پاناما کیس کا فیصلہ جلد سنائیں، عمران خان کی سپریم کورٹ سے درخواست

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سپریم کورٹ کے ججز سے درخواست کی ہے کہ وہ پاناما کیس کا فیصلہ جلد سنائیں تاکہ ملک آگے بڑھے۔
خیال رہے کہ جے آئی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد مسلسل پانچ روز تک سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
دو روز قبل ہی سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے لندن میں فلیٹ کی فروخت اور بنی گالہ میں خریدی گئی اراضی سے متعلق جمع کروائی گئی منی ٹریل پر سوال اُٹھایا تھا کہ اس میں جمع کرائی گئی دستاویزات کی تصدیق کہاں سے کی جائے گی کیونکہ بہت سے بینک اب بند ہوچکے ہیں۔
میرا اور ان کا کیس
بدھ کو اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور تاثر دیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف اور عمران خان کے خلاف ایک ہی جیسا کیس ہے۔
انھوں نے وزیراعظم نواز شریف کے حوالے سے کہا کہ ‘انھوں نے سپریم کورٹ میں جھوٹ بولا، جعلی دستاویزات دیں اور اب یہ تاثر دیے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ میرا اور ان کا ایک ہی کیس ہے۔’
عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بنی گالہ کی اراضی کے لیے پاکستان میں پیسہ لایا اور بینک کے ذریعے لایا گیا اس کی دستاویزات سپریم کورٹ میں موجود ہیں جبکہ شریف خاندان اپنے کیس میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔
انھوں نے صحافیوں کو سپریم کورٹ میں جمع کروائی جانے والی دستاویزات دکھائیں اور کہا کہ میڈیا میں ان کے حوالے سے غلط پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ‘سنہ 1984 میں فلیٹ لیا، کیری پیٹر کا لیٹر دیا ہے۔ ڈائریکٹر ورلڈ سیریز آسٹن رابرٹس نے دیا ہے جو اب بھی زندہ ہیں اور 25000 ڈالر سالانہ کا کنٹریکٹ تھا جو 50 کرکٹرز کا سٹینڈرڈ کنٹریکٹ تھا۔‘
انھوں نے دیگر کنٹریکٹس کی تفصیلات بھی بتائیں اور کہا کہ ان کے پاس پیسہ کہاں سے آیا وہ بتا چکے ہیں۔
‘ ٹوٹل تین لاکھ پاؤنڈ تھا، فلیٹ ایک لاکھ سترہ ہزار پاؤنڈ کا تھا، پیسہ دکھانا تھا کہ کتنا تھا تو میں نے دکھا دیا کون کہتا ہے کہ منی ٹریل نہیں ہے۔’
پی پی پی

عمران خان نے کہا کہ ان کی کوئی جائیداد بے نامی کی نہیں اور نہ ہی کوئی پیسہ بیرون ملک ہے۔
اگر میں نااہل ہوا تو ۔۔۔۔
عمران خان نے کہا کہ انھوں نے 40 سال پرانی منی ٹریل دے دی ہے۔
’اگر کسی بھی الزام میں نااہل ہو گیا تو یہ بہت چھوٹی قیمت ہے بڑے مافیا سے اس ملک کو نجات دلوانے کے لیے۔’
یاد رہے کہ عمران خان کی طرف سے اثاثے چھپانے اور پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں حکمراں جماعت کے رہنما حنیف عباسی کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم وزیراعظم نواز سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں تاہم وزیراعظم نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ کسی صورت مستعفی نہیں ہوں گے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں