پاکستان کو پہلی بار کرکٹ عالمی چمپئن بنے 25 سال مکمل ہو گئے

کستان کو پہلی بار عالمی چمپئن بنے 25 سال مکمل ہو گئے ہیں ¾25 مارچ 1992 وہ خوش قسمت دن تھا جب پاکستان کرکٹ کا فاتح عالم بنا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کسی تقریب کا اہتمام نہیں کیا۔ عہدیداروں کے پیغامات کی ویڈیو فیس بک پر جاری کی گئی۔
چیئرمین پی سی بی شہریار خان اور نجم سیٹھی نے کہا کہ ورلڈ کپ میں جیت سے ساری قوم کو خوشی ملی، آج بھی ٹیم میں اسی جوش و جذبہ کی ضرورت ہے۔ قومی پرچم سربلند کرنےوالے کھلاڑیوں کو قوم آج بھی سلام پیش کرتی ہے۔
فاتح کپتان عمران خان نے کہا کہ ورلڈ کپ کے آغاز سے پہلے سعید انور اور وقار یونس ان فٹ تھے۔ جاوید میانداد اور میں بھی پوری طرح فٹ نہیں تھے مگر ٹیم کی فائٹنگ سپرٹ کی داد دینا ہوگی ۔
جاوید میانداد نے کہا کہ عالمی چمپئن بننا کسی بھی ملک کیلئے اعزاز کی بات ہے،ورلڈ کپ کی جیت قوم کے چہروں پر خوشی لے آئی تھی۔۔وسیم اکرم نے کہاکہ میرے لیے ورلڈ کپ کی یہ جیت کسی خواب کی تعبیر کی طرح تھی کہ ورلڈ کپ کے فائنل میں کوئی ایسی کارکردگی دکھاو¿ں جس سے کھیل کا نقشہ بدل جائے ۔ آج طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود کوئی بھی ان دو گیندوں کو نہیں بھلاسکا ۔
معین خان نے کہاکہ فائنل کا ٹرننگ پوائنٹ وسیم اکرم کی دو گیندوں پر ایلن لیمب اور کرس لوئس کی وکٹیں تھیں ۔انضمام الحق نے کہاکہ پچیس سال گزرنے کے باوجود ہر کوئی میری سیمی فائنل میں ساٹھ رنز کی بات کرتا ہے ۔ دراصل آپ کی زندگی کے کچھ پہلو، کچھ حصے ایسے ہوتے ہیں جنہیں نہ آپ بھول سکتے ہیں نہ لوگ۔رمیز راجہ نے کہاکہ اہم کھلاڑیوں کا ورلڈ کپ سے پہلے ہی ان فٹ ہوجانا اور پھر ایک کے بعد ایک میچ ہارنا، ایسے میں پاکستانی ٹیم کا ورلڈ کپ کا جیت جانا کسی معجزے سے کم نہ تھا ۔عاقب جاوید نے کہا کہ فائنل سے پہلے ہمارے ذہن بالکل واضح تھے۔ ہمیں یقین تھا کہ ہم ورلڈ کپ جیتیں گے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ گراہم گوچ کا کیچ لے کر میں جسطرح میدان میں خوشی سے دوڑا تھا وہ بیان سے باہر ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں