فتح جنگ: میاں صاحب کی ترقی دھوکہ‘ عمران کی تبدیلی جھوٹ‘ حکومت ناکام‘ ملک تنہا ہو گیا: بلاول کا جلسپ عام سے خطاب

فتح جنگ (نامہ نگار) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری نے سابق وزیر اعظم نوازشریف اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو دائیں بازو کے سیاستدان قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ یہ لوگ صرف کرسی کی سیاست کررہے ہیں ٗ پیپلز پارٹی کی قیادت نہ کبھی کسی آمر کے سامنے جھکی اور نہ کسی دہشت گرد سے ڈری، ہمیں سازش کے تحت محدود کر نے کی کوشش کی گئی، خیبر پی کے کی حالت دیکھ کر آیا ہوں، عمران کے تبدیلی کے دعوے جھوٹے ہیں جبکہ میاں صاحب کے ترقی کے نعرے بھی دھوکہ ہے۔

ہفتہ کو فتح جنگ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں لیکن ن لیگی حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں، انہوں نے 4 سال کوئی وزیر خارجہ نہیں بنایا اور اب جو وزیر خارجہ بنایا ہے وہ جی ٹی روڈ پر نکل کر پوچھ رہا ہے کہ میاں صاحب کو کیوں نکالا؟ بلاول بھٹو نے کہا کہ حکمرانوں نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کیا، پاکستان پر کوئی اعتماد نہیں کر رہا، کون اس کا ذمہ دار ہے؟ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل کرنا ہو گا لیکن دہشتگرد تنظیمیں سیاسی جماعتیں بنا رہی ہیں، دنیا اندھی نہیں، دیکھ رہی ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔

بلاول نے کہاکہ ہمارا ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے، دہشت گردی کیخلاف لڑرہاہے، سیاسی جماعتیں اور عوام دہشت گردی کا شکار ہوئے جبکہ ہم پر دہشتگردوں کو پناہ دینے کا الزام لگ رہاہے، یہی الزام پہلے بھی لگایاجاتاتھامگر اب تو دھمکی بھی آگئی ہے، لگتاہے پاکستان سفارتی طور پر تنہا ہوگیا۔بلاول نے کہاکہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہم دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ صرف آپریشنز سے دہشت گردی ختم نہیں ہوسکتی ٗدہشت گردی کیخلاف جنگ جیتنے کے لیے پوری قوم کو متحد کرنا ہوگا۔

بلاول نے کہا کہ جولوگ کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی ایک صوبے تک محدود ہوگئی، وہ ہمارے جلسے دیکھ لیں، پیپلزپارٹی آج بھی عوام میں رچی بسی ہے جس طرح ذوالفقاربھٹو، بینظیردورمیں تھی۔انہوں نے کہا کہ چنیوٹ کے بعد پنجاب میں یہ میرا دوسرا جلسہ ہے ٗچترال اور مانسہرہ، کاغان میں بھی جلسے کیے اور عوام کا جوش و جذبہ دیکھا، لوگوں سے کہتاہوں کہ پیپلزپارٹی چاروں صوبوں کی زنجیر ہے۔بلاول نے کہاکہ یہ لوگ صرف کرسی کی سیاست کر رہے ہیں، میاں صاحب اور خان صاحب میں اہلیت ہے نہ صلاحیت، میاں صاحب اور خان صاحب دائیں بازو کے سیاستدان ہیں۔

انہوںنے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا گیا اور محترمہ کو شہید کیا گیا مگر پی پی پی نے وفاق کی سیاست نہیں چھوڑی۔ پیپلز پارٹی نے قربانیاں دیں لیکن عوام کی سیاست نہیں ترک کی،ملک کی خواتین جانتی ہیں پارٹی نے انہیں ہمیشہ عزت کا مقام دیا، ملک کا نوجوان جانتا ہے کہ ہم نے ہمیشہ ان کے روزگار کیلئے کام کیا،اس ملک کا غریب جانتا ہے کہ ہم نے ہمیشہ ان کی غربت کو ختم کرنے کے لئے کام کیا۔ملک کا کسان جانتا ہے ملک کی خوشحالی کے لئے ہم نے کام کیا جبکہ پارٹی کے کاموں کے جواب میں ملک کے کسانوں، ماؤں، بیٹیوں، نوجوانوں نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا ہے۔ بلاول نے کہاکہ پشاور میں لوگ ڈینگی سے مر رہے ہیں اورعمران تقریر کر رہے ہیں جبکہ جب لوگوں کو خان صاحب کی ضرورت پڑتی ہے وہ پہاڑ پر چڑھ جاتے ہیں۔میں پچھلے دو سال سے کہہ رہا ہوں انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کو ختم کر دیا ہے۔ نیپ پر عمل نہیں کیا جا رہا۔

بلاول نے کہا کہ میاں صاحب کی ترقی دھوکہ تو خان صاحب کی تبدیلی جھوٹ ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے آپ کیا کر رہے ہیں آپ عوام کو دھوکہ دیتے اور جھوٹ بولتے ہیں۔ میاں صاحب آپ نااہل اور آپ کی حکومت ناکام ہے۔ خان صاحب کیا آپ نے مچھر سے بھی ڈرنا شروع کر دیا ہے۔

جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ پی پی کے جیالوں میں آج بھی جوش و خروش موجود ہے آج کی سیاست میں کہتے ہیں کہ وائرس آ گیا ہے کوئی شک نہیں سیاست میں کرپشن کا وائر آ گیا ہے، میاں صاحب پوچھتے ہیں کہ ان کا قصور کیا ہے؟ میاں صاحب آپ کا قصور کیا ہے وہ ہم سے نہیں 22 کروڑ عوام سے پوچھیں پی پی غریب لوگوں کی حکمرانوں چاہتی ہے ہم اقتدار کی نہیں عوام کی خوشحالی کی سیاست کرتے ہیں آج کا جلسہ پی پی کی پنجاب میں موجودگی کا ثبوت ہے حکمرانی کا حق صرف عوام کو ہے۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خلاف آر او الیکشن ہوئے ملک کے اداروں پر حملہ کیا جا رہا ہے نواز شریف اداروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں پی پی کے رہنما نیب میں پیش ہوئے کیونکہ ہمارا دامن صاف تھا۔ نواز شریف کہتے ہیں کہ نیب میں پیش نہیں ہوں گے آپ کونسے وزیراعظم ہیں ہم نے اپنے خوابوں کو مارا لیکن کسی قومی اداروں کے خلاف بات نہیں کی۔

علاوہ ازیں ایک انٹرویو میں میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اسمبلیوں کی مدت 4سال مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم میں برداشت نہیں، لمبا عرصہ حکومت برداشت نہیں کر سکتے، آئینی اصلاحات میں اسمبلیوں کی مدت 4سال کی جائے، مردم شماری کے عمل میں صرف جان چھڑائی گئی۔ 2014ء میں بھی مدت 4سال مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تھا، نواز شریف، اسحاق ڈار نے مجھ سے اتفاق کیا تھا۔ آئینی اصلاحات میں اسمبلیوں کی مدت 4سال کی جائے۔ حکومت اس حوالے سے اقدامات کرے، ہم ساتھ دیں گے۔ شماریات ڈویژن اور فوج کے ریکارڈ کا موازنہ کیا جائے۔ ریکارڈ کے موازنے سے اصل حقائق سامنے آئیں گے۔ میاں صاحب کس ترقی کی بات کرتے ہیں، گیس ہے نہ بجلی، بھٹو نے اس ملک کو ایٹمی طاقت بنوایا، میاں صاحب صنعتیں بند، تاجر پریشان اور مزدور بھوکے سوتے ہیں۔ دنیا کو اپنا بیانیہ دینا پڑتا ہے، وزیر خارجہ کو چاہئے تھا کہ پاکستان کا بیانیہ دنیا کو بتائے مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کا کوئی منشور نہیں، دائیں بازو کی سیاست کرتے ہیں۔ میں آپ کو کبھی مایوس نہیں کروں گا۔

bilawal-bhutto-in-fatehjang
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ مخالفین کہتے ہیں پی پی ختم ہوگئی ہے مخالفین مٹ گئے پی پی ختم نہیں ہوئی۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں