پاکستان نے انگلینڈ کو نو وکٹوں سے شکست دے دی

پاکستان اور انگلینڈ کے مابین اولڈ ٹریفورڈ کےمیدان پر کھیلے جانے والے واحد ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان نے انگلینڈ کو نو وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔

انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 135 رنز سکور کیے۔

جواب میں پاکستان نے مقررہ ہدف 14.5 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

شرجیل اور لطیف کی شراکت انگلینڈ کے خلاف سب سے زیادہ شراکت ہے۔ اس سے قبل مصباح الحق اور شعیب ملک نے 2012 میں انگلینڈ کے خلاف 71 رنز کی شراکت کی تھی۔

دوسری جانب اولڈ ٹریفورڈ میں 100 رنز کی پہلی شراکت بھی خالد لطیف اور شرجیل نے کی ہے۔

خالد لطیف نے 36 گیندوں میں سات چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کی۔

انگلینڈ کو 12 اوور میں پہلی کامیابی ملی جب شرجیل 36 گیندوں میں 59 رنز بنا کر راشد کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ شرجیل نے سات چوکے اور تین چھکے مارے۔

اس سے قبل انگلینڈ کی جانب سے جیسن روئے ہیلز نے جارحانہ کھیل پیش کیا۔ لیکن ساتویں اوور میں عماد نے پاکستان کامیابی دلوائی جب انھوں نے جیسن روئے کو ایل بی ڈبلیو کیا۔ جیسن روئے 20 رنز سکور کر کے آؤٹ ہوئے۔

انگلینڈ کی جانب سے صرف ہیلز ہی عمدہ کھیل پیش کر سکے۔

پاکستان کی جانب سے عماد نے ہی دوسری وکٹ لی اور جارحانہ کھیل کھیلنے والے ہیلز کو 37 کے انفرادی سکور پر بولڈ کیا۔

پاکستان کو 10 ویں اوور کی پہلی گیند پر تیسری کامیابی ملی جو روٹ حسن علی کی گیند پر چھ رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

14 ویں اوور کی پہلی گیند پر وہاب ریاض کی گیند پر بٹلر 16 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے۔

15 ویں اوور میں حسن علی نے سٹوکس کو آؤٹ کیا۔ سٹوکس صرف چار رنز سکور کر سکے۔

پاکستان کو 17 ویں اوور میں وہاب ریاض نے ایک اور کامیابی دلوائی۔ انھوں نے مورگن کو 14 رنز پر آؤٹ کیا۔

آخری اوور میں وہاب نے اپنی تیسری وکٹ لی جب انھوں نے وِلی کو 12 رنز پر آؤٹ کیا۔

عماد وسیم جنھوں نے پاکستان کی جانب سے پہلا اوور کرایا فیلڈ سے باہر چلے گئے ہیں۔ سہیل تنویر کی گیند پر ہیلز کی شاٹ کو روکنے میں عماد کے سر پر گیند لگی تھی۔

اولڈ ٹریفورڈ میں ٹی ٹوئنٹی میں سب سے زیادہ سکور 191 ہے جو انگلینڈ نے جون 2015 میں نیوزی لینڈ کے خلاف کیا تھا۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان موجودہ سیریز کے درمیان پانچ ایک روزہ اور چار ٹیسٹ میچ کھیلے گئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ٹیسٹ سیریز دو دو میچوں سے برابر رہی جبکہ ایک روزہ میچوں میں پاکستان کو ایک کے مقابلے میں چار میچوں سے شکست ہوئی۔

دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ سال نومبر میں متحدہ عرب امارات میں تین ایک روزہ میچ کھیلے گئے تھے جس میں انگلینڈ نے تین میچوں میں کامیابی حاصل کر کے کلین سوئپ کیا تھا۔

اس سیریز کا آخری میچ سپر اوور کے مرحلے میں پہنچا تھا جس میں انگلینڈ کی طرف سے کرس جارڈن نے بالنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

پاکستان کے کپتان سرفراز نے انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ سیریز کے پانچ میچوں میں 300 رنز سکور کیے اور اس سیریز میں اپنی ٹیم کی طرف سے سب سے زیادہ سکور کرنے والے بلے باز رہے۔ انھوں نے آخری میں میچ 73 گیندوں پر 90 رن سکور کرکے اپنے ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انتیس سالہ سرفراز نے کہا کہ وہ انگلینڈ کی ٹیم سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی ٹیم جو جارحانہ کرکٹ کھیلنے کو کہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان بھی انگلینڈ اور آسٹریلیا کی طرح نوجوان اور جارحانہ کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں سے ایک نئی ٹیم بنانے کی کوشش میں ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں