شعلہ ہوں بھڑکنے کی گزارش نہیں کرتا

شعلہ ہوں بھڑکنے کی گزارش نہیں کرتا

سچ منہ سے نکل جاتا ہے کوشش نہیں کرتا

گرتی ہوئی دیوار کا ہمدرد ہوں لیکن

چڑھتے ہوئے سورج کی پرستش نہیں کرتا

رہتا ہوں فقیروں کی دعاؤں کا طلبگار

شاہوں سے تمناء ستائش نہیں کرتا

ماتھے کے پسینے کی مہک آئے نہ جس سے

وہ خون میرے جسم میں گردش نہیں کرتا

لہروں سے لڑا کرتا ہوں میں دریا میں اتر کر

ساحل پہ کھڑے ہو کے سازش نہیں کرتا

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں