تاریخ جلد طے کر دی جائے گی۔
پاکستان میں طویل عرصے تک سزائے موت پر عملدرآمد کا سلسلہ معطل رہا ہے اسی باعث ملکی جیلوں میں ہزاروں ایسے قیدی موجود ہیں جنہیں عدالتوں کی طرف سے سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ تاہم دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردانہ حملے کے بعد وفاقی حکومت نے سزائے موت پر عملدرآمد پر پابندی ختم کر دی تھی۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں