باکسرز کی مایوسی وقت کے ساتھ بڑھی ہے

بی بی سی اردو

پاکستان ہاکی کے علاوہ اولمپکس کے جن کھیلوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتا رہا ہے ان میں ایتھلیٹکس اور باکسنگ قابل ذکر ہیں۔

ہاکی میں پاکستان کی شرکت 16 اولمپکس میں رہی ہے، ایتھلیٹکس میں پاکستان 15 مرتبہ شریک ہو چکا ہے جب کہ باکسنگ میں شرکت 14 بار ہو چکی ہے تاہم ایتھلیٹکس کی اس گنتی میں وائلڈ کارڈ انٹری کا عمل دخل زیادہ کار فرما رہا اس کے برعکس باکسنگ میں پاکستان باقاعدہ کوالیفائی کرکے اولمپکس تک پہنچتا رہا ہے۔

یہ تمام باتیں اب ماضی کا حصہ بن چکی ہیں کیونکہ پاکستان اب اولمپکس کے ہاکی اور باکسنگ مقابلوں سے غائب ہے۔

پاکستان اپنی تاریخ میں پہلی بار اولمپکس کے ہاکی مقابلوں میں شرکت سے محروم ہو چکا ہے لیکن اولمپکس کے باکسنگ مقابلوں سے پاکستان کا ناتا ٹوٹے ہوئے آٹھ سال ہو چکے ہیں مطلب یہ کہ بیجنگ اور لندن کے بعد ریو ڈی جنیرو تیسرے اولمپکس ہیں جن میں پاکستانی باکسرز نظر نہیں آ رہے ہیں۔

سنہ 1998 کے سیول اولمپکس کے بعد جب اولمپک باکسنگ تک رسائی کے لیے کوالیفائنگ مقابلوں کا طریقۂ کار اختیار کیا گیا تو اس میں بھی پاکستانی باکسرز مختلف بین الاقوامی ایونٹس میں کامیابیاں حاصل کر کے اولمپکس میں اپنی شرکت کو یقینی بناتے رہے۔

لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستانی باکسرز کو حکومت اور کھیلوں کے اربابِ اختیار کی جانب سے کبھی بھی وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کے وہ حقدار تھے۔

اس صورتِ حال سے مایوس ہو کر متعدد باکسرز نے بہتر مستقبل کی خاطر ملک ہی چھوڑ دیا جن میں اولمپک میڈلسٹ حسین شاہ، کامن ویلتھ گیمز گولڈ میڈلسٹ حیدر علی، عثمان اللہ اور عبدالرشید بلوچ شامل ہیں۔

حال ہی میں ورلڈ باکسنگ کونسل کا سلور فلائی ویٹ ٹائٹل جیتنے والے محمد وسیم کی کہانی بھی مختلف نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب وہ پاکستان میں رہ کر امیچر باکسنگ میں حصہ لے رہے تھے تو انھیں پاکستان باکسنگ فیڈریشن کوئی بھی سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔

’میں یہ کہہ کہہ کر تھک گیا ہوں کہ مجھے ٹریننگ کے لیے کیوبا روس یا کسی ایسے ملک بھیجا جائے جہاں باکسنگ کا معیار بہت بلند ہے لیکن مجھ سے جھوٹ بولا جاتا رہا لہذا میرے پاس کوئی اور راستہ نہ تھا کہ میں بہتر مستقبل کے لیے پروفیشنل باکسنگ کو اپنا لوں۔

آج جب محمد وسیم پروفیشنل چیمپیئن بن گئے ہیں تو حکومتی وزیر اور پاکستان سپورٹس بورڈ کے اربابِ اختیار ان کے چیمپیئن شپ بیلٹ کے ساتھ ایسے تصاویر بنوا رہے ہیں جیسے یہ ٹائٹل انھوں نے جیتا ہو۔

پاکستان باکسنگ فیڈریشن کی باگ ڈور جب تک پروفیسر انور چوہدری کے پاس رہی پاکستان میں بین الاقوامی مقابلے بھی ہوتے رہے اور پاکستانی باکسرز نہ صرف بیرون ملک باکسنگ مقابلوں میں حصہ لیتے رہے بلکہ پروفیسر انورچوہدری اپنے ذاتی تعلقات کے سبب پاکستانی باکسرز کے لیے کیوبا کے کوچز کی خدمات بھی حاصل کرتے رہے۔

ان کے دور میں پاکستانی باکسرز ٹریننگ کے لیے باقاعدگی سے ملک سے باہر بھی جاتے تھے حالانکہ پروفیسر انورچوہدری کو بھی پاکستان سپورٹس بورڈ اور حکومت کی جانب سے باکسنگ کو نظر انداز کیے جانے کی شکایت رہی لیکن ان کے ہوتے ہوئے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت اور ٹریننگ کا سلسلہ کبھی نہیں رکا۔

آج یہ حال ہے کہ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کہیں نظر نہیں آ رہی اور پاکستان سپورٹس بورڈ کے اربابِ اختیار کو ملک میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہی سے بچانے ٹریننگ اور کوچنگ کی اپنی ذمہ داریوں کی بجائے غیر ملکی دوروں کی زیادہ فکر ہے۔

پاکستان میں زیادہ تر باکسرز لیاری کے علاقے سے سامنے آتے ہیں۔ آج بھی اس علاقے کے نوجوانوں میں باکسنگ کا شوق پہلے کی طرح موجود ہے کیونکہ یہ کھیل نسل در نسل چلا آ رہا ہے لیکن مایوسی بھی پہلے کی طرح موجود ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ چکی ہے۔

آج لیاری میں کچھ سابق باکسرز نے اپنے طور پر باکسنگ کلب قائم کر رکھے ہیں لیکن وسائل کی کمی کے سبب وہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

ماضی میں مختلف اداروں میں باکسرز کو ملازمتیں بھی ملتی تھیں جس سے وہ اپنے گھر کی کفالت کر لیا کرتے تھے لیکن اب یہ سلسلہ بھی ختم ہوچکا ہے۔ کئی اداروں نے اپنے سپورٹس کے شعبے ہی ختم کردیے اور اگر کچھ اداروں میں سپورٹس کے شعبے موجود ہیں تو ان میں باکسنگ نہیں ہے۔

آج جب محمد وسیم پروفیشنل چیمپیئن بن گئے ہیں تو حکومتی وزیر اور پاکستان سپورٹس بورڈ کے اربابِ اختیار ان کے چیمپیئن شپ بیلٹ کے ساتھ ایسے تصاویر بنوا رہے ہیں جیسے یہ ٹائٹل انھوں نے جیتا ہو
آج جب محمد وسیم پروفیشنل چیمپیئن بن گئے ہیں تو حکومتی وزیر اور پاکستان سپورٹس بورڈ کے اربابِ اختیار ان کے چیمپیئن شپ بیلٹ کے ساتھ ایسے تصاویر بنوا رہے ہیں جیسے یہ ٹائٹل انھوں نے جیتا ہوbo

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں