رکشہ چلانے والےاولمپئین کےلیے نئی ملازمت

ہاکی کا اگر ذکرنہ کریں تو اولمپک کھیلوں میں پاکستان کی نمائندگی گنتی کے چند ہی کھلاڑیوں نے کی ہے۔ اِن میں کئی قومی اور علاقائی اعزازات کے حامل سائیکلِسٹ محمد عاشق بھی ہیں جنھوں نے ساٹھ کے عشرے میں دو اولمپک گیمز میں حصہ لیا۔ لیکن ستم ظریفی یہ کہ ماضی کے قومی ہیرو اب رکشا چلاتے ہیں۔

ایک پاکستانی آئی ٹی کمپنی نے 1960 اور 1964 کے اولمپکس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے محمد عاشق کو 85 برس کی عمر میں ملازمت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔’نیٹ سول‘ کے انسانی وسائل کے ڈپارٹمنٹ کے سربراہ فیصل بھٹی کا کہنا ہے کہ محمد عاشق کو پورے پاکستان میں ایک ’ہیرو‘ کے طور پر نوازا جانا چاہیے۔انھوں نے کہا ’محمد عاشق آجکل کے نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہیں اور نیٹ سول نے انھیں اپنے کھیلوں کا برینڈ ایمبیسیڈر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘محمد عاشق نے اپنے کھیلوں کے کریئر کا آغاز ایک باکسر کے طور پر کیا تھا تاہم زخمی ہونے کے بعد وہ سائیکلنگ سے وابستہ ہو گئے۔سائيکلسٹ محمد عاشق نے ٹوکیو اور روم میں منعقد ہونے والے اولمپک مقابلوں میں حصہ لیا تھا لیکن کوئی تمغہ حاصل نہیں کر پائے تھے۔

غربت کی وجہ سے انھیں 85 سال کی عمر میں رکشہ چلانا پڑ رہا ہے۔ فیصل بھٹی نے مزید کہا ’ہم محمد عاشق کو ہر ایک یا دو ہفتے بعد اپنے دفتر آنے کی دعوت دیا کریں گے جہاں وہ کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والے ہمارے نوجوان ملازمین کے سامنے ترغیبی تقریریں کیا کریں گے اور ہمیں کھیلوں سے متعلق مشورے دیے کریں گے۔‘محمد عاشق نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اعزاز سے ’خوش‘ ہیں لیکن اب تک انھیں اپنے نئے کردار کے بارے میں زیادہ تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔انھوں نے کہا ’کمپنی نے میرے لیے ایک ایمپلائی کارڈ بنوایا ہے اور مجھے 12 اگست کو مجھےدفتر میں جشن آزادی کی تقریب میں شرکت کرنے کی دعوت دی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا ’اگر کمپنی مجھے تنخواہ دیتی ہے اور گھر کا قرضہ ادا کرنے میں مدد کرتی ہے تو انھیں رکشہ چلانے کی ضرورت نہیں رہے گی؟ بی بی سی اردو کے ساتھ ہونے والے ایک حالیہ انٹرویو میں محمد عاشق نے کہا تھا وہ ’اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کر کے خود کو انتہائی خوش قسمت‘ سمجھتے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’مجھے یاد ہے کہ میں نے سابق وزرائے اعظم اور صدور سے مصافحہ کیا تھا۔ ایک بار جنرل ایوب نے مجھے سائیکلنگ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ میرا بدن پسینے سے بھیگا ہوا تھا لیکن پھر بھی انھوں نے مجھے گلے لگایا اور تعریف کرتے ہوئے کہا ’یار تم انسان ہو کہ لوہا؟‘ اس وقت عاشق لاہور میں رکشہ چلا کر گزارا کرتے ہیں۔ ان کے رکشے پر جو پوسٹر لگے ہیں اس میں ان کے کھیلوں کی دنیا میں خدمات کا ذکر اور پاکستان کی حکومت سے ناراضی کا اظہار بھی شامل ہے ۔ واضح رہے کہ برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں پانچ اگست سے اولمپکس مقابلے جاری ہیں۔ اس بار ان مقابلوں میں پاکستان کا سات رکنی دستہ شریک ہے اور یہ تمام کھلاڑی وائلڈ کارڈ یا براعظمی کوٹے کی بنیاد پر اولمپکس میں پہنچے ہیں۔ اس مرتبہ پاکستان کی ہاکی ٹیم سمیت کوئی بھی پاکستانی اولمپکس کے لیے باقاعدہ کوالیفائی نہیں کر سکا ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں