’روحانی طاقتوں نے چھریاں کھانے پر مجبور کیا‘

انڈیا میں دو ماہ کے عرصے میں 40 چھریاں نگلنے والے پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ ’روحانی طاقتوں‘ نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔یہ چھریاں سرجری کے ذریعے نکالی گئی ہیں۔انڈین ریاست پنجاب کے شہر امرتسر میں اس پولیس اہلکار کی جانب سے پیٹ میں شدیددرد کی شکایت کے بعد پانچ گھنٹوں پر مشتمل آپریشن کیا گیا اور اس کے پیٹ سے 40 بند ہونے والی چھریاں نکالی گئیں۔

42 سالہ شخص نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں نہیں جانتا کہ میں نے ایسا کیوں کیا لیکن اس کے پیچھے کوئی روحانی طاقت تھی۔‘اس کا کہنا تھا کہ ’ایسا جون میں شروع ہوا جب میں نے پہلی چھری نگلی اور مجھے اس کا مزا آیا۔ جلد ہی یہ عادت بن گئی۔‘ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جسم کا معائنہ کرنے کے بعد انھیں لگا کہ شاید اس میں کوئی رسولی ہے۔

لیکن مزید تفتیش سے انھیں درجنوں کی تعداد میں لکڑی کی دستی والی دھات کی چھریوں کے بارے میں پتہ چلا جن کی لمبائی تقریبا 18 سینٹی میٹر تک تھی۔کارپوریٹ ہسپتال کے سرجن راجندر راجن نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے فوراً سرجری کی تیاری اور چھریاں نکالی۔ کچھ چھریاں کھلی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے کچھ خون بھی رسا۔‘ڈاکٹر راجندر راجن کا کہنا تھا کہ ان کے خیال مریض ڈپریشن کا شکار تھا۔

ڈاکٹر راجندر راجن کے مطابق جمعے کو ہونے والی سرجری کے بعد ہسپتال سے فارغ ہونے سے قبل اس شخص کی نفیساتی تشخیص بھی کی جاسکتی ہے۔اس شخص کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا۔ اس نے کہا کہ ’میں نے تقریباً دو ماہ تک روزانہ ایک چھری کھائی۔ میں نہیں جانتا تھا کہ اس سے مجھے نقصان ہوا گا لیکن جب مجھے درد ہوا میں ہسپتال آگیا۔‘

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں