بھارت: سرکاری ہسپتال میں کم از کم 60 بچے ہلاک

بھارتی ریاست اتر پردیش میں گورکھپور کے ایک سرکاری ہسپتال میں ہلاک ہونے والے کم از کم ساٹھ بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے وارڈ میں آکسیجن کی فراہمی کی کمی کی وجہ سے یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ضلعی مجسٹریٹ راجیو روتیلا نے بتایا ہے کہ بابا راگھیو داس میڈیکل ہسپتال میں مختلف بیماریوں میں مبتلا ان بچوں کا علاج ہو رہا تھا اور یہ کہ ہلاکتیں قدرتی وجوہات کی بنیاد پر ہوئی ہیں۔

انہوں نے ان الزامات سے انکار کیا ہے کہ آكسجين کی سپلائی میں کمی کی وجہ سے بچوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ دریں اثناء ریاستی حکام نے اس حوالے سے تحقیقات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ بھارت کی اس ریاست میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومتی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔

ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ وارڈ میں آکسیجن کی سپلائی جمعرات کی رات کو ہی ختم ہو گئی تھی اور والدین کو ’سیلف انفلیٹنگ بیگ‘ دیے گئے تھے تاکہ بچوں کو سانس لینے میں مدد فراہم کی جا سکے۔ بتایا گیا ہے کہ صرف ایک دن جمعرات کو ہی تئیس بچے ہلاک ہوئے۔

اسی ہسپتال میں اپنے سات ماہ کے بچے کو داخل کروانے والے مرتيجی سنگھ کہتے ہیں، ’’یہ وہ وقت ہے جب سب سے زیادہ بچوں کی اموات ہوئی ہیں۔‘‘ نوبل انعام یافتہ اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کیلاش ستیارتھی نے اس واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سانحہ نہیں بلکہ ’قتل عام‘ ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں