خواجہ سرا امریکی فوج میں نوکری نہیں کر سکتے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خواجہ سرا فوج میں کسی بھی حیثیت میں کام نہیں کر سکتے۔
صدر ٹرمپ نے یہ اعلان سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے فوجی ماہرین سے مشورہ کیا ہے جن کی رائے ہے کہ اس سے ‘بہت زیادہ پیسے میڈیکل کے اخراجات اور مسائل’ پیدا ہوں گے۔
یاد رہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں خواجہ سراؤں کو آزادانہ طور پر فوج میں نوکری کی اجازت دی تھی۔
تاہم رواں برس جون میں نئی انتظامیہ میں وزیرِ دفاع جیمز میٹس نے فوج میں خواجہ سراؤں کی بھرتیوں کو چھ ماہ تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔
گورسچ کی نامزدگی، اب کیا ہوگا؟
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ’ اپنے جنرلز اور فوجی ماہرین کے ساتھ رابطہ کرنے پر مجھے یہ مشورہ دیا گیا کہ امریکی حکومت خواجہ سراؤں کو کسی بھی حیثیت میں امریکی فوج میں اجازت نہیں دے گی۔’
ان کا کہنا ہے کہ’ ہماری فوج نے اہم اور بڑی کامیابیوں پر توجہ مرکوز رکھنی ہوتی ہے اور اس پر بڑے طبی اخراجات اور مسائل کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا جو خواجہ سراؤں کی ضرورتیں ہوتی ہیں۔’
وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے فوری طور پر اثرات نہیں ہوں گے۔
ان سے پوچھا گیا کہ کیا میدان جنگ پر گئے ہوئے خواجہ سراؤں کو فوری طور پر بلوا لیا جائے گا تو جواب میں کا کہنا تھا کہ اس پر عملدرآمد کی پالیسی پر کام کرنا ہوگا۔
تحقیق اور ڈویلپمنٹ سے متعلق ادارے رینڈ کارپوریشن کی جانب سے جاری کردہ اندازے کے مطابق گذشتہ برس امریکی فوج میں خواجہ سراؤں کی کل تعداد 4000 تھی تاہم کچھ اندازوں کے مطابق یہ تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہے۔
رینڈ نے یہ بھی اندازہ لگایا تھا کہ فوج میں خواجہ سراؤں کی شمولیت سے ہیلتھ کیئر کے اخراجات میں اعشاریہ تیرہ فیصد اضافہ ہو گا۔
اوباما انتظامیہ کی پالیسی میں یہ شق بھی شامل تھی کہ جو بھی فوجی اپنی جنس کو تبدیل کرنا چاہتا ہے اسے اس کی اجازت دی جائے۔
اس پالیسی کو یکم جولائی 2017 میں لاگو ہونا تھا تاہم اس سے قبل ہی ٹرمپ انتظامیہ نے اسے چھ ماہ کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں