پاکستان دوسرے ون ڈے میں بھی کامیاب، کلین سویپ پر نظریں

بابراعظم کی لگاتار دوسری سنچری نے پاکستان کو شارجہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں 59 رنز سے کامیابی دلا دی۔

اس جیت کے بعد پاکستان نے تین میچوں کی سیریز میں دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ہے اور اگر پانچ اکتوبر کو اس نے ابوظہبی میں تیسرا اور آخری ون ڈے انٹرنیشنل بھی جیت کر کلین سویپ کردیا تو اس کی عالمی رینکنگ نو سے بہتر ہو کر آٹھ ہوجائے گی۔

پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پچاس اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 337 رنز بنائے جو ون ڈے انٹرنیشنل میں اس کا ویسٹ انڈیز کے خلاف سب سے بڑا سکور بھی ہے۔

اس سے قبل پاکستان کا ویسٹ انڈیز کے خلاف سب سے بڑا سکور آٹھ وکٹوں پر 307 رنز تھا جو اس نے فروری 2005 میں پرتھ میں بنایا تھا۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان کی غیرمعیاری فیلڈنگ کے باوجود سات وکٹوں پر 278 رنز بنانے میں کامیاب ہوسکی۔

پاکستانی اننگز میں کپتان اظہرعلی ایک بار پھر تگ ودو کرتے دکھائی دیے۔ وہ صرف 9 رنز بنا کر اپنے ہم منصب جیسن ہولڈر کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے اور اننگز کا واحد ریویو بھی ضائع کرگئے۔

اظہرعلی گذشتہ میچ میں صفر پر آؤٹ ہوئے تھے۔ اس طرح آخری دس ون ڈے اننگز میں وہ صرف دو نصف سنچریاں سکور کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں جو انھوں نے انگلینڈ کے خلاف ساؤتھمپٹن میں 82 اور ہیڈنگلے میں 80 رنز کی صورت میں بنائی تھیں۔

شرجیل خان نے ایک بار پھر دھواں دار انداز میں اننگز کی ابتدا کی لیکن اپنی اننگز کو بڑے سکور میں تبدیل کرنے سے پہلے ہی 24 رنز بنا کر جوزف کی ون ڈے میں پہلی وکٹ بن گئے۔

تین گیندوں میں دو وکٹیں گنوانے کے بعد بابر اعظم اور شعیب ملک نے اعتماد سے بیٹنگ کرتے ہوئے تیسری وکٹ کی شراکت میں 169 رنز کا اضافہ کیا۔

شعیب ملک صرف دس رنز کی کمی سے اپنی نویں سنچری مکمل نہ کر سکے اور سنیل نارائن کی گیند پر براوو کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوگئے۔

شعیب ملک نے صرف چوراسی گیندوں کا سامنا کیا اور ان کی اننگز میں تین چوکے اور چھ چھکے شامل تھے جن میں سے تین انھوں نے سلیمان بین کی لگاتار گیندوں پر لگائے۔

بابراعظم نو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 123 رنز بنا کر جوزف کی دوسری وکٹ بنے۔

بابراعظم اور سرفراز احمد نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں 73 رنز کا اضافہ کیا۔ سرفراز احمد کی جارحانہ بیٹنگ سکور بورڈ پر تین سو کے ہندسے چمکانے کا سبب بنی۔

انھوں نے صرف 47 گیندوں پر 60 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے جس میں سات چوکے شامل تھے۔

پاکستانی بیٹسمینوں نے آخری دس اوورز میں 97 رنز کا اضافہ کیا۔ اس کوشش میں بابراعظم اور عماد وسیم کی وکٹیں گریں۔

ویسٹ انڈیز کی اننگز کے دوسرے ہی اوور میں جانسن چارلس کی وکٹ گرنے کے بعد کریگ بریتھ ویٹ 39 اور پھر ڈیرن براوو تین چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے 61 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے۔

ان دونوں نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 89 رنز کا اضافہ کیا جس کے بعد مارلن سیمیولز نے چار چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے57 رنز سکور کیے لیکن ویسٹ انڈیز کی ٹیم کسی بڑی انفرادی اننگز اور شراکت کے بغیر اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔

پاکستان کی طرف سے وہاب ریاض دو وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے اور اب انھیں ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنی وکٹوں کی سنچری مکمل کرنے کے لیے دو ہی وکٹیں درکار ہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں