یونس کی محنت کام آگئی

بڑھتی عمر، آؤٹ آف فارم کھلاڑی اور چھ سال پرانی تلخ یادیں، یہ وہ چند مسائل تھے جن کا مصباح الحق کو سامنا تھا، لیکن اس کا جواب انھوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ بولروں کی وکٹوں اور یونس خان کے رنز سے دیا۔

ایجبیسٹن میں جو چہرے اداس تھے ان پر اوول میں خوشی کے جذبات نمایاں تھے۔

جنھوں نے مصباح کی ریٹائرمنٹ کی باتیں کیں وہی آج چاہتے ہیں کہ مصباح آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ٹور پر بھی کپتان ہوں۔

اوول کی جیت میں ڈرامہ تھا، سسپنس تھا اور آخر میں خوشی بھی اور اس سب کے بیچ تجربے کا ساتھ دیا، جوانی اور صلاحیت کے ملاپ نے یعنی وہاب، عامر، یاسر، اسد شفیق، اظہر علی ہر پاکستانی کھلاڑی اس میچ میں یونس اور مصباح کا ساتھ دیتے نظر آئے۔

اوول کی جیت کو یونس خان کے نام کرنا غلط نہ ہوگا۔

اس میچ سے پہلے یونس کی کارکردگی اور ان کے کریئر پر کئی سوال اٹھے لیکن مکی آرتھر سے لے کر عثمان سمیع الدین تک سب نے یہی کہا تھا کہ وہ جتنے بڑے کھلاڑی ہیں انھیں فارم میں آنے کے لیے صرف ایک اننگز درکار ہے۔

ایک بڑے اور تجربہ کار کھلاڑی کی حیثیت سے جب سیریز کی شروعات میں وہ سکور نہیں کر رہے تھے تو ساتھی کھلاڑی شاید متعجب ضرور ہوئے ہوں کہ مصباح کب تک یونس پر انحصار کریں گے، لیکن یہ وہ لمحہ ہے جس نے ثابت کیا کہ تجربہ صلاحیت سے ذرا آگے کی چیز ہے۔

یونس نے ایک ہی اننگز میں وہ کیا جو صرف تجربہ اور بڑا کھلاڑی ہی کر سکتا ہے، وہ نہ صرف فارم میں واپس آئے بلکہ انھوں نے پاکستان کو میچ جیتنے اور ساتھ ہی سیریز بھی برابر کرنے کا موقع بھی دیا۔

وہ اننگز کی شروعات سے ہی آپ کو ایک الگ بیٹسمین نظر آئے۔ نہ ہی کوئی چھلانگ مار کر شارٹ روکنے کی کوشش اور نہ ہی پھدک کر چوکا مارنے کا سٹنٹ۔

اس وقت کریز پر جو بیٹسمین کھڑا تھا وہ ہر زاویے سے ایک لیجنڈ لگ رہا تھا، یہ تھی واپسی، یونس خان کی۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں