والد کا میڈل حوصلہ بڑھانے کا سبب بنا

پاکستان کے اولمپیئن باکسر حسین شاہ کے بیٹے شاہ حسین شاہ ریو اولمپکس میں تمغہ جیت کر پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

حسین شاہ نے سنہ 1988 میں سیول اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا اور وہ اولمپکس مقابلوں میں انفرادی کھیلوں میں تمغہ جیتنے والے آخری پاکستانی کھلاڑی ہیں۔

22 سالہ شاہ حسین شاہ جوڈو کے کھلاڑی ہیں اور انھوں نے براعظمی کوٹے کی بنیاد پر اولمپکس کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔

ان مقابلوں میں ان کی شرکت پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عارف حسن کی ذاتی کوششوں کی وجہ سے ممکن ہو سکی کیونکہ پاکستان جوڈو فیڈریشن نے شاہ حسین شاہ کی انٹری بھیجنے سے ہی انکار کر دیا تھا۔

سنہ 2016 کے گرمائی اولمپکس برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں پانچ سے 27 اگست تک منعقد ہو رہے ہیں۔

ریو ڈی جنیرو روانگی سے قبل ٹوکیو سے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں شاہ حسین شاہ نے کہا کہ انھوں نے اولمپکس کے لیے بھرپور تیاری کی ہے اور انھیں اچھے نتائج کی امید ہے۔

شاہ حسین شاہ کو جاپانی کوچز کے ساتھ تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا ہے اور اس بار ان کی توجہ خاص کر سٹیمنا پر ہے۔

’میں نے سٹیمنا پر بہت توجہ دی ہے تاکہ میں زیادہ سے زیادہ وقت مقابلہ کرسکوں اور تھکاوٹ کا شکار نہ ہوں۔ جب آپ کا سٹیمنا بہتر ہوتا ہے تو آپ ذہنی طور پر بھی مضبوط ہوتے ہیں۔ اب میں خود کو پہلے سے زیادہ فٹ محسوس کرتا ہوں۔ میں نے سخت سے سخت مقابلے کا سامنا کرنے کے لیے سخت ٹریننگ کی ہے۔‘

شاہ حسین شاہ کے لیے ان کے والد کا اولمپک میڈل ہمیشہ سے حوصلہ بڑھانے کا سبب بنا ہے۔

’میرے والد کا یہ میڈل میرے لیے بہت کچھ ہے۔ میں جب چھوٹا تھا تو سوچا کرتا تھا کہ ان کی طرح اولمپکس میں جا کر جیتنا میرے لیے ممکن نہ ہوگا لیکن جب میں بڑا ہوا اور ہائی سکول اور یونیورسٹی میں آیا تو میرے اندر اپنے والد کی طرح کامیابی کا جذبہ بڑھتا چلا گیا۔‘

دو سال قبل گلاسگو میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے شاہ حسین شاہ نے بتایا کہ ’مجھے اس وقت کامن ویلتھ گیمز کے بارے میں یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ کتنے بڑے مقابلے ہیں۔ اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں زیادہ سخت ٹریننگ کرتا۔ میں ان مقابلوں میں گولڈ میڈل جیت سکتا تھا لیکن اب مجھے یہ معلوم ہے کہ اولمپکس کی کیا اہمیت ہوتی ہے اور میں نے ٹریننگ کے لیے دن رات ایک کر دیے ہیں۔‘

شاہ حسین شاہ خود پر یہ دباؤ محسوس نہیں کرتے کہ ان کے والد نے میڈل جیتا تو ان کے لیے بھی تمغہ جیتنا لازمی ہے۔

’مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ میری سخت ٹریننگ نے سب ڈر، خوف دل سے نکال دیا ہے۔ میری تیاری مکمل ہے اور میں مقابلے کا انتظار کر رہا ہوں۔‘

جوڈو کا کھیل اپنانے کی وجہ بتاتے ہوئے شاہ حسین کا کہنا تھا کہ یہ کھیل دوسروں کی عزت کرنا سکھاتا ہے۔

’جوڈو جاپان کا قومی کھیل ہے۔ یہاں کراٹے بھی مقبول ہے اور ریسلنگ بھی لیکن میرے والدین نے مجھے جوڈو اپنانے کا مشورہ دیا۔ اس کھیل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ سب کو ایک دوسرے کی عزت کرنا سکھاتا ہے۔ انسان میں ڈسپلن پیدا ہوتا ہے، یہی ہمارے مذہب کی تعلیم بھی ہے اسی لیے مجھے یہ کھیل پسند ہے۔‘

شاہ حسین شاہ ابھی سے 2020 کے اولمپکس پر نظریں لگائے ہوئے ہیں جو ان کے شہر ٹوکیو میں منعقد ہوں گے۔

’جوڈو میں جوڈوکا، کا کریئر 30، 31 سال کی عمر میں ختم ہوجاتا ہے۔ 27، 28 سال کی عمر میں اس کا کریئر اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ ٹوکیو اولمپکس کے وقت میری عمر 27 سال ہوگی اور میں اپنے کریئر کے عروج پر ہوں گا۔‘

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں