پوچھ اس سے کہ مقبول از شاعر مشرق علامہ اقبال

پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی
تو صاحبِ منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہی

کافر ہے مسلماں، تو نہ شاہی، نہ فقیری
مومن ہے تو کرتا ہے فقیری میں بھی شاہی

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

کافر ہے تو ہے تابعِ تقدیر مسلماں
مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیرِ الہٰی

میں نے تو کیا پردئہ اسرار کو بھی چاک
دیرینہ ہے تیرا مرضِ کور نگاہی

علامہ محمد اقبال

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں