نواز شریف کی جگہ کون لے سکتا ہے؟

شریف خاندان کے خلاف معلوم ذرائع سے زیادہ جائیداد رکھنے کے مقدمے کے انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے اندر مستقبل کی حکمت عملی پر اہم فیصلے کیے جا چکے ہیں۔
بظاہر تو مسلم لیگی رہنما وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف فیصلے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے ان کے متبادل کے بارے میں مشاورت کی تردید کرتے ہیں لیکن بعض اہم مسلم لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند روز کے دوران جماعت کی اعلیٰ قیادت کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کرتی رہی ہے۔
ان لیگی ذرائع کے مطابق نواز شریف کی ممکنہ نااہلی کی صورت میں مسلم لیگ اور حکومت کی قیادت کس کے سپرد کی جائیگی اس بارے میں حکمران خاندان اور جماعت کے بعض اہم رہنماؤں نے بعض نام طے کر رکھے ہیں جن کا اعلان صرف ضرورت پڑنے پر ہی کیا جائے گا۔
پاکستان میں حکمران جماعت کے نام پر غور کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اس کے سربراہ نواز شریف لازم و ملزوم ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ جس الیکشن کمیشن کے پاس یہ جماعت رجسٹرڈ ہے اس کے قواعد کے مطابق جرم ثابت ہونے کی صورت میں نواز شریف وزارت عظمیٰ سے تو الگ ہو ہی جائیں گے، انھیں پارٹی صدارت سے بھی ہاتھ دھونا ہوں گے۔
ایسے میں حکمران جماعت کو ان دونوں کلیدی عہدوں پر نئی تعیناتیاں کرنی ہوں گی۔ مسلم لیگ تنظیمی لحاظ سے جتنی بڑی جماعت ہے، ان عہدوں کے لیے افراد کے چناؤ کا معاملہ ہو تو یہ سکڑ کر پانچ سات لوگوں تک محدود ہو جاتی ہے۔

شہباز شریف
شریف خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ میں جہاں اپنے والد کے کاروباری معاملات میں غیرشفافیت کے باعث میاں نواز شریف کو قانونی کاروائی کا سامنا ہے وہیں ان کے بھائی شہباز شریف اس سارے معاملے میں صاف بچ نکلے ہیں۔
گو کہ اس بارے میں کھل کر بات تو نہیں ہو رہی لیکن اس حقیقت کی دبی دبی گونج اسلام آباد کے وزیراعظم ہاؤس میں آج کل اکثر سنائی دے جاتی ہے۔
یہ بات عام لوگوں کے لیے شاید حیرانی کا باعث ہو لیکن مسلم لیگ میں یہ تاثر عام ہے کہ شہباز شریف کے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے بڑے بھائی کے مقابلے میں بہت اچھے تعلقات ہیں۔
مسلم لیگ کے رہنماؤں میں یہ بات عام ہے کہ پرویز مشرف نے شہباز شریف کو وزیراعظم بننے کی پیشکش کی، اس کے بعد راحیل شریف سے بھی ان کی ’بات چیت‘ چلتی رہی اور اب جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ان کے براہِ راست مراسم ہیں۔
لیکن یہ تعلقات دو دھاری تلوار ہیں۔ نواز شریف کیوں ایسے آدمی کو اپنا سب کچھ سپرد کر دیں گے جو ان لوگوں کے ساتھ بہترین تعلقات رکھتا ہے جنھیں نواز شریف اپنے مصائب کی وجہ سمجھتے ہیں؟
لیکن پھر یہ بھی ہے کہ ماضی میں شہباز شریف بھائی کی جگہ ان کی مرضی کے بغیر وزیراعظم بننے کی پیشکش ٹھکراتے رہے ہیں اور اس لیے ان کی وفاداری پر شک کی گنجائش بھی نہیں ہے۔
شریف خاندان کے خانگی معاملات کی خبر رکھنے والے سینیئر صحافی سلمان غنی کہتے ہیں گو کہ نواز شریف اپنی بیٹی کو اپنے سیاسی جانشین کے طور پر تیار کر رہے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں شہباز شریف ہی نواز شریف کے فوری اور عارضی جانشین کے طور پر مضبوط ترین امیدوار ہیں۔
لیکن یہاں ایک تکنیکی مسئلہ ہے۔ شہباز شریف قومی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں اس لیے وہ فوری طور پر وزیراعظم بننے کے اہل نہیں ہیں۔ ایسے میں وہ دوسری آسامی، یعنی پارٹی کی سربراہی کے لیے خاصے اہم ہیں۔

اسحاق ڈار

وزیر خزانہ اسحاق ڈار موجود حکومت میں عملاً نائب وزیراعظم ہیں۔
کابینہ کے بیشتر ارکان کسی نہ کسی موقع پر نواز شریف سے اسحاق ڈار کی جانب سے اپنی وزارت کے معاملات میں مداخلت یا اس کے کاموں میں رکاوٹ کی شکایت کر چکے ہیں۔
اس کی سب سے بڑی وجہ اسحاق ڈار کی نواز شریف سے قربت ہے۔ سمدھی ہونے کے ناتے انہیں نواز شریف کے گھریلو معاملات میں بھی قربت کا ’شرف‘ حاصل ہے۔
نواز شریف اپنی تمام کامیابیوں میں اسحاق ڈار کو حصہ دار مانتے ہیں۔ جس قدر اعتماد اور قربت اسحاق ڈار کو حاصل ہے، اس کے پیش نظر حکمران جماعت کے لوگ انھیں نواز شریف کے عبوری جانشین کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
لیکن مسئلہ یہاں بھی وہی ہے کہ وہ رکن قومی اسمبلی نہیں ہیں تاہم اس کے باوجود پارٹی سربراہ تو بن ہی سکتے ہیں۔

وفاقی وزرا

خواجہ محمد آصف، رانا تنویر، شاہد خاقان عباسی اور شیخ آفتاب ایسے وزرا ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم ان کے بارے میں خاصا نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
وجہ اس کی کچھ بھی ہو مبصرین کے مطابق اگر نواز شریف پر ایسا وقت آتا ہے کہ انہیں وزیراعظم ہاؤس کے بجائے رائے ونڈ سے بیٹھ کر سیاست اور حکومت میں اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے تو انہیں وزیراعظم ہاؤس میں ان کے علاوہ کوئی پانچواں سوٹ نہیں کرتا۔
رانا تنویر اور شیخ آفتاب چوہدری نثار کے بعد سینیئر ترین جبکہ خواجہ آصف اور شاہد خاقان وزیراعظم کے قریب ترین ہیں۔

ایاز صادق

قومی اسمبلی کے سپیکر کے عہدے کے لیے ایاز صادق کا انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہی نواز شریف کے معتمدین میں شامل رہے ہیں۔
وہ ارکان اسمبلی میں خاصا اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں اور جوڑ توڑ کے ماہر بھی ہیں۔
سپیکر کے عہدے کے باوجود وہ نواز شریف سے وفاداری کا مظاہرہ قومی اسمبلی کے اندر بھی کرنے سے کبھی نہیں گھبرائے اور اس بنا پر حزب اختلاف کی تنقید کا نشانہ بھی بن چکے ہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں